سرکار کی منظور شدہ گالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صاحب اور صاحبہ کی تکرار میں عورت پس رہی ہے۔ عوامی سطح پر دی جانے والی گالی سرکار کی منظور شدہ گالی بنتی جا رہی ہے۔ ریاست پاکستان کے سیاسی لیڈر اسے استحکام بخش رہے ہیں۔ گالیوں کا حوالہ دے کر بہت سارے لکھاری اس پر تنقید کرتے ہوئے سنجیدہ بات بھی کرتے ہیں تو بھی گمان ہوتا ہے کہ وہ بھی گالیاں ہی دے رہے ہیں، گالیاں لکھ رہے ہیں۔ کچھ مزہ لینے کے لئے بھی لکھ چکے ہیں۔ اور بہت سارے تفریح طبع کے لئے بھی اپنی بساط کے مطابق اس پر قلم آزمائی کر رہے ہیں۔ یقین کریں میرا اس پر لکھنے کا قطعًا ارادہ نہیں تھا۔ کہ عورت ذات کے حوالے سے بظاہر اس کی حمایت میں جو کچھ لکھا جارہا ہے وہ پڑھنے کے قابل بالکل نہیں۔ سو میں ایسی حمایت کرنے سے پناہ چاہتی ہوں جس میں حمایت کے نام پر بھی گالیوں کا پلندہ پڑھنے کو مل جائے۔ چند روز قبل ایک ٹاک شو میں خصوصی معاون برائے اطلاعات و نشریات غلامی کی سند لینے کے لئے اپنی ہی جیسی دوسر ی ہم عصر خاتون مریم بی بی کے نام کے ساتھ مختلف سابقے لاحقے لگاتی رہیں تو میرا پچھلا غم بھی تازہ ہوگیا۔ جب بلاول صاحب کو ایک عوامی جلسے میں وزیر اعظم نے ”صاحبہ“ کہہ کر پکارا تھا۔ ”عورت“ کے لئے یہ لقب ذرا اچھا نہ لگا۔

عورت کو نازیبا الفاظ میں پکارا جانا بد تہذیبی ہی نہیں جاہلیت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اور اس پہ مستزاد یہ کہ کسی مرد کو چڑانے کے لئے عورت کہہ دیا جائے۔ یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے کہ سرکاری سطح پر کبھی کسی صاحب کو صاحبہ کہہ کر پکارا جائے، اور کبھی براہ راست کسی صاحبہ کی تذلیل کی جائے۔ ایسے میں عوام پر مسلط کیے جانے والے لیڈروں کی سیاسی بصیرت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آچکی ہے کا نعرہ لگانے والوں نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ سچ میں تبدیلی آ چکی ہے۔ کہ جو باتیں، گالم گلوچ عام لوگ، عام سیاسی ورکرز گلی محلے کی سطح پر کرتے تھے۔ سیاسی لیڈرز بھرے مجمع میں کرنے سے گھبراتے تھے۔ وہ اعلی سطح پر وزیر اعظم کی زبان سے ادا ہونا شروع ہوجائیں تو مان لیں پھر کہ تبدیلی آچکی ہے۔ کنٹینر کی سیاست ایوان کے اقتدار تک کیا پہنچی، کنٹینر پہ بولی جانے والی غیر مہذب زبان بھی ان کے ساتھ ایوان میں آگئی۔ یوں لگتا ہے کہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو کربھی یہ لوگ ابھی تک کنٹینر پہ چڑھ کے بولنے کا لطف لیتے ہیں۔ پوری دنیا میں بہترین سیاسی لیڈر اسے مانا جاتا ہے جو سیاسی فہم و شعور رکھتا ہو۔ مضبوط دلائل سے دوسروں کو قائل کرنے والے اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے لیڈر ہوتے ہیں۔ شعلہ بیان مقرر کامیاب سیاسی لیڈر ہوتا ہے۔ مگر اس کی شعلہ بیانی سے کسی کا دامن نہیں جھلسنا چاہیے۔ مقررکے لفظ جوش دلاتے ہیں۔ اور اس کا لہجہ پر تاثیر ہوتا ہے۔

ایسے ایسے سیاسی لیڈر گزرے ہیں کہ لوگ انھیں سننے کے لئے ساری ساری رات بیٹھتے تھے۔ اور پن ڈراپ سائلنس سے سنتے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں بہترین سیاسی لیڈر اسے مانا جانے لگا ہے جس کی زبان شعلے اگلتی ہو۔ سیاسی بصیرت رکھنے والے تو متروک ہو چکے۔ شعلہ بیان مقرر بھی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اب شعلہ زبان مقرر سامنے آگئے ہیں۔ جن کی زبان شعلے اگلتی ہے۔ اور یہ شعلہ اگلتی زبانیں دوسروں کی ذات کو جھلسا کر رکھ دیتی ہیں۔ گذشتہ حکومت میں بھی ایسے بہت سارے شعلہ زبان موجود تھے اور موجودہ حکومت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی زبانیں شعلہ اگلتی رہتی ہیں۔ ہمیں کسی اداکارہ سے دلچسپی ہے۔ نہ مریم بی بی سے کوئی خاص انسیت ہے۔ اور نہ ہی وزیر اعظم کا بلاول کو صاحبہ کہنے پر اعتراض۔ ہمیں دکھ صرف عورت ذات کی توہین کرنے پر ہے کہ اعلی سطح پر اخلاقی زوال کے اشارے مل رہے ہیں۔ جو ذہنی و اخلاقی پستی میں گرنے کے آثار ہیں۔

جس معاشرے میں سرکاری سطح پر اخلاقی پستی دکھائی دینا شروع ہو جائے۔ اس معاشرے کی عوامی ذہنیت کا کیا حال ہوگا۔ اگر قومی راہنما کی حیثیت سے ملک کا وزیر اعظم عوامی جلسوں میں ایسی گفتگو شروع کر دے۔ تو اس معاشرے کے مردوں کی ذہنی پسماندگی کا اندازہ کرنا مشکل کام نہیں۔ کہ وہ عورت کو کس قدر حقیر جانتے ہیں۔ کہ اگر مرد کو طیش دلانا ہے، اس کی غیرت کو للکارنا ہے تو اسے عورت کہہ دو۔ اور بس پھر تماشا دیکھو۔ پھر وہ مرد اپنی ذات سے عورت کا لیبل اتارنے کے لئے عورت ہی کو استعمال کرتے ماں بہن کی گالیاں دینا شروع کر دے گا۔ بھلا ہو بلاول صاحب کا جنھوں نے ایسی ”دانشمندی“ کا ثبوت نہیں دیا۔ اور ایسی کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ میں نے پہلے بھی عرض کی کہ اس بیانے پر کالم نہیں لکھنا تھا۔ کہ یہ خالص سیاسی لڑائی ہے۔ اور اس سیاسی لڑائی میں کودنے والوں کا وہی حال ہوتا ہے جو میاں بیوی کی لڑائی میں کودنے والوں کا ہوتا ہے کہ صلح کروانے والے تو بے عزت ہو جاتے ہیں جبکہ میاں بیوی محبت کے عہد و پیمان باندھنے کے لئے رات کو دس سے ایک فلم کا شو دیکھنے سینما چلے جاتے ہیں۔ سیاستدانوں کی لڑائی میں ہم جیسوں کا کودنا سراسر حماقت ہے۔ کہ یہ لوگ بھی میاں بیوی کی طرح اندر سے ایک ہی ہوتے ہیں۔ ان کے مفادات ایک، القابات ایک، یہاں تک کہ طریقہ واردات بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔ بس موقع اپنا اپنا ہوتا ہے۔ طنز، بدزبانی، گالم گلوچ، بد تہذیبی سیاست میں اس طرح شامل ہوچکی ہے۔ جیسے کسی انسان کے جسم میں خون۔ افسوس کہ سب سیاستدان سماجی کاموں سے ہٹ کر ذاتیات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ کہ جب معزز ایوان میں اشرف المخلوقات کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے ”نر کے بچے“ کو شاباشی دی جائے۔

جب عوامی جلسوں میں عوامی مسائل پر بات کرنے کی بجائے مردوں کے طعنہ کے طور پر ”صاحبہ“ کہہ کر پکاراجائے۔ اور جب ٹاک شو میں بیٹھ کر کسی بھی خاتون کو نازیبا الفاظ میں پکارا جائے۔ اور پھر ”نر کے بچے“ ماداؤں کا سہارا لیکرایسا ایسا مواد لکھتے جائیں کہ انسان پڑھتا جائے اور شرماتا جائے۔ وہ گالم گلوچ جسے مرد عالم طیش میں زبان سے ادا کریں، پرنٹ، والیکٹرانک میڈیا اس کو چھاپنا شروع کردے، پیمرا خاموش رہے اور سرکار توجہ ہی نہ دے۔ تو عورت کی اہانت کے لئے بولے جانے والے الفاظ سرکار کی منظور شدہ گالی بن جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •