کوئی موڈ ہو تو بتائیں صاحب!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر سے نکلتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ کار کا اے سی کولنگ چھوڑ رہا تھا۔ پھر جب پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تو میں نے گاڑی کے شیشے کھول دیے۔ باہر سے گرم ہوا اندر آئی تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ دوپہر ایک بجے کا وقت تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ میں نے گاڑی کا رخ کھڈا مارکیٹ کی طرف موڑ دیا، سوچا کہ باقی کام بعد میں ہوتے رہیں گے پہلے اے سی کا کام ضروری ہے۔

”سر جی کام لمبا ہے، کم از کم چھ گھنٹے لگیں گے“ مکینک آفریدی نے پندرہ منٹ کے جائزے کے بعد مژدہ سنایا۔ ”اور رقم کتنی لگے گی؟ “ میں نے سوال کیا۔

”دس ہزار ذہن میں رکھیں“ آفریدی مسکرایا۔ ”اتنے ذہن کیا میری جیب میں بھی نہیں ہیں، مجھے اے ٹی ایم مشین تک جانا ہو گا“ میں نے منہ بنایا۔

”آپ گھوم پھر آئیں میں سات بجے تک کام مکمل کر کے آپ کو فون کر دوں گا“ آفریدی نے خوشگوار لہجے میں کہا۔

اب سات بجے تک فراغت تھی۔ کام تو کئی تھے مگر اس کے لئے گاڑی کا ہونا ضروری تھا۔ بہر حال ٹیکسی ہائرکر کے ایک دوست کی طرف چلا گیا۔ شام کو صدر بازار میں تھا۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادل امڈ آئے تھے۔ ہوا چل رہی تھی موسم کافی اچھا ہو گیا تھا۔ میں پیدل ہی مری روڈ پر رواں دواں تھا۔ چلتے چلتے میں سڑک پر آتے جاتے لوگوں کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ دور سے ایک کرولا گاڑی آتی دکھائی دی۔ اسے ایک لڑکی ڈرائیو کر رہی تھی۔ ایک نوجوان اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔

لڑکی خاصی خوش شکل تھی نوجوان بھی ہینڈسم تھا شاید اسی لئے انہوں نے میری توجہ حاصل کی تھی۔ اچانک نوجوان، لڑکی کی طرف جھکا اور لڑکی نے اس کے لبوں کو چوم لیا۔ ”اف! یہ نوجوان کیا کرتے ہیں، چلتی گاڑی میں ایسی حرکت کسی حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے“ میں نے سوچا۔ گاڑی میرے پاس سے گزر کر سڑک کے کنارے رک گئی تھی۔ پھر نوجوان اترا اور لڑکی نے ہاتھ ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔

اچھا تو یہ بات ہے، لگتا ہے یہ کوئی محبت کا سلسلہ ہے اور اب ملاقات کے بعد جدا ہو رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی کیا سمجھا سکتا ہے۔ میں آگے بڑھ گیا۔ سامنے ایک بس سٹاپ تھا جہاں سے پبلک ٹرانسپورٹ لی جا سکتی تھی۔ میں نے سوچا یہیں رک جانا چاہیے۔ مکینک کو فون کیا۔ ابھی کچھ دیر تھی۔ میں وہیں موجود بنچ پر بیٹھ گیا۔

اس سٹاپ پر کئی مرد اور عورتیں موجود تھیں۔ میں نے سوچا کچھ دیر یہاں بیٹھ کر سستا لیتا ہوں۔ میرے بائیں طرف سادہ سے شلوار قمیض میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر عورت بیٹھی تھی۔ اس کے ساتھ بڑی سی سیاہ چادر میں لپٹی ہوئی ایک لڑکی تھی۔ وہ شاید اس کی بیٹی تھی۔ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔

”ہر چیز کو آگ لگی ہے۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں“ عورت کی آواز سنائی دی۔ ”مایوس کیوں ہوتی ہو اماں، حالات بدل جائیں گے“ لڑکی بولی۔

”کب بدلیں گے، اس مہینے بجلی اور گیس کا بل بھی بہت زیادہ آیا ہے، کہاں سے دوں گی میں۔ “ عورت نے تلخی سے کہا۔

لڑکی اس دوران اپنے موبائل فون پر انگلیاں بھی چلا رہی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ ”تو میری باتوں پر ہنس رہی ہے؟ “ عورت نے غصے سے کہا۔

”اوہو ایک میسیج پڑھ کر ہنسی ہوں، تمہارے باتوں میں کوئی ہنسنے کی بات ہوتی ہے“ لڑکی بولی۔

”سن! تیرے پاس کچھ پیسے ہیں، تیرے ابا کی دوا بھی خریدنی ہے، وہ جب سے معذور ہوا ہے۔ دوا بھی تو مسلسل چل رہی ہے اور دوائیں کتنی مہنگی ہو گئی ہیں۔ “ عورت نے کہا۔

”نہیں نہیں میرے پاس صرف پانچ سو روپے ہیں اور وہ بھی میں نے موبائل کے پیکج کے لئے رکھے ہیں باقی رہی منگائی کی بات تو کس کس چیز کو روؤ گی، اب تو روٹی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ “ لڑکی جلدی سے بولی۔

میں ان کی باتیں غور سے سن رہا تھا میرے دل میں خیال آیا کہ ان کی کچھ مدد کر دوں۔ جیب میں ہاتھ ڈالنے ہی والا تھا کہ خیال آیا کہ کہیں یہ اس کا غلط مطلب نہ لے لیں۔ اس کے ساتھ جوان لڑکی ہے اور یہ پبلک پلیس ہے اگر اس نے کوئی ایسی ویسی بات کہہ دی تو بہت سبکی ہو گی۔ چناں چہ میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور وہاں سے اٹھ کر چل دیا۔

ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی میرے پیچھے چل رہا ہے۔ میں نے غیر محسوس طریقے سے مڑ کر دیکھا۔ وہ دونوں میرے پیچھے چل رہی تھیں۔ میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ آگے سڑک پر قدرے ویران جگہ تھی۔ اچانک وہ دونوں تیز تیز چلتے ہوئے میرے قریب آ گئیں۔

”سنئیے! “ عورت نے مجھے آواز دی۔ میں رک گیا۔ وہ میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئیں۔ ”مجھ سے کچھ کہنا ہے؟ “ میں نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

”آپ سے ہی پوچھنا تھا“ عورت بولی۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا۔ ”جی فرمائیے“

لڑکی نے اچانک اپنی چادر کھول دی۔ میرے سامنے انتہائی دلکش جسم کی لڑکی تھی جس کے چست کپڑوں میں جسم کے نشیب و فراز نمایاں ہو رہے تھے۔

”کوئی موڈ ہو تو بتائیں صاحب؟ “ اس عورت نے لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •