وفاقی حکومت کے افسانہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افسانہ نوسی اک فن ہے جو اردو ادب سے جڑُے بڑے ناموں کا وتیرہ رہا ہے۔ افسانوں کا ذکر ہو اور جناب منٹو صاحب کا ذکر نہ ہو یہ خود افسانہ نویسی کے ساتھ زیادتی تصور ہو گی۔ منٹو صاحب کے افسانے ایسی داستانوں پر مشتمل ہیں۔ جو حقیقت پر مبنی ہوا کرتی تھیں۔ پھر بھی نہ جانے ایسی کیا وجہ بن پڑی کہ ان سچی داستانوں کو جناب منٹو صاحب نے افسانوں کی صورت اس سماج کی نظر کیا۔ چلیں منٹو صاحب کے افسانوں کو اک طرف رکھ کر مملکت خداد اد میں آئے روز گھڑ ے جانے والے تبدیلی کے افسانوں کی بات کرتے ہیں۔

عام انتخابات 2018 سے قبل اور کچھ عرصہ بعد تک وفاق پاکستان میں قائم ہونے والی موجودہ اس حکومت سے عوام کی خوب توقعات تھیں۔ عام انتخابات سے قبل ملک میں مغربی طرز حکومت سمیت عوام دوست حکومت کے قیام کے وعدے کیے گے تھے۔ جن پر عمل در آمد کی کوشش بھی نظر نہیں آ رہی یا شاید صرف مج جیسوں کو نظر نہیں آتی۔ لیکن اس حکومت کے قیام میں آنے کے بعد عوامی سطح پر خوب تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک میں نئے ٹیکسسز کے نفاذ کو لے کر خوب بحث چھڑ گئی ہے۔

چوکوں چوراہوں میں عوام نیے ٹیکسسز کے نفاذ پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ وہیں عوام کو مطمئین کرنے کے لیے وفاقی وزراء جہاں افسانے گھڑتے چلے آرہے ہیں۔ وہیں نئے لگائے جانے والے ٹیکسسز کے دفاع میں بھی وقتا فوقتا لب کشائی کرتے رہتے ہیں۔ مالی سال 2018/19 کے بجٹ کے بعد اشیائے خوردو نوش سمیت مختلف روز مرہ کی اشیائے ضروریہ پر نئے ٹیکسسز کا نفا ذ کیا گیاہے۔ جس پر ملک بھر کی تاجر برادری سراپا احتجاج نظر آئی وہیں عوامی حلقے بھی تلملا اٹھے۔ کاروباری حلقو ں میں بھی یہ باز گشت سنائی دی کہ حکومت کی پالیساں معاش دشمن اور بجٹ عوام دشمن ہے۔

گزشتہ ہفتے ملک بھر کی تاجر برادری نے حکومت کی جانب سے عائد نئے ٹیکسسز کو مسترد کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کی۔ جس میں تاجر برادری تقسیم نظر آئی تاہم بڑے پیمانے پر اس ہڑتال کو کامیاب بنایا گیا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے یہ پیغام واضح طور پر سامنے آیا کہ تاجر برادری عوام سے ٹیکس تو وصول کرتی ہے۔ لیکن اسے حکومتی خزانے میں نہیں جمع کراتی اس واسطے اب تاجر برادری کو بھی ٹیکس کی ادائیگی باقاعدگی سے کرنا ہو گی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پہلی بار ایسا اقدام سامنے آیاہے۔ جس پر تاجر برادری غضب ناک نظر آئی اور یہ باتیں بھی گردش کرتی رہیں کہ یورپ کی طرح کا ٹیکس کا نظام لا رہے ہو۔ تو یورپ کی طرز کا نظام بھی قائم کرو۔ یہ بحث تاجر برادری اور حکومت میں خوب چل پڑی ہے۔ اس کا انجام معلوم نہیں کیا ہو گا۔ البتہ لاہور میٹرو پو لیٹن کارپوریشن نے پنجاب حکومت کو اک بالکل ہی نئی طرح کے ٹیکس کی صلاح دی ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ فی قبر پر ایک ہزار روپئے ٹیکس مقرر کیا جائے۔

دفن ہونے والا اگر کم عمر ہے تو اس کی قبر کا ٹیکس ایک سو روپے اور اگر بڑی عمر کا ہے تو اس کی قبر پر پندرہ سو روپے ٹیکس حکومت کے خزانے میں جمع کروانا ہو گا۔ قبروں پر اس ممکنہ ٹیکس کی شمولیت کو لیے پنجاب بھر کے مکینوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ اور یہ باز گشت بھی ہے کہ جینا مشکل اور مرنا تو محال ہی نظر آ رہا ہے۔

لیکن تبدیلی کے افسانے برابر جاری ہیں۔ وفاقی افسانہ نگار آئے روز پریس انفارمیشن ڈیمارٹمنٹ آتے ہیں اور نئے گھڑے گئے تازہ افسانے پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان افسانوں میں واقعی افسانوی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ اپوزیشن کے خلاف محاظ تو گرم ہے ہی لیکن اس گرم محاذ پر روز کوئی نہ کوئی نیا بم گر تا ہے۔ لیکن اس بار وفاقی حکومت نے پرانا چلا ہوا بم چلا دیا۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کے خلاف برطانوی اخبار ڈیلی میل میں یہ خبر سامنے آئی۔

کہ اکتوبر دو ہزار پانچ میں آنے والے زلزلے کے فنڈ میں شہباز شریف خرد بر کر چکے ہیں۔ اس پر اک نئی بحث کا آغاز ہوا بعد ازاں مسلم لیگ ن کی جانب سے اس پر پوری وضاحت پیش کی گئی۔ جس کے مطابق جب زلزلہ آیا تھا تب شہباز شریف ملک بدر تھے۔ اور یہ بھی کہ یہ خبر برطانوی اخبار میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر کی جانب سے پلانٹ کروائی گئی۔ اور شہباز شریف کے خلاف پروپیگینڈا کیا گیا۔ تاہم اس اقدام کے بعد حکومت کی اپوزیشن کش مہم بھی واضح ہونے لگی ہے کہ اک ایسا چونچلہ چھوڑ دیا گیا جسے خود حکومت کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

البتہ اس عمل کے بعد نیب اک بار پھر حرکت میں آئی اور شہباز شریف اور ان کی فیملی کے دیگر لوگوں کے اثاثے منجمند کر دیے۔ ایسے میں عامل صحافیوں اور لکھنے پڑھنے والے طبقے کا دماغ حکومت کے یک طرفہ اقدامات اور پے در پے نیب کی کارائیوں پر کچھ نہ کچھ سوچنے لگتا ہے اور کچھ حد تک جواب بھی مل جاتا ہے۔ اس سب پر بھی افسانہ نویس وفاقی وزراء بہترین دفاع رکھ رہے ہیں۔

مملکت خدادا میں مکمل ہڑا بڑی کا موسم چل رہا ہے۔ اک شور ہے اک بے چینی ہے اور ہیجانی سی کیفیت غالب معلوم ہوتی ہے۔ اپوزیشن دیوار کے ساتھ ہے تو میڈیا پر قدغن ہے زباں بندی ہے اور ٹیکسسز کی بھرمار ہے۔ اس ملک کا متوسط طبقہ اپنے کل کے لیے پریشان معلوم ہوتا ہے۔ سوچنے سمجھنے والا طبقہ یہ جان چکا ہے ہے کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کے تناظر میں نیے ٹیکسسز کا اطلاق کیا ہے۔ ان نئے ٹیکسسز کے ذریعے حکومت مالی خسارہ پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن دوسری جانب عام شہری کا میعار زندگی اور نیچے جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے غربت بیروزگاری جیسے مسائل بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ بڑی کمپنیاں ملازمین کی تعداد کم سے کم کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ملکی اخراجات کم کرنے کی پالیسی اپنے نظام میں شامل کی تھی۔ لیکن اس کا اطلاق عام آدمی کی جیب پر بھی ہو گا اس کا اندازہ اب جا کر ہونے لگا ہے۔ اس ملک کا متوسط طبقہ اشیائے روز مرہ پر ٹیکسسز کے نفاذ سے براہ راست متاثر ہونے لگا ہے۔ اور وفاقی وزراء کے افسانے ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔

تبدیلیوں میں اک تبدیلی یہ بھی ہے کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر آواز اٹھانے والوں کی زباں بندی کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کے انٹرویوز عوام تک پہنچنے سے روک دیے گئے۔ جو اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی میڈیا دشمن پالیسی میڈیا اداروں کی جانب زوروں پر ہے۔ اشتہارات کی بندش اور ان کے ریٹس کم ہونے سے ادارے ورکرز کی جبری برطرفیوں پر اتر آئے ہیں۔

اسی پر بس نہیں کئی سئینیر صحافیوں کو وقتا فوتا دھمکیوں اور زباں بندی کے پیغامات بھی مل رہے ہیں۔ جن سے حکومتی غیر جمہوری رویہ واضح ہونے لگا ہے۔ اتنا سب ہونے کے باوجود حکومت کے پاس چند بہترین سیاسی نابالغ افسانہ نگاروں اور افسانہ نویسی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ وزراء آتے ہیں اور آئے روز تبدیلی کی کوئی نئی کہانی پیش کر کے رخصت لیتے نظر آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت کیجانب سے عوام کو اعتماد میں لینے اور ملکی ترقی کے سبز باغ دکھانے کے لیے جو افسانے پیش کیے جاتے ہیں وہ سہی معنوں میں افسانے ہی معلوم ہوتے ہیں۔

جو کچھ وقت کے لیے ہمیں یورپ لیے جاتے ہیں یا کئی اور جادوئی دنیا کی سیر کروا آتے ہیں۔ لیکن جب حکومتی وزراء کی پریس کانفرنس ختم ہوتی ہے تو ہم وہیں نئے پاکستان جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھے راہیں تکتے معلوم پڑتے ہیں۔ ۔ اک طرف تو وہ افسانے تھے جو منٹو صاحب پیش کیا کرتے تھے جو حقیقت پر مبنی داستانیں تھیں۔ لیکن چونکہ یہ سماج افسانوں کو زیادہ پسند کرتا ہے یا سچ کو بھی افسانوں کی ہی صورت سننا چاہتا ہے۔ اس لیے منٹو صاحب کا سچ افسانوں کی صورت ہم تک پہنچا۔ لیکن یہ تبدیلی کے جو افسانے ہیں یہ واقعی جادوئی دنیا کی کہانیاں ہیں ان کا حقیقت سے دور دور تک کوئی ربط معلوم نہیں پڑتا۔

کسی نے منٹو صاحب سے پوچھا کہ کہ کیا حال ہے آپ کے ملک کا؟ تو جواب کچھ یوں ملا

وہی حال ہے جو جیل میں ہونے والی جمعہ کی نماز کا ہوتا ہے۔ اذان فراڈیا دیتا ہے امامت قاتل کرواتا ہے اور نمازی سب کے سب چور ہوتے ہیں۔ اللہ ہمارے ملک پر اور ہماری عوام پر ر حم کرے۔ سب کہو آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •