سیلز ٹیکس اصل میں کون دیتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے پچھلے مضمون (ٹیکس نظام کو سمجھیں ) میں میں نے وضاحت کی تھی کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ایک بلاواسطہ (ڈائریکٹ) اور دوسرا بالواسطہ (انڈائریکٹ) ۔ میں نے مزید کہا تھا کہ اشیا کی خرید و فروخت پر عاٰئد کیا جانے والا سیلز ٹیکس ایک بالواسطہ ٹیکس ہے۔ سیلز ٹیکس کے بنیادی اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے آج یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل میں سیلز ٹیکس کا بوجھ کس پر پڑتا ہے۔

سیلز ٹیکس کے نظام کو سمجھنے کے لئے ہم روئی سے دھاگہ، دھاگے سے کپڑا، اور کپڑے سے ایک سلائی شدہ لباس کی تیاری کی مثال لیتے ہیں۔ پہلے ہم فرض کرتے ہیں کہ حکومت کوئی ٹیکس نہیں لے رہی۔ روئی سے سلائی شدہ لباس کی تیاری تک مختلف مراحل پراشیا کی قیمتِ فروخت اور تاجروں کے منافع کا میزانیہ کچھ اس طرح تیار کیا جا سکتا ہے۔

ایک تاجر زبیر (فرضی نام) روئی سے دھاگہ بناتا ہے۔ فرض کریں روئی کی قیمتِ خرید، مزدوری اور دیگر اخراجات کے بعد دھاگے کی کل پیداواری لاگت 400 روپے ہے۔ زبیر 100 روپے منافع لے کر یہ دھاگہ 500 روپے میں ایک دوسرے تاجر طلحہ (فرضی نام) کو فروخت کر دیتا ہے۔

طلحہ اس دھاگے سے کپڑا بناتا ہے۔ مزدوری اور دیگر اخراجات کے بعد کپڑے کی کل پیداواری لاگت 800 روپے ہے۔ طلحہ 200 روپے منافع لے کر یہ کپڑا 1000 روپے میں ایک تیسرے تاجر جاوید (فرضی نام) کر فروخت کر دیتا ہے۔

جاوید اس کپڑے سے سلائی شدہ لباس تیار کرتا ہے۔ مزدوری اور دیگر اخراجات کے بعد لباس کی کل پیداواری لاگت 1600 روپے ہے۔ جاوید 400 روپے منافع لے کر یہ لباس 2000 روپے میں اپنی بوتیک پر سعدیہ (فرضی نام) کو فروخت کر دیتا ہے۔

اس گوشوارے کا خلاصہ کچھ یوں ہے :

دھاگے کی پیداواری لاگت: 400 روپے

دھاگے کی قیمتِ فروخت: 500 روپے

زبیر کا منافع: 500 منفی 400، یعنی 100 روپے

کپڑے کی پیداواری لاگت: 800 روپے

کپڑے کی قیمتِ فروخت: 1000 روپے

طلحہ کا منافع: 1000 منفی 800، یعنی 200 روپے

لباس کی پیداواری لاگت: 1600 روپے

لباس کی قیمتِ فروخت: 2000 روپے

جاوید کا منافع: 2000 منفی 1600، یعنی 400 روپے

سعدیہ کے لباس خریدنے پر اخراجات: 2000 روپے

حکومت کی ٹیکس آمدن: 0 روپے

اب فرض کریں کہ حکومت ان تینوں تاجروں کی فروخت پر 10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کر دیتی ہے۔ اس عمل سے اوپر دیا گیا میزانیہ کچھ اس طرح سے تبدیل ہو جائے گا۔

دھاگے کی پیداواری لاگت: 400 روپے (زبیر کی خرید پر کوئی ٹیکس نہیں لگا)

دھاگے کی قیمتِ فروخت: 550 روپے ( 10 فیصد شرح سے 500 روپے پر 50 روپے ٹیکس، جو زبیر دھاگا فروخت کرتے وقت طلحہ سے وصول کرے گا اور حکومت کو جمع کروائے گا)

حکومت کی ٹیکس آمدن: 50 روپے

زبیر کا منافع: 550 منفی 400 منفی 50، یعنی 100 روپے

کپڑے کی پیداواری لاگت: 850 روپے

دھاگے کی قیمتِ فروخت: 1100 روپے ( 10 فیصد شرح سے 1000 روپے پر 100 روپے ٹیکس، جو طلحہ کپڑا فروخت کرتے وقت جاوید سے وصول کرے گا، اس میں سے اپنا ادا کیا ہوا 50 روپے ٹیکس ایڈجسٹ کرے گا اور باقی 50 روپے حکومت کو جمع کروائے گا)

حکومت کی ٹیکس آمدن: 50 روپے

طلحہ کا منافع: 1100 منفی 850 منفی 50، یعنی 200 روپے

لباس کی پیداواری لاگت: 1700 روپے

لباس کی قیمتِ فروخت: 2200 روپے ( 10 فیصد شرح سے 2000 روپے پر 200 روپے ٹیکس، جو جاوید لباس فروخت کرتے وقت سعدیہ سے وصول کرے گا، اس میں سے اپنا ادا کیا ہوا 100 روپے ٹیکس ایڈجسٹ کرے گا اور باقی 100 روپے حکومت کو جمع کروائے گا)

حکومت کی ٹیکس آمدن: 100 روپے

جاوید کا منافع: 2200 منفی 1700 منفی 100، یعنی 400 روپے

سعدیہ کے لباس خریدنے پر اخراجات: 2200 روپے

سیلز ٹیکس لگنے کا سعدیہ پر اثر: لباس کی قیمت میں 200 روپے اضافہ

حکومت کی کل ٹیکس آمدن: 50 جمع 50 جمع 100، یعنی 200 روپے

اس گوشوارے سے واضح ہے کہ حکومت کے 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے سے لباس کی قیمت 200 روپے بڑھ گئی اور یہ 200 روپے مکمل طور پر حتمی خریدار (سعدیہ) نے حکومت کو ادا کیے۔ دھاگے سے کپڑا بنانے والے تینوں تاجر ٹیکس اکٹھا کرنے کے عمل کا حصہ ضرور بنے، مگر ان میں سے کسی نے بھی خود کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ نہ ہی ان میں سے کسی کے منافع میں کوئی کمی واقع ہوئی۔

بالواسطہ ٹیکسز جیسا کہ سیلز ٹیکس، سروسز ٹیکس، انٹرٹینمنٹ ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی، سٹامپ ڈیوٹی وغیرہ، کو جمع کرنے کے عمل میں مختلف لوگ حصہ دار تو ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان سب بالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ صرف حتمی خریدار پر ہی پڑتا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تمام طبقات کو یکساں اصولوں پر ٹیکس نظام کے دائرہ کار میں لانے کے لئے بلاواسطہ ٹیکسز کے نظام کو بتدریج مضبوط کرنا اور بالواسطہ ٹیکسز کو بتدریج کم کرنا ضروری ہے۔

نوٹ 1 : پاکستان میں رائج سیلز ٹیکس نظام اِن پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیلز ٹیکس کا گوشوارہ جمع کرواتے ہوئے ہر تاجر کو اجازت حاصل ہے کہ وہ اپنی فروخت پر جمع شدہ ٹیکس میں سے اپنی خرید پر ادا کردہ ٹیکس منہا کر لے اور صرف باقی ٹیکس حکومت کو ادا کرے۔

نوٹ 2 : اس گوشوارے کی تیاری میں ایک مفروضہ یہ ہے کہ سیلز ٹیکس لگنے سے لباس کی قیمت بڑھنے کے باوجود سعدیہ اسے خریدتی ہے۔ حقیقی زندگی میں قیمت بڑھنے سے اشیا کی فروخت کے حجم پر کچھ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •