ورچوئل منڈی


یہ فیس بک ہے یا کوئی بازار کھلا ہے۔ یہاں سب بکتا ہے۔ رنگ برنگی دکانوں پہ ملا بھی ہیں، ملحد بھی، قدامت پرست بھی اور جدیدیت کے گن گاتے لوگ بھی، کوئی بیچتا ہے سیاست تو کسی کی دکان پہ سائنس کا رنگ چڑھا ہے۔ فلسفیوں کی اپنی اک منڈی ہے الجھی سی سلجھی سی، آدم بیزاروں کی بھی اپنی بیٹھک ہے کہنے کو مردم بے زار لیکن اپنی ہر بات سنانے کو بے قرار۔ شاعروں نے بھی دکان کھولی ہے، جان ڈن سے تو کبھی ماڈرن بدیسی شاعروں سے مستعار خیالات کو اپنی زبان کا جامہ پہنا کے لہک لہک کے شاعری بیچتے نظر آتے ہیں۔

ٹک ٹاک نے ہر گھر، ہر فرد میں چھپے اداکار کو بیدار کیا ہے۔ آنٹی، انکل، بچے بچیاں سب فنکار بنے ہیں۔ ویوز کی دوڑ ہے کہیں پہ تو کہیں لائیک اور کمنٹ کا جھگڑا۔ کھانا کھایا تصویر لگاؤ۔ بال بنائے، سو کے اٹھے، کام پہ گئے، تفریح کی، اداس ہوئے، خوش ہوئے، کسی سے بیزار ہیں یا مشتاق سٹیٹس اپ ڈیٹ ضروری ہے۔ اپنی پروموشن ضروری ہے۔

کپڑوں، جوتوں، میک اپ، ہوم اپلائنسز، ہر چیز آن لائن دستیاب ہے۔ حسن سنوارنا ہو یا گھر کا نل ٹھیک کروانا ہو یہیں سب سہولت میسر ہے۔ ایک اصول ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ تو دکھانے کو بہترین ہونا لازم ہے۔ چاہے اردگرد کے لوگوں کو کاٹ کھانے کو دوڑیں لیکن فیس بک پہ سوئٹ ہونا ضروری ہے۔ گھر میں سر سے دوپٹہ سرکنے پی آنکھیں نکالیں لیکن یہاں فرد کی آزادی پہ تقریر لازم ہے۔ دنیا جہاں کے جھوٹے ہوں لیکن یہاں آوٹ سپوکن اور خود کو سچا ثابت کرنا ضروری ہے۔

ہر فرد کی زندگی میں سی سی ٹی وی کیمرے کا کردار ادا کر رہے ہوں لیکن یہاں پرسنل سپیس کا شور کرنا لازم ہے۔ یہ منڈی مختلف منڈی ہے یہاں طلب و رسد کے توازن کا جھگڑا نہیں ہے۔ رسد طلب سے قطعاً بے بہرہ ہے۔ طلب ہو نہ ہو رسد نہیں رکتی پورے زور و شور سے جاری رہی ہے۔ اسے ٹرینڈ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایک بہت ہی عارضی اور کھوکھلا ٹرینڈ جس کی زندگی چار پانچ دن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس منڈی میں کساد بازاری نہیں ہوتی۔

طلب خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ مجبوراً پروان چڑھتی ہے کہ ایک موضوع جو پیک پہ ہے بات نہ کی تو بوسیدہ کہلائے گے ہم۔ یہاں کی کرنسی واہ واہ شاباش، ہے۔ لائیک کا بٹن ہے اور کمنٹس ہیں۔ نہ ملے تب بھی مسئلہ نہیں۔ متنازعہ باتیں گالم گلوچ، غصے کے ری ایکشن بھی اپنی پروڈکٹ کو لائم لائٹ میں رکھتے ہیں۔ لوگ چاہے بھی تو اگنور نہیں کر پاتے۔ رنگ رنگ کی بولیاں بولتے۔ اپنی جانب توجہ مبذول کرواتے۔ اپنی سوچ خیال، احساس، رائے، کو بیچتے رنگ برنگ دکاندار۔

ورچول دنیا کی منڈی کے بیوپاری۔ جو خسارے سے ناآشنا ہیں۔ ابھی سوچنا بھی نہیں چاہتے کہ خسارہ اور منافع کیا ہے۔ یہاں سب بیچتے ہیں اور یہاں سب ہی بکتا ہے۔ ورچول دنیا کی حسین منڈی جو رنگ برنگ سجی ہے۔ سب کی ہے سب کی پہنچ میں ہے۔ قیمت بڑھنے کا شکوہ ہے نہ ہی پہنچ میں نہ ہونے کا جھگڑا۔ یہ ہائیڈ پارک ہے تو کسی کا یوٹوپیا۔ خریدتے بیچتے اپنے وقت کو اس بازار میں گزارتے۔ خود گزر رہے ہیں یا وقت انہیں گزار رہا ہے۔ جو بھی یہ حسین جگہ ہے جنت ہے خواہ شداد کی ہی کیوں نہ ہو یا جام جمشید ہے جس میں سب دکھتا ہے۔ تبھی بکتا ہے۔

Facebook Comments HS