مریم نواز پر احتساب عدالت میں کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتساب عدالت کی طرف جانے والے تمام راستے بند تھے جگہ جگہ پولیس ناکے لگے ہوئے تھے، آٹھ کلو میٹر کا سفر بارہ کلومیٹر پر مشتمل ہو گیا۔ معمول میں کوئی چکینگ نہیں ہوتی، مگر آج کمرہ عدالت تک پہنچنے کے لیے چار مختلف جہگوں پر اپنی شناخت کروانی پڑی۔

دس بجے سیاہ سوٹ میں ملبوس مریم نواز کمرہ عدالت میں پہنچیں۔ سوٹ پر نواز شریف کی تصویر بنی ہوئی تھی اور اس پر لکھا تھا ”نواز شریف کو رہا کرو“۔ اُن کے ساتھ سینیٹر پرویز رشید، کیپٹن صفدر اور مریم اورنگ زیب تھے۔

جی وہی کمرہ عدالت جہاں میاں نواز شریف کا طویل ترین ٹرائل ہوا فرق اتنا تھا کہ جس نشست پر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بیٹھتے ہوتے تھے وہاں آج مریم نواز بیٹھی ہوئی تھی۔ مریم نواز پرُاعتماد تھی، فرداً فرداً کمرہ عدالت میں موجود تمام صحافیوں کی نام لے کر خیریت پوچھی اور کہا کہ ایک سال کے بعد آپ سے ملاقات ہو رہی ہے۔

منصف کے آنے میں تھوڑی دیر باقی تھی، اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم نے پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر ان سے گفتگو کرنا شروع کی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو میں پانچ سال دینے کو تیار ہوں مگر عوام مزید وقت دینے کو تیار نہیں، نالائق اعظم نے دس ماہ میں ملک کی معاشی صورتحال کا بیڑہ غرق کر دیا۔

انھوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ آئین کو فالو کرتی ہے جو آئین کہتا ہے وہی ہونا چاہیے آئین سے ہٹ کو کوئی کام ہوا تو یہ مُلک اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ہمیں اپروچ کیا کہ کچھ شرائط پر معاملات طے کرتے ہیں، مگر ہم نے اصولوں پر کمپرومائز نہیں کرنا، ہمارا بیانیہ ”ووٹ کو عزت دو“ ہے اس کو عزت ملے گی تو بات چیت ہو سکتی ہے۔ موجودہ حکومت کے ساتھ ہم کیا بات کر سکتے ہیں، جو وزیراعظم اپنے وزیر کو اپنی مرضی سے ہٹا اور لگا نہیں سکتا اس کے کیا اختیارات ہیں؟ یہ کسی کو کیا این آر او دے گا؟

جج صاحب کرسی انصاف پر تشریف لاتے ہیں اور پُکارا لگتا ہے سرکار بنام مریم نواز، جج صاحب نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہیں کہ آج مُلک میں کوئی ناگہانی صورتحال ہے، اسلام آباد میں تو کرفیو کا سماں ہے۔ جگہ جگہ پولیس ناکے لگے ہوئے ہیں۔ جج صاحب نے پوچھا کہ امجد پرویز صاحب کہاں ہیں اُنھیں بتایا گیا کہ وہ ناکوں کی وجہ سے ابھی تک نہیں پہنچ سکے دس منٹ مزید لگ سکتے ہیں اس پر انھوں نے دس منٹ کی بریک لی۔

مریم نواز کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ وہاں سے ہی شروع ہوتا ہے جہاں ٹوٹتا ہے، میں نے سوال کیا کہ ناقدین کا خیال ہے کہ ن لیگ نے ہمیشہ ڈرائنگ روم کی سیاست کی ان کے پاس وہ کارکن نہیں جو سڑکوں پر نکلیں اور ماریں کھائیں اپ تو کہہ رہی ہیں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائیں گے تو پھر کارکن کہاں سے آئیں گے؟ انھوں نے کہا کہ ن لیگ اب ڈرائنگ روم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، سیاست کی ڈائنامکس تبدیل ہو گئی ہیں، ہم سڑکوں پر آئیں گے اور میں تحریک کو خود لیڈ کروں گی۔

آمریت کے حوالے سے انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آمریت آخری ہچکیاں لے رہی ہے عمران خان پرویز مشرف کی باقیات ہیں اور جس طرح مشرف عبرت کا نشان بنا اس طرح ان کی باقیات بھی عبرت کا نشان بنیں گے۔

موجودہ حکومت خوف کا شکار ہے اگر انھیں خوف نہیں تو اسلام آباد میں دفعہ 144 کیوں نافذ ہے آج ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جج صاحب دوبارہ کمرہ عدالت میں تشریف لاتے ہیں اور درخواست پر سماعت شروع ہوتی ہے، نیب پراسیکیوٹر اپنے دلائل میں بتاتے ہیں کہ ملزمان کی طرف سے معزز عدالت میں ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے درخواست دی گئی تھی کہ عدالت اس معاملے کو بعد میں دیکھے عدالت نے اُس وقت ٹرسٹ ڈیڈ کو ایون فلیڈ سے علیحدہ کر لیا تھا عدالت نے بعد میں کوئی نوٹس نہیں لیا اب عدالت اس پر نوٹس لے۔

وکیل صفائی امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ فیصلہ آنے کے بعد تیس دن کا وقت ہوتا ہے اس میں فریقین اپیل کر سکتے ہیں، نیب یہ حق کھو چُکا ہے۔ ایک سال کے بعد انھیں یاد آیا۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ویڈیو آنے کے بعد شاید تیس دن کا وقت ان کو یاد آیا عدالت میں موجود ہر شخص ویڈیو کے نام پر مسکرا دیا۔

مریم نواز روسٹرم پر جاتی ہیں جج سے اجازت لے کرنیب پراسیکیوٹر سے مخاطب ہوتی ہیں کہ عباسی صاحب ایک سال بعد آپ کو یاد آیا جس پر نیب پراسیکیوٹر جواب دیتے ہیں کہ میں عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جج صاحب دس منٹ کا وقت لیتے ہیں کہ فیصلہ سنانے کا مگر حیران کن طور پر جج صاحب اپنے چمیبر سے دو منٹ میں ہی واپس آتے ہیں اور درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 76 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui