شاپر میں انسانی لاش کا قیمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں ماہ 8 جولائی کی رات جنوبی پنجاب کے شہر جامپور ضلع راجن پور کے قریب سے صبح سحر کے وقت ریسکیو کی ٹیم نے انڈس ہائی وے سے ایک انسان کے سڑک سے چمٹے جسم کو سڑک سے الگ کیا اور ایک شاپر میں بند کیا۔

اس کے جسم کا جو کچھ بچ گیا تھا وہ صرف جوتے تھے جو شاید پلاسٹک کے ہونے کے وجہ سے ہی زندہ بچ گئے تھے، جن سے شناخت کا مرحلہ نا جانے کہاں پہنچا پھر خبر نہیں رہی نہ کسی کو اس نامعلوم انسان کی شناخت سے دلچسپی ہوئی۔

کوفت و کراہت محسوس ہوتی ہے کہ مرنے والے انسان کو رات بھر پشاور سے کراچی تک کی گاڑیاں روندتی رہی ہوں گی۔ مرنے والے کے انسان کے چیتھڑے بھی نہیں بچے تھے وہ صبح تک انڈس ہائی وے کی بجری میں ’پیوست‘ ہو چکا تھا اور پوچھ رہا تھا کہ کاش میں بھی کسی اسلامی ریاست کا شہری ہوتا، کاش مجھے بھی کوئی انسان سمجھتا۔

گزشتہ پانچ سالوں میں اس سڑک پر سینکڑوں انسان بے گناہ حادثات کا شکار ہوئے، دو مرتبہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے مانہ احمدانی و نوتک محمید میں بس سٹاپ پر کھڑے لوگوں کو کراچی جانے والی بسوں نے روند دیا جن کی ٹوٹل تعداد ستر سے زائد ہے۔ اسی سال مئی میں جامپور شہرمیں معصوم طالبات کو روند دالا۔

وسیب کے وزیراعلیٰ نے بھی کوئی خبر نہ لی کوئی ایکشن نہ لیا، ایکشن کس لیے لیتے کیونکہ ایکشن لینے کے لیے اہل علاقہ کا ہمیشہ مطالبہ اس حد سے زیادہ مصروف سڑک بنانے پر ہے لیکن اس کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ لاہور شہر کی بارش میں بھیگتی طالبات کا تو سردار صاحب کو احساس ہو چلا مگر مرنے والے انسان جس کا جسم اور چہرہ بھی نہیں ہے اس سے کسی کو کیا لینا دینا۔ مر گیا، تو مر گیا، ہر روز تو سڑک حادثات میں مرتے ہیں لوگ، ریلوے میں مرتے ہیں۔ کیا پتہ شیخ رشید کی طرح دیگر وزراء و پارلیمنٹ کا ضمیر کب جاگتا ہے۔ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ضمیر ہے بھی سہی کہ ہے ہی نہیں۔

راقم ایک دن جامپور کے معروف وکیل اور سماجی رہنما کامریڈ رؤف خان لُنڈ کے پاس بیٹھا تھا۔ اندس ہائی وے پر سکول کی معصوم بچیوں کو بس نے روند ڈالا کی اطلاع ملی تو رؤف خان سے استفسار کیا کہ آپ لوگ اس کے لیے احتجاج کیوں نہیں کرتے، انہوں نے کہا متعدد بار احتجاج کیے، سڑک بند کی، ممبران پارلیمنٹ کو بتایا لیکن کسی کو دلچسپی ہی نہیں۔

پوچھا کہ حکومت ایسے حادثات کو سنجیدہ کیوں نہیں لیتی؟ َ انہوں نے کہا کہ مرنے والے تو سبھی انسان ہوتے چاہے وہ بھوک و ننگ سے مریں یا ایسے حادثات سے جنہیں کور بھی کیا جا سکتا اور دھماکوں میں مرنے والے بھی انسان ہوتے ہیں لیکن دھماکوں میں جاں بحق کو میدیا کوریج بھی دیتا ہے، وزیراعلیٰ سے لے کر صدر اور آرمی چیف تک سبھی اس لیے سیریس ہوجاتے ہیں کہ اس کا فوری دفاعی بجٹ نکالا جاتا ہے، ان دہشتگردی کے واقعات سے دفاع مضبوط کیا جاتا ہے حالنکہ ظلم تو سانجھا ہے مرنے والے تو سبھی انسان ہیں لیکن سندھ سے لے کر بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں صحت و پانی کی عدم سہولیات کے باعث مرنے والوں کی بھلا کسے فکر ”۔

انڈس ہائی وے کی تعمیر 1980 میں کی گئی تھی اور دوبارہ دوبارہ 2003۔ 04 میں اس پر کام کیا گیا تھا۔ یہ سڑک اب ’قاتل روڈ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے کشمور تک یہ سنگل روڈ ہے اور سب سے زیادہ ٹریفک بھی اسی کے بیچ ڈیرہ غازی خان تا راجنپور تک ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے شہروں سے متعدد بائی پاس بنوائے گئے لیکن آبادی اور ٹریفک کی بڑھتی تعداد روز بروزخطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان شہر چاروں صوبوں کا سنگم کہلاتا ہے، جہاں سے اسی سڑک پر بلوچستان، پنجاب، خیبر اور سندھ کی ٹریفک دوسرے صوبوں کی راہ اختیار کرتی ہے۔

اہل علاقہ بتاتے ہیں کہ اس سڑک پر سفر کرنے سے پہلے ہی درود کلمہ پڑھ لیتے ہیں کہ واپسی ممکن ہے کہ نہیں۔

جنوبی پنجاب کے ویسب کے لوگوں نے بھی تبدیلی سرکار کو ووٹ دیا کہ شاید ان کے دکھوں کا مداوا ہو سکے۔ باقیوں کو چھوڑیں ان علاقوں میں رہنے والے اسی سڑک سے کبھی کبھار اپنے حلقوں میں آنے والے ممبران پارلیمنٹ کی کافی تعداد نہ صرف اسمبلی کا حصہ ہے بلکہ اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ لغاری و کھوسہ سرداروں سے لے لے کر زرتاج گُل، راجنپور کے مزاری اور دریشک برداران اور تونسہ کے خواجہ و بزدار سرداروں کو کبھی کوئی جنجھوڑ سکے گا۔

سوشل میڈیا پر جعلی ٹینڈر شئیر کر کے حکومت اور وزیراعلٰی کو ہمیشہ کی طرح کوئی داد تو نہیں دے سکے گا جب تک کوئی عملی کام نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •