تاریخ وعدہ معاف گواہ نہیں بنتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قلم اٹھاتا ہوں تو قد آدم سے کچھ زیادہ قامت رکھنے والے وہ مہربان چہرے آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں جو اب نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ اس سے رات کا اندھیارا دور نہیں ہوتا اور دن کی بے آبرو فحاشی کی خجالت کم نہیں ہوتی مگر یہ حوصلہ ضرور ملتا ہے کہ آنے والے کل کی جستجو میں آج کی تاریکی سے کشمکش ہمارے پرکھوں کی امانت ہے۔ اب دیکھئے، کہنا تو یہ تھا کہ دار و رسن کا موسم لوٹ آیا ہے۔ دریدہ دامن دردمندوں کی سرخروئی کے دن آن پہنچے۔ کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست۔ جو آج سرکشیدہ نہ ہوا، جس نے آج پکار کے کتاب احتساب میں اپنا نام اور پتہ نہ لکھوایا، اس کی زیست رائیگاں اور دعوے باطل قرار پائیں گے۔ مگر یہ کہ حرف گفتہ پر تعزیر لگی ہے۔ یہ گل خان نصیر، شیخ ایاز، قلندر مومند اور حبیب جالب کو یاد کرنے کی گھڑی تھی۔ مگر قلم پر کسے اختیار ہے۔ بے ساختہ سجاد باقر رضوی یاد آ گئے۔ پوچھتے کیا ہو باقر کے شام و سحر، وہ بہت دل گرفتہ تھے پہلے مگر، بس کسی طور مر مر کے جیتے رہے، بس کسی طور گر گر سنبھلتے رہے۔

جب یہ سطریں آپ کی نظر سے گزریں گی تو وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے لئے عازم سفر ہو چکے ہوں گے۔ 22 جولائی کو انہیں امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ سے ایک مختصر ملاقات کرنا ہے۔ پاکستان امریکا تعلقات کی طویل تاریخ میں جولائی کے مہینے کو ایک دلچسپ اہمیت حاصل رہی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جولائی 1961 ءمیں امریکا کا پہلا دورہ کیا تھا جب جان ایف کینیڈی کے ساتھ معاملت کی خبروں کو ایوب خان اور جیکولین کینیڈی کی گھڑ سواری کی خوشگوار جھلکیوں میں چھپا دیا گیا تھا۔

1971 کے تیرہ و تاریک برس میں جب یحییٰ خان کی پیشہ ورانہ قیادت میں قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو رہا تھا، ہنری کسنجر نے جولائی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ دراصل کسنجر کے خفیہ دورہ پیکنگ کی ڈرامائی تلبیس تھا۔ اس خفیہ دورے سے امریکا اور چین میں پچیس برس پر محیط برف پگھل گئی اور پاکستان کو یہ خوش فہمی لاحق ہو گئی کہ بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکا اس احسان عظیم کا صلہ ضرور دے گا۔ یہ خود فریبی تھی۔ امریکا کا ساتواں بحری بیڑا مشرقی پاکستان نہیں پہنچا اور ڈھاکہ ڈوب گیا۔ محمد خان جونیجو نے جولائی 1986 میں امریکا کا دورہ کیا تھا۔ سویلین وزیر اعظم کا یہ دورہ جنرل ضیا الحق کے دل میں شکوک و شبہات کے وہ بیج بو گیا جو مئی 1988 میں بارآور ہوئے۔

1999 میں نواز شریف جولائی ہی میں بل کلنٹن سے ملنے امریکا گئے تھے۔ وہ کارگل کی جان گسل برفانی چوٹیوں سے پاکستان کے ہزاروں بہادر بیٹے بچا لائے لیکن تین ماہ بعد اپنی حکومت نہیں بچا سکے۔ کیونکہ ایک دبنگ اہل کار کے لفظوں میں انہیں یہ سمجھانا مقصود تھا کہ آئین کیا ہوتا ہے اور قانون کسے کہتے ہیں۔ نواز شریف یہ سبق نہیں سیکھ سکے، نتیجہ یہ کہ کوٹ لکھپت جیل میں بند ہیں اور خوش خصال حریف امریکا کی ہواؤں میں اڑانیں بھرتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی بھی جولائی 2008 میں امریکا گئے تھے۔ اس پر ہم نے پھبتیاں کسی تھیں کہ یوسف رضا کی انگریزی چست نہیں ہے۔ وزیراعظم گیلانی کا انگریزی خرام کوتاہ ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے اپنے کسی سیاسی حریف کو جیل میں نہیں ڈالا۔ 2008 میں بھی ہماری معیشت لڑکھڑا رہی تھے اور آئی ایم ایف کے ساتھ گفت وشنید جاری تھی۔ یوسف رضا نے پیچیدہ حالات میں سیاسی مفاہمت کے اصولوں پر چلتے ہوئے وفاق پاکستان کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی نعمت عطا کی۔ یہ ترمیم وفاق کی اکائیوں میں اعتماد کا وہ پل ہے جو 60 برس تک لاٹھی، گولی اور قید وبند کے حربوں سے باندھا نہیں جا سکا تھا۔

جولائی کا مہینہ اس برس بھی افراتفری اور انتشار کی کیفیت لئے ہوئے ہے۔ معیشت بری طرح ڈگمگا رہی ہے اور اقتصادی بحران کے گہرے بادلوں میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ دورہ امریکا سے اقتصادی امداد کی بحالی کی امید قرین قیاس نہیں۔ حکومت نے اپنی سیاسی اور انتظامی کمزوروں کو اختلافی آوازوں کے خلاف لاحاصل احتساب کی بے معنی مہم میں بدل دیا ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں ایک موہوم سا اندیشہ تھا کہ طاقت کے بل پر رونما ہونے والا بندوبست ابتدائی مراحل میں مثبت معاشی نتائج بھی دے سکتا ہے۔ یہ نتائج قلیل مدتی ضرور ہوتے ہیں لیکن ان سے آزمائش کا عرصہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک برس کے تجربے سے معلوم ہو گیا کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہونے جا رہا۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ معیشت کے ڈھانچے میں ایسی بنیادی کمزوریاں موجود ہیں کہ کسی صدری نسخے سے فوری افاقے کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سیاسی بساط پر مسلسل شکست کے باوجود پاکستان میں سیاسی روایت کا تسلسل موجود رہا ہے اور اس ملک کے باشندے اپنے حق حکمرانی سے کبھی دست بردار نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ کہ استبداد کا ہر تجربہ پاکستان میں ناکام ہوتا ہے۔ عوام عملی طور پر ہار جاتے ہیں لیکن قوم کے سیاسی اثاثے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لمحہ موجود میں ایک سخت گیر سیاسی بندوبست، آمرانہ رجحانات اور ریاستی طاقت کا بے محابا استعمال نوشتہ دیوار ہے لیکن تاریخ نے اس دیوار پر انمٹ روشنائی سے لکھ رکھا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انفرادی توسیع پسندی کی تسکین ممکن ہے لیکن قومی امکان کے پرِ پرواز پر گرہ نہیں لگائی جا سکتی۔

آئین 280 شقوں پر پھیلی ہوئی ایک مبسوط دستاویز ہے۔ جس میں بندوبست ریاست، شہریوں کے حقوق، اقتدار کی ترتیب اور اختیارات کی تقسیم صراحت سے بیان کی گئی ہے۔ چالیس برس پہلے ہماری تاریخ کے ایک مرد جری نے اس مقدس دستاویز کو بارہ صفحات کا ایک کتابچہ قرار دیا تھا۔ دستور اس خود ساختہ مسیحا کے استبداد سے زیادہ سخت جان نکلا۔ آج کچھ عالی دماغ اس دستوری نقشے کو ایک صفحے پر سمیٹنے کی کاوش کر رہے ہیں۔ اس کوشش کا انجام خوشگوار نہیں ہو سکتا۔ جب ریاست اور حکومت کا فرق مٹ جائے تو ریاست اور جمہور کے مفاد میں تصادم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مناقشے کا حتمی فیصلہ تاریخ کرتی ہے اور تاریخ وعدہ معاف گواہ نہیں بنتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •