قائد اعظم کی گمشدہ انڈی پنڈنٹ پارٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایشیاء میں متحدہ ہندستان کی سیاسی تاریخ بہت غضب کی ہے، یہ خطہ کم و بیش 200 سال تک استعماری اجارہ داری کا شکار رہا۔ ایک کمپنی جو محض ہندستانی مصنوعات کو خریدنے کے لیے یہاں پہنچتی ہے وہ 1757 ء تک اپنے فوجی اڈے بنا لیتی ہے، چھاؤنیاں قائم کر لیتی ہے حتیٰ کہ جس صوبہ بنگال کو اورنگ زیب نے خوشحال ترین علاقہ ڈکلیئر کر رکھا تھا اس پر کمپنی کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ آئندہ 100 سال تک کمپنی کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی کہ تخت دہلی کو بھی تاراج کر دیا گیا۔ سیاست کی اس جنگ میں کمپنی نے 100 سال تک مسلسل ہندستانی خزانوں کو یورپی ممالک منتقل کیا جب کمپنی کے خلاف بغاوت ہوگئی تو 1858 ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے براہ راست ہندستان کا کنٹرول اپنی کمان میں لے لیا۔

اب یہاں سے ہندستان پر سیاسی قبضے کے دوسرے عہد کی ابتداء ہوتی ہے۔ برطانوی راج میں ہندستان میں سیاسی جمہوری عمل کو 1920 ء تک روکے رکھا گیا، یورپ جو شاہی نظام سے جمہوری سماج کی طرف بڑھ رہا تھا اس کے برعکس 170 سال تک ہندستان کے سیاسی سسٹم کو نوآبادیاتی مقاصد کے تحت برطانویہ نے یرغمال بنائے رکھا۔ اگرچے 1861 ء میں لیجسلیٹو کونسلز قائم ہوئیں لیکن ان کونسلز کا انتخاب نہیں ہوتا تھا بلکہ انگریز کونسل کے لیے اراکین کی نامزدگی کرتے تھے۔ 1885 ء میں انڈین نیشنل کانگریس نے قائم ہوتے ہی لیجسلیٹو کونسلز میں ہندستانیوں کی نمائندگی کا مطالبہ کر دیا یہ پہلا باقاعدہ سیاسی مطالبہ تھا جو انگریز راج کے سامنے رکھا گیا۔

ہندستان کے نوآبادیاتی عہد میں 1861 ء سے لے کر 1908 ء تک سیاسی اور جمہوری آوازوں کو دبایا جاتا رہا اور اس دوران ہندستان کو مذہبی تشخص کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی ابتداء بھی ہوچکی تھی۔ کانگرس نے 1908 ء میں کینیڈا کی طرز پر نوآبادیاتی خود اختیاری کے درجہ کے حصول کی آواز اُٹھائی جس پر 1909 ء میں مارلے منٹو اصلاحات کا نفاذ ہوا اور امپریل لیجسلیٹو کونسلز میں ہندستانیوں کی شمولیت میں اضافہ ہوا۔ 1910 ء سے 1919 ء تک صوبوں میں لیفٹیننٹ گورنر کی عمل داری تھی جس کے لیے مشاورتی کونسلز قائم تھیں۔ ان کونسلز میں وہ ہندستانی شامل ہوتے جو انگریز کے وفادار اور امراء طبقات کے نمائندے تھے حتیٰ کہ یہ ہندستانی نمائندے کونسل کے اجلاس میں انگریز سیکرٹری کی لکھی تقریر ہی اپنے موقف کے طور پر پیش کرتے تھے۔

مشاورتی کونسل کے اجلاس میں سر عمر حیات ٹوانہ اپنی لکھی تقریر گھر بھول آئے تو انھوں نے رائے بہادر رام سرن داس کی تقریر اُٹھا کر پڑھ دی اور جب گورنر سر مائیکل ایڈوائر نے سرن داس کو تقریر کی دعوت دی تو انھوں نے کہا کہ ”مجھے اپنے دوست سے کامل اتفاق ہے جنھوں نے ابھی ابھی تقریر ختم کی ہے“۔

جب امپریل لیجسلیٹو کونسلز کی جگہ لیجسلیٹو اسمبلی قائم ہوئی تو یہ جمہوری نظام کی طرف پہلا قدم تھا چنانچہ 1920 ء میں پہلی بار ہندستان میں انتخابات کرائے گئے۔ بالغ حق رائے دہی کی بنیاد کی بجائے محدود بنیاد پر لوگوں کو انتخاب کا حق دیا گیا۔ ہر وہ شخص جو زمین کا مالک تھا یا اس پر کاشت کرتا تھا خواہ اس زمین کا رقبہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو، ووٹ کا حق رکھتا تھا۔ جن زمین داروں کے پاس پانچ ایکڑ رقبہ تھا وہ بھی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوئے۔

تمام فوجیوں، سابق فوجیوں، ذاتی مکانات رکھنے والوں کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا۔ اس پہلے الیکشن میں ہی انگریز سرکار نے جاگیرداروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کو قانون ساز اسمبلی تک پہنچایا جو ان کے لیے بطور گماشتہ کام کرتے تھے۔ چنانچہ یکم جنوری 1921 ء میں اسمبلیاں وجود میں آ گئیں۔ 1925 ء میں دوسرے اور 1931 ء میں تیسری مرتبہ الیکشن ہوئے۔

برطانوی حکومت نے 1929 ء میں اعلان کیا کہ ہندستان کو داخلی خود مختاری دینے اور آئینی مراعات پر غور کرنے کے لیے لندن میں گول میز کانفرنس ہوگی۔ چنانچہ 1931 ء میں ہی دو گول میز کانفرنسز کا انعقاد ہوا۔ ان کانفرنسز کی تفصیلات پر پھر کبھی لکھوں گا۔ البتہ کانفرنسز کے اختتام پر ہندستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔ محمد علی جناح گول میز کانفرنس کے بعد ہندستان واپس نہیں آتے اور وہ تین سال تک لندن میں ہی مقیم رہے۔

اب 1934 ء میں نئے انتخابات کا شیڈول جاری ہوتا ہے، پاکستان میں مخصوص سیاسی تصورات کی بناء پر ان انتخابات کا تذکرہ مطالعہ پاکستان سمیت متعدد تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا البتہ پروفیسر کوپ لینڈ، عاشق حسین بٹالوی نے ان الیکشن کی روئداد کو قلم بند کر دیا۔

الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہوتے ہیں چنانچہ محمد علی جناح بھی ان الیکشن میں حصہ لینے کے لیے 1934 ء میں ہندستان واپس لوٹتے ہیں، ان کے کاغذات بمبئی سے جمع کرائے جاتے ہیں اور مقابلے پر کوئی اُمیدوار نہ ہونے کی بناء پر جناح صاحب مسلمان کی نشست پر 6551 ووٹ لے کر جیت جاتے ہیں لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ جناح صاحب کے مقابلے پر کوئی اُمیدوار ہی نہیں تھا۔ یوں وہ مرکزی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے، جہاں انھوں نے اپنی انڈی پینڈنٹ پارٹی کو دوبارہ زندہ کیا۔ 1934 ء کے الیکشن میں مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی یوں تھی:

کانگرس: 44 نشستیں
انڈی پینڈنٹ پارٹی: 22 نشستیں
سرکاری بلاک: 26 نشستیں
نیشنلسٹ پارٹی: 11 نشستیں
یورپین: 11 نشستیں
نامزد ممبرز: 13 تھے۔ ( میں اس الیکشن کی تفصیلات سے متعلق برٹش آرکائیو میں رکھی اصل دستاویز کا مطالعہ کر چکا ہوں اور اس کے لیے میں آکسفرڈ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے مقیم ڈاکٹر محبوب حسین کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے یہ دستاویز فراہم کی۔ )

برطانوی کی سرکاری رپورٹ کے مطابق انڈی پینڈنٹ پارٹی کے جن اُمیدواروں نے الیکشن جیتا اس میں عمر علی شاہ، سید مرتضیٰ صاحب بہادر، ستار حاجی اسحاق سیٹھ، سر کاؤس جی جہانگیر، سیٹھ حاجی عبد اللہ ہارون، ایچ۔ پی مودی، مولانا شوکت علی، سر محمد یعقوب، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد، اے۔ کے فضل حق، ڈی۔ کے لہری چوہدری، بیجناتھ باجوریا، منشی محمد احمد، نعمان محمد، مولوی بدرالزمان، مولوی محمد شفیع داؤدی، سید غلام بھیک نائیرنگ، کے۔ ایل گوبا، عبد اللہ حفیظ، سر محمد مہر شاہ، کے۔ ایس شیخ فضل الحق، مخدوم سید راجن بخت شاہ، میاں غیاث الدین، راجہ پرساد نارائن سنگھ، نواب صدیق علی خان، مولوی عبد المتین چوہدری اور محمد علی جناح شامل ہیں۔ الیکشن میں 1135899 ووٹرز میں سے 608198 ووٹ کاسٹ ہوئے۔

مذکورہ الیکشن انڈین ایکٹ 1919 ء کے تحت ہوئے تھے یہ الیکشن قانون ساز اسمبلی کی تین سالہ مدت پوری ہونے پر 1933 ء میں ہونا تھے تاہم گورنر جنرل نے اسمبلی کی مدت میں ایک سال توسیع کر دی یوں یہ الیکشن 1934 ء میں ہوئے۔ الیکشن میں کانگرس اور نیشنلسٹ پارٹی کی مجموعی طاقت 55 اور حکومت کے حامیوں کی تعداد 50 تھی۔ انڈی پینڈنٹ پارٹی نے کانگرس اور نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ مل برطانوی راج کے خلاف اسمبلی میں کام کیا۔ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 21 جنوری سے 9 اپریل 1935 ء تک جاری رہا۔

جناح اور کانگرس نے اجلاس میں حکومت کو شکستوں سے دو چار کیا۔ پہلی شکست سرت چندر بوس کی نظر بندی کے خلاف تحریک التواء پر ہوئی۔ دوسری شکست انڈو برٹش تجارتی معاہدے کی تنسیخ پر ہوئی۔ تیسری شکست خدائی خدمت گاروں کی تحریک کو خلاف قانون قرار دیے جانے پر ہوئی۔

چوتھی شکست ریلوے بجٹ پر تخفیف زر کے سلسلے میں ہوئی۔ پانچویں شکست سالانہ بجٹ کو مسترد کیے جانے پر ہوئی اور ساتویں شکست وائسرائے ہند کے اختیارات خصوصی سے منظور شدہ بجٹ کو دوبارہ مسترد کیے جانے پر ہوئی۔

اسمبلی کے پہلے سیشن میں ہونے والی شکستوں نے نوآبادیاتی راج کی بنیادیں ہلا دیں۔ اسمبلی کا دوسرا اجلاس 2 ستمبر 1935 ء سے 25 ستمبر تک 24 روز جاری رہا اس میں بھی حکومت کو دو شکستیں ہوئیں۔ پہلی شکست قبائلی علاقوں پر بم باری کے خلاف اور دوسری شکست مسودہ قانون فوج داری کی ترمیم پر ہوئی۔ برطانیہ نے انڈی پینڈنٹ پارٹی کے بعض اراکین کو توڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئی۔ 1936 ء کا اسمبلی اجلاس بھی زبردست تھا اس میں برطانوی راج کو 6 شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

پہلی شکست سوبھاش چندر بوس کے بارے میں ہوئی جن کا ہندستان میں داخلہ برطانوی سامراج نے بند کر رکھا تھا، دوسری اہم شکست اٹاوہ پیکٹ کو ختم کیے جانے کی تحریک پر ہوئی۔ اس صورت حال پر پروفیسر کوپ لینڈ نے اپنی رپورٹ میں تفصیلات شائع کی ہیں۔ کانگرس کے ساتھ جناح صاحب کا اتحاد تاریخ کا وہ باب ہے جو ہم سے دانستہ چھپایا گیا ہے۔

مذکورہ سیاسی تصویر کشی سے واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی حکمرانوں کے لیے ہندستان میں جمہوری سیاست کی بنیاد پر اقتدار پر گرفت رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اور ہندستانیوں کو آئینی حق نہ ملنے پر پہلے ہی برطانیہ میں تنقید عروج پر تھی۔ جناح صاحب کی انڈی پینڈنٹ پارٹی سے متعلق تفصیلات ہمارے نصابی کتب میں بھی شامل کی جانی چاہئیں تاکہ ہندستان کی قومی سیاست میں اس گم نام جماعت کو تاریخ زندہ رہ سکے۔ ہمیں اُدھوری اور مرضی کی سیاسی تاریخ لکھنے سے سوائے گمراہی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہندستان کے نوآبادیاتی راج میں برطانیہ کی کارستانیاں واضح کر کے ہم پاکستان کے سیاسی مسائل کی گہرائیوں کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •