امریکا میں عمران خان کی ریلی کا فائنانسر کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Capital One Arena in Washington, DC.

عمران خان کو پسند کرنے والے پاکستانی امریکن حلقوں میں اتوار کی تقریب میں ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ڈی ایم وی (ڈی سی میریلینڈ ورجینیا) نے عمران خان کے استقبال کی حکمت عملی میں تبدیلی بھی کی ہے اتوار کو اگرچہ عمران خان کو سیکرٹ سروس کی جانب سے سیکیورٹی دی جائے گی لیکن عنبر جمیل کہتی ہیں کہ وہ کافی نہیں ہے۔ ”ریگولیشن کے مطابق ایرینا میں سیکیورٹی کی متعدد تہیں ہیں جن کے لیے عملہ بڑی تعداد میں درکار ہے ساتھ ہی اتوار کے روز موسم انتہائی گرم رہے گا اس لیے لوگوں کو تیزی سے اندر لانا ہو گا، لاجسٹکس میں یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ “

چونکہ حکومت کفایت شعاری کا وعدہ نبھاتے ہوئے خرچ کرنے سے قاصر ہے لہذا یہ مالی ذمہ داری سید جاوید انور نے اپنے کندھوں پر لے لی ہے جسے وہ اکیلے ہی ادا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور امیرکن پاکستانی کمیونٹی ان کے اس اعلان پر مطمئن ہے۔

پی ٹی آئی ڈی ایم وی کے رکن جنید بشیر اس تقریب کے لیے مقرر کیے گئے قریباً ڈھائی سو رضاکاروں اور تقریب والے دن کے دیگر انتظامات کے نگران ہیں۔ امریکہ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد امریکی کسی پاکستانی سیاسی رہنما کی تقریر سننے جمع ہو رہے ہیں۔ دارالحکومت ڈی سی میں کم سے کم بیس ہزار لوگوں کو جمع کرنے کا بیڑا پی ٹی آئی ڈی ایم وی نے اٹھایا ہے۔

ایک ہفتہ قبل پی ٹی آئی ڈی ایم وی نے امریکی پاکستانیوں کو جلسہ میں دعوت دینے کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا۔ جنید بشیر کے مطابق ایک طرف جہاں گروپ پر گفتگو میں لوگ پارکنگ کے مسائل اور جلسہ گاہ کے اطراف اور راستے دریافت کر رہے ہیں وہیں کچھ افراد کا خیال ہے کہ عمران خان کو ان سے ذاتی طور پر بھی ملنا چاہیے تاکہ وہ انہیں مستقبل کے پاکستان کے لیے دوررس تجاویز دے سکیں۔ جنید بشیر کہتے ہیں کہ لوگوں کا مطالبہ جائز ہے اور انہیں منع نہیں کیا جا رہا ”اس واٹس ایپ گروپ میں شاہ محمود قریشی اور زلفی بخاری سمیت اس انتظامی کمیٹی کے تمام ارکان شامل ہیں جو اسلام آباد میں بنی ہے۔ لوگ اپنی باتیں اس گروپ میں کر رہے ہیں اور اپنی بات ان تک پہنچا رہے ہیں اور یہ آواز ان تک پہنچ رہی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں“

تقریب میں شرکت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے اور منتظمین کے مطابق بیس ہزار افراد کو جمع کرنے کا ہدف پورا کرنے میں اب چند ہزار ہی باقی بچے ہیں۔ ایرینا میں بیس ہزار لوگوں کی گنجائش ہے اور جنید بشیر کو امید ہے کہ ”ان کے علاوہ پانچ ہزار لوگ ایرینا کے باہر موجود ہوں گے“

تقریب کے دوران سٹیڈیم کے اندر پی ٹی آئی ڈی ایم وی سے منسلک ڈھائی سو رضاکار پچیس ٹیمز میں تقسیم ہو کر نگرانی کریں گے۔ سٹیج، بیک سٹیج، میڈیا ونگ اور سیکیورٹی جیسے دیگر اور معاملات کے بھی الگ سیکشن بنائے گئے ہیں۔ ڈی سی میں قائم پاکستانی سفارت خانہ اس موقع پر صحافیوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پریس کوریج کی درخواست کر چکا ہے۔

جہاں واشنگٹن ڈی سی میں عمران خان کے استقبال اور قیام پر جوش و خروش ہے وہیں کئی امریکی پاکستانی عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بھی سرگرم ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہفتے کے روز سے پیر تک دارالحکومت ڈی سی میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ ان مظاہروں کے منتظمین میں پاکستانی امریکن مسیحی، بلوچ اور مہاجر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ پشتون تحفظ تحریک سے منسلک افراد بھی شامل ہیں جو وائٹ ہاوس کیپیٹل ہل اور دیگر ایسی جگہوں پر عین اس وقت پاکستانی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنا چاہتے ہیں جب عمران خان ان مقامات پر امریکی حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہوں گے۔ امریکہ میں اس قسم کے مظاہروں کے لیے بھی باقاعدہ اجازت درکار ہوتی ہے۔ مظاہرے کے منتظمین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ اس سلسلے میں انتظار میں تھے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کی امریکہ آمد کا شیڈول جاری کیا جائے تاکہ اس کے مطابق یہ مظاہرے پلان ہو سکیں لیکن شیڈول نہیں ملا اور اب اجازت ناموں کے لیے وقت قلیل ہے لہذا ان مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سیاسی جماعت کے رہنما ہونے کے ناطے کسی دوسرے ملک میں اپنے پارٹی کارکنوں اور حامی عوام سے مخاطب ہونا عمران خان کی خواہش ضرور ہو سکتی ہے۔ جسے تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان کے حامی پاکستانی نژاد امریکی بھرپور جوش کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں لیکن کیا وزیر اعظم عمران خان یہ بات جانتے ہیں کہ اس جوش اور محبت کے بدلے امریکن پاکستانی ان سے کیا چاہتے ہیں؟

عنبر جمیل کہتی ہیں ”ایسی قوموں سے تعلق رکھنے والے امریکی جن کے امریکہ سے تعلقات بہتر ہیں اور جہاں معاشی ترقی ہوئی ہے وہ عملی کردار ادا کر رہے ہیں، اسرائیلی بھارتی یہاں تک کہ فلیپینو امریکن بھی اپنے ملک اور امریکہ دونوں میں پالیسی میکرز کو متعلقہ اور مطلوبہ ذرائع مہیا کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں تعلیم صحت اور معیشت کی پالیسیز کے لیے ایسے لوگوں کو اہمیت دی جائے جو امریکہ میں پلے بڑھے ہیں مگر پاکستان کی ثقافت اور حالات سے بخوبی واقف ہیں تو یہ مددگار ہو گا اور اس کے لیے اب ہم پاکستانی امریکیوں کو اور زیادہ تیزی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ “

لیکن پاکستان وہ ملک ہے جہاں عمران خان ہی کے دور حکومت میں گزشتہ سال ایسے ہی ایک امریکن پاکستانی عاطف میاں کو اس وقت معاشی مشاورتی کونسل سے برخاست کر دیا گیا تھا جب ان کے مذہب پر سوال اٹھنے لگے۔ اور بعد میں عاطف میاں نے میڈیا سے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا امریکی دورہ کتنے دن کا ہے؟ وہ کہاں جائیں گے کس سے ملیں گے؟ ملاقاتوں کا ایجنڈا کیا رہے گا؟ اور ان کے ساتھ وفد میں کون کون شامل ہے؟ اس بارے میں اب تک پاکستانی حکومت کی جانب سے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اگرچہ بائیس جولائی کو وائٹ ہاوس میں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ سے طے ہے لیکن حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے بظاہر پاکستانی حکومت اس وقت امریکہ میں پی ٹی آئی کا جلسہ کروانے پر زیادہ متوجہ نظر آتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •