ڈِھیٹ جمہوریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوری شخصیات اور اقدار کو بدنام اور ختم کرنے کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ یہ ان کے سامنے بھی رہنی چاہیے، جو اسے بدنام اور ختم کرنے کے مسلسل عمل سے گزر ہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر قابلِ ذکر سیاسی شخصیت اور سوچ کو راستے سے ہٹانے کے باوجود، جمہوریت کا پودا مرجھاتا ضرور ہے، مگر مرتا نہیں۔ آپ ہر بار سمجھتے ہیں، کہ اب جس کو راستے سے ہٹایا ہے، بس وہی راہ کا آخری کانٹا تھا۔ اس کے بعد تو راوی چین ہی چین لکھے گا۔ مگر ہر بار آپ کو کسی نئے دریا کا سامنا ہوتا ہے۔

ہر اچھا دماغ آزادی پسند ہوتا ہے۔ اسے سوچنے، کاروبار کرنے، نقل و حرکت کرنے، لکھنے، بولنے اور تعلقات بنانے کی آزادی چاہیے ہوتی ہے۔ انہی تمام آزادیوں کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے، اس نے اپنے حکمران خود چننے کی آزادی حاصل کی۔ اب جب کبھی اس آزادی پر ضرب لگتی ہے، تو دماغ فوراً ان تمام آزادیوں کے ضبط ہونے کی طرف جاتا ہے، جن کی ضمانت اس بنیادی آزادی میں تھی۔

اسی لیے پھر اچھے بھلے دماغوں کو بھی ان دستیاب ذرائع اور شخصیات سے رجوع کرنا پڑتا ہے، جو اہلیت اور کردار میں ان کے شایانِ شان تو نہیں ہوتیں، مگر ان آزاد یوں کی ضمانت کا واحد یا دستیاب ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہی یہاں کی آزاد خیال عوام کی ستر سالہ کہانی ہے۔ ان سے جب اول درجے کی قیادت چھین لی گئی، تو انہوں نے دوئم درجے کی عوامی قیادت کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ جب یہ دوئم درجے کی قیادت بھی راستے سے ہٹا دی گئی، تو سوئم درجے کی قیادت کے پیچھے چل پڑے۔

اب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ تو اس قابل ہی نہیں کہ حکمرانی کر سکیں۔ ہم بھی مانتے ہیں۔ لیکن حضور یہ ہمارا انتخاب تو کبھی بھی نہ تھے۔ ان میں سے اکثریت تو آپ کے صاف شفاف ہاتھوں کو پکڑ کر اوپر آئی۔ لہذا، ان میں سے جو تھوڑے بہت بھی شخصی آزادیوں کی ضمانت سمجھے گئے، ان کو عوام نے مضبوط کیا۔ پہلے جو لائق تھے، اور بعد میں جو مسلط کیے گئے اور ان میں جو قابلِ قبول تھے، سب کو عوام نے اپنا نمائندہ بنا کر جمہوری کلچر کو پروان چڑھایا۔

نواز شریف اور زرداری کبھی بھی عوامی مقبولیت میں ان لوگوں تک نہیں پہنچ پاے، جن پر صفِ اول یا دوئم کی قیادت پہنچی۔ اور نا ہی ان دونوں سے کسی بڑی عوامی قربانی یا تحریک کی امید ہے۔ بدنامی اور سنگین مالی الزامات میں جکڑی ہوئی شخصیات ہیں۔ ان کی گرفتاریوں پر کوئی بڑا عوامی ردِعمل بھی نہیں آیا۔ مگر پھر بھی دونوں ٹِک کر جیل میں کیوں بیٹھ گئے ہیں؟ کیوں نواز شریف باہر سے آ کر سیدھا جیل چلے گئے اور وہاں صبر اور انتظار کی چادر بچھا کر یوں بیٹھ گئے جیسے شطرنج ابھی ان کے سامنے ہی پڑی ہے۔ دوسری طرف زرداری صاحب نے ہنستے مسکراتے، ضمانتوں کی تمام درخواستیں واپس کیوں لے لی ہیں؟ وہ ایک ٹی وی انٹرویو میں چند منٹ کے لیے آئے، بڑھی ہوئی مونچھوں کے ساتھ ایک تمسخرانہ اور بے پرواہ کہکہا اور ساتھ ہی ڈائیلاگ، کہ میں تو کسی کو سات ڈالر نہ دوں، سات بلین ڈالر تو دور کی بات۔

یہ خود اعتمادی کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دستیاب لیڈر شپ میں مذاحمتی آوازیں بہت کم رہ گئی ہیں۔ اگر کسی کے پاس یہ آواز ہے تو عوامی ووٹ نہیں ہے۔ بلاول کی چند تقریروں نے ہی عملا اپوزیشن لیڈر کا کردار، ایک منجھے ہوے اور منتخب لیڈر کے ہاتھوں سے چھین کر، اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ شہباز شریف کے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی ہے اور بتانے کو اپنے کئی پراجیکٹ بھی، لیکن ان کا طرزِ سیاست ان کو وہ مقبولیت نہیں دے رہا، جو بلاول نے چند مذاحمتی تقریروں سے حاصل کر لیا۔

مریم صاحبہ کی پچھلے کچھ عرصہ کی پراسرار خاموشی نے بھی بلاول کے لیے میدان خالی چھوڑ رکھا تھا۔ یہ خاموشی نواز شریف کے لیے بھی اور نون لیگ کے لیے بھی کمزوری کی علامت بنے رہے۔ اب مریم صاحبہ کے مذاحمتی کردار نے جہاں ان کی سیاست میں جان ڈالی ہے، وہیں وہ خلا بھی پر کیا ہے جس کی سپیس بلاول سمیٹتے جا رہے تھے۔ عوام کی ایک معقول تعداد اور کچھ تھنک ٹینک یہ سمجھتے ہیں کہ ان دونوں پارٹیوں کا مستقبل ختم ہو چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ نہیں ہے۔ جب تک عوام کو دستیاب لیڈر شپ میں سے منتخب کرنے پر مجبور کیا جاتا رہے گا، تب تک وہ صفِ سوئم کی لیڈر شپ تو کیا، ہر اس عام شخص پربھی اعتماد کرتے رہیں گے جو ان کی شخصی آزادیوں کی ضمانت ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •