عدلیہ کٹہرے میں: فیصلہ بھی ججوں کو کرنا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم جوڈیشل کونسل نے وکلا کے احتجاج اور سول سوسائٹی کی شدید تشویش کے باوجود سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کئے ہیں اور دو ہفتے کے اندر ان الزامات کا جواب دینے کی ہدایت کی ہے جو صدر عارف علوی کے ریفرنسز میں عائد کئے گئے تھے۔ ان صدارتی ریفرنسز میں مبینہ طور پر ان دونوں ججوں کی بیرون ملک ایسی املاک پر اعتراض کیا گیا ہے جنہیں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

البتہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک نئے ریفرنس میں بھی اظہار وجوہ کا نوٹس بھجوایا گیا ہے جو لاہور کے ایک وکیل وحید شہزاد بٹ نے آئین کی شق 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا۔ اس ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے صدر عارف علوی کو لکھے گئے دو خطوں کو ججوں کے ضابطہ اخلاق سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔ ان خطوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریفرنس کے بارے میں میڈیا میں خبریں فراہم کرنے اور نامکمل معلومات کی بنیاد پر معزز جج اور ان کے اہل خاندان کے خلاف پروپیگنڈا مہم پر احتجاج کیا تھا۔

صدر عارف علوی کے نام دوسرے طویل خط میں جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ ان پر اپنی بیوی اور بچوں کے اثاثے ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ لیکن کیا ملک کے وزیر اعظم نے بھی اپنی تمام ٹیکس ریٹرنز میں اپنی بیویوں اور بچوں کی املاک کا ذکر کیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو وہ صدر کو کیسے ان کے خلاف ان الزامات میں ریفرنس بھیجنے کا مشورہ دے سکتے ہیں؟ ان خطوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جوڈیشل کونسل کی طرف سے کسی کارروائی سے پہلے ہی صدارتی ریفرنسز کی خبر عام کر کے منصفانہ ٹرائل اور ججوں کو حاصل آئینی تحفظ کی خلاف ورزی کی گئی۔

ایک طرف ملک کے وکلا اور ان کی تنظیمیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے قابل اعتبار اور ایماندار جج کے خلاف ریفرنس بھیجنے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت سے پہلے ہی ان پر مباحث کا آغاز کرنے پر سیخ پا تھے اور ریفرنسز کو مسترد کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن دوسری طرف حکومت وزیر قانون فروغ نسیم کے ذریعے ملک بھر میں وکلا کی مختلف تنظیموں میں فنڈز تقسیم کرکے، ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ایک ایسے موقع پر جب متعدد وکلا لیڈر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی سماعت کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور کونسل میں شامل ججوں سے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنسز کو مسترد کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور یہ دھمکی دی جا رہی تھی کہ اگر ججوں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ عدلیہ کی خود مختاری پر حملہ ہوگا اور ملک بھر کے وکیل اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان ریفرنسز پر مختلف سماعتوں کے دوران ریفرنسز کی کاپیاں نذر آتش کرنے اور احتجاج کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

اسی موقع پر حکومت کی طرف سے سرکاری وسائل کو وکلا تنظیموں میں تقسیم کرنے کا آغاز کیا گیا اور وزیر قانون نے اسے مختلف بار کونسلز کے رکے ہوئے فنڈز جاری کرنے کا نام دیا۔ وزارت قانون کے اس اقدام سے وکیل اور ملک کے عوام بخوبی یہ اندازہ کر سکتے تھے کہ حکومت ججوں کے خلاف ریفرنسز کے سوال پر وکلا کی تنظیموں کو اختلاف کے ذریعے کمزور کرنا چاہتی ہے۔ تاکہ حکومت اور ملک کے طاقتور حلقوں کی خواہش کے مطابق اگر ججوں کے خلاف فیصلہ جاری ہو جائے تو وکیلوں کو ایک نئی تحریک چلانے سے روکا جا سکے۔

2007 میں پرویز مشرف کی طرف سے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کرنے کی کوشش کے بعد ملک بھر کے وکیلوں نے منظم اور طاقتور عدلیہ بحالی تحریک چلائی تھی۔ اس تحریک کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی وسیع حمایت بھی حاصل ہوگئی تھی۔ دراصل یہی تحریک اقتدار پر پرویز مشرف کی گرفت کو کمزور کرنے کا سبب بنی تھی۔ حکومت بجا طور سے اس اندیشے کا شکار ہے کہ ایک خود مختار جج کے خلاف کسی کارروائی سے وکلا کسی نئی مہم کا آغاز کرسکتے ہیں جو ملک میں سیاسی بے چینی کو دوچند کرنے اور حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

لاہور کے ایک وکیل کی طرف سے جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ کے خلاف دوسرا ریفرنس بھجوانے کا مقصد بھی وکیلوں میں اختلافات کو واضح کرنے کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے بچوں اور بیوی کے نام بیرون ملک جائیدادوں کا مناسب جواب فراہم کر دیا تو ان کے خلاف ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کوئی دوسرا بہانہ موجود ہو۔ اس طرح سپریم جوڈیشل کونسل کا کام آسان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر سپریم جوڈیشل کونسل نے بھی لاہور کے اس وکیل کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزام کی شکل دی ہے اور معزز جج سے اس بارے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل ان معاملات میں جو بھی فیصلہ صادر کرے لیکن اس بارے میں عام رائے بہت واضح ہے۔ یہ سمجھا اور قرار دیا جارہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ کے خلاف ریفرنس کی بنیادی وجہ ان کا خودمختارانہ طرز عمل ہے جس کا اظہار وہ مختلف فیصلوں میں کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس سال کے شروع میں فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی طرف سے انہوں نے جو فیصلہ تحریر کیا تھا وہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے علاوہ  ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بھی ناگوار گزرا تھا۔ اس فیصلہ میں فیض آباد دھرنا کا موازنہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے طویل دھرنے اور مئی 2007 میں کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری سے کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اگر ریاستی ادارے ان مواقع پر ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لئے مؤثر کارروائی کرتے تو فیض آباد دھرنا کی نوبت نہ آتی۔ جس میں تین ہفتے تک دارالحکومت میں امور زندگی معطل کئے گئے تھے۔

اس فیصلہ میں دو رکنی بنچ نے وزارت دفاع کے ذریعے مسلح افواج کے سربراہان کو بھی حکم دیا تھا کہ فیض آباد دھرنے کے دوران اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والے افسروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے۔ حکومت یا مسلح افواج نے ابھی تک اس فیصلہ پر عمل درآمد کے حوالے سے تو کارکردگی دکھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی البتہ تحریک انصاف اور آئی ایس آئی نے اس فیصلہ پر اعتراض کرتے ہوئے نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ سپریم کورٹ کی روایت کے مطابق وہی بنچ ایسی اپیلوں کی سماعت کرتا ہے جو معاملہ کی سماعت کے بعد فیصلہ دے چکا ہو۔ اس طرح ان اپیلوں کی سماعت بھی جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ کو ہی کرنا ہے۔

ابھی تک نظر ثانی کی ان درخواستوں کو سماعت کے لئے مقرر نہیں کیا گیا تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور اظہار وجوہ کے نوٹس بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔ یہ سوال بھی فضا میں معلق رہے گا کہ کیا یہ ریفرنس اور ان کی سماعت کے نتیجہ میں آنے والا فیصلہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کو تبدیل کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

ملک میں ججوں کی بے قاعدگی یا بدعنوانی کے خلاف معاملات پر سپریم جوڈیشل کونسل ہی حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ادارہ ہے۔ اسی لئے کونسل کی کارروائی کو خفیہ رکھا جاتا ہے اور اس سوال کا جواب بھی فراہم نہیں کیا جاتا کہ کس معاملہ پر کیا فیصلہ ہؤا اور اسے کتنے عرصہ بعد قابل سماعت سمجھا گیا۔ بعض معاملات ججوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد تک زیر التوا رہتے ہیں۔ لیکن اہل پاکستان نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر کوئی جج آئی ایس آئی پر الزام تراشی کا ’مرتکب‘ ہوجائے تو اس معاملہ کی تحقیق کرنے اور تمام سچائی سامنے لانے کی بجائے اس جج کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے مس کنڈکٹ کے الزام میں برطرف کردیا جائے۔ معزول کئے گئے جج شوکت صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج تھے اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے تھے۔ اسی طرح اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو معزول نہ کیا گیا تو وہ بھی اگست 2023 میں سپریم کورٹ کےسربراہ بن سکتے ہیں۔

دو روز پہلے ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فرمایا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج بہت باہمت ہیں اور کسی بھی نازک معاملہ پر انصاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ دو ہفتے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کے معاملہ کا فیصلہ کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ججوں کی اسی ہمت کا امتحان ہوگا۔ اس موقع پر طے ہوجائے گا کہ ملک میں سیاسی و اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے بعد عدلیہ کی خود مختاری محدود کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے، اعلیٰ عدالتوں کے جج اسے ناکام بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ماضی کی طرح وہ بھی نظریہ ضرورت کے محتاج رہتے ہیں۔

 اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ عدالتیں کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ اور حکم بھی انہی کو صادر کرنا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ ججوں کے قول و فعل میں کتنا تال میل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1210 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali