ہیرلڈ مر گیا، ہیرلڈ زندہ باد!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دروازہ کھلتے ہی سب کچھ ایک تعزیت میں بدل گیا۔
جیسے میں ملاقات کے لیے نہیں، ماتم کے لیے آیا ہوں۔ کراچی کی کتنی ہی پرانی اور بہت دیکھی بھالی جگہیں دیکھتے دیکھتے اس طرح بدل گئی ہیں کہ اب وہاں جانے کا مطلب اپنے آپ کو اجنبی میں تبدیل ہوتے دیکھنا ہے۔ ہارون ہائوس میں واقع روزنامہ ڈان کے دفاتر بھی ایسا مقام بن گئے ہیں۔ طالب علمی کے دور میں متواتر جانا ہوتا تھا۔ سیکیورٹی کا انتظام بھی مشکل نہیں تھا اور وہاں کام کرنے والے دوستوں، بزرگوں سے ملنا اتنا آسان اور اس قدر لازمی تھا کہ ڈائو میڈیکل کالج سے موقع ملتے ہی میں دوپہر کے وقت وہاں پہنچ جاتا تھا۔ ڈان اخبار سے گہرا تعلق بچپن کے ان دنوں سے تھا جب اخبار پڑھنا سیکھ رہا تھا اور اپنے سامنے یہ اخبار پھیلا کر رکھنا اس بات کی نشانی کہ اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔ پہلے پہل مضمون لکھنا ’’مورننگ نیوز‘‘ کے لیے شروع کیا جہاں حمید زمان مرحوم نے صحافت کی زبان میں مجھے بائی لائن دی۔ اسی دوران ہیرلڈ کے دفتر جانے لگا جو ایسی آزاد جگہ تھی جہاں حالات حاضرہ اور سیاست دوران پر دل چسپ، تیکھی، تیز گفتگو چلتی رہتی تھی۔ اس ٹیم نے مجھ سے کہا کہ شہر میں شام کے وقت ہونے والی مختلف تقریبات میں سے چند ایک میں جائو اور اس کے بارے میں رپورٹ لکھ کر لائو۔ تقریبات کا احوال ’’کراچی ڈائری‘‘ کے نام سے چھپتا تھا۔ یوں میں نے ہیرلڈ میں رپورٹنگ سے آغاز کیا۔
سامنے کے کمرے میں جہاں قہقہے، چہچہے گونجتے رہتے، چائے کی پیالیاں کھنکتی رہتی تھیں وہاں ساجدہ زیدی، ثمینہ جعفری (اب اقبال) اور ریحانہ حکیم بیٹھتی تھیں۔ بعد میں ثمینہ ابراہیم، طاہرہ خان اور تہمینہ خان بھی آگئیں۔ جب رپورٹنگ سے بڑھ کر کتابوں پر تبصرے اور مضامین لکھنے لگا تو ریحانہ حکیم ان تحریروں کو ایڈٹ کرتی تھیں اور وہ جلد ہی میری دوست بن گئیں۔ اس کے بعد ایک چھوٹے سے کمرے میں رضیہ بھّٹی کی میز تھی۔ اکثر وہ باہر آجاتیں اور سب کے ساتھ باتیں کرنے لگتیں۔ ان کا نام جتنا بڑا تھا اتنی ہی ان کے مزاج میں خوش اخلاقی اور سادگی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھیں جو اپنی شخصیت کے رعب سے دوسروں کو بوجھوں مارتے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے سب آنے والوں کا استقبال کرتیں اور اس دفتر میں پھیلی ہوئی بظاہر بے فکری کے باوجود رسالے کا کام چلتا رہتا اور جب ڈیڈ لائن سر پر آجاتی تو مصروفیت ہر ایک کے چہرے پر لکھی نظر آتی۔


میرا سابقہ سب سے پہلے ریحانہ حکیم سے پڑا۔ آخری حد رضیہ بھّٹی۔ ان کی حوصلہ افزائی سے میں نے کتابوں پر تبصرے لکھے اور ادیبوں کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا۔ مجھے یاد ہے پہلا انٹرویو میں نے غلام عباس کا کیا جس میں باتیں ہوتی رہیں، سوال جواب نہیں ہوئے۔ ان ہی دنوں شوکت صدیقی کا انٹرویو کیا۔ پھر ہیرلڈ کے لیے کتنے ہی لکھنے والوں کے انٹرویوز کرنے کا موقع ملا۔ سلیم احمد، انتظار حسین، کشور ناہید، عصمت چغتائی، اختر حسین رائے پوری، ممتاز مفتی، جیلانی بانو اور حد تو یہ ہے کہ سلمان رشدی۔۔۔ کتنے ہی نام سامنے ابھر کر آتے ہیں۔ ان میں بعض بڑے خوش گوار ثابت ہوئے، جیسے فیض صاحب جو تازہ تازہ بیروت سے واپس آئے تھے، ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ بعض تجربات اس کے برعکس ثابت ہوئے جیسے دلّی کی شام والے احمد علی نے ناراضی بھرا خط لکھا اور مقدمہ کرنے کی دھمکی دی۔ میں گھبرا گیا مگر رضیہ کے چہرے پر مسکراہٹ کھلی رہی۔ ’’ہم اس طرح کی باتوں سے نمٹ لیتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا۔ انھوں نے ایسے کئی مواقع مجھے دیے جو میری عمر اور تجربے کو دیکھتے ہوئے حیران کن تھے۔ ان کے کہنے پر وی ایس نائپال کی کتاب پر لکھتے ہوئے سخت رائے کا اظہار کیا۔ مضمون چھپا تو مظفر علی سیّد نے مجھ سے کہا، یہ مضمون انگلستان کے کسی بڑے رسالے میں چھنا چاہیے تھا۔ مگر میری دسترس ہیرلڈ تک تھی اور میرے لیے وہی بڑا رسالہ تھا۔ اس رسالے کے لیے لکھنے میں جو احساس تفاخر اس وقت تھا وہ آج بھی قائم ہے۔
رضیہ بھٹی بہت دلیر خاتون تھیں۔ انھوں نے خطرے مول لیے اور کسی کے دبائو میں نہیں آئیں۔ واقعات کی تفتیش اور تجزیے پر مبنی ایک سے ایک عمدہ آرٹیکل چھپتے رہے۔ بے نظیر بھٹو کی حمایت میں انھوں نے لکھا اور انتظامیہ کے ساتھ حکومت وقت کی ناراضی مول لی۔ پھر جب زیادہ مشکل وقت آیا تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور رضیہ بھٹی کے ساتھ ان کی پوری ٹیم ہیرلڈ چھوڑ گئی۔


اس وقت مجھے لگتا تھا کہ ہیرلڈ ختم ہوجائے گا مگر اس نے سنبھالا لیا اور نئی آب و تاب کے ساتھ سامنے آگیا۔ رضیہ بھٹی نے نیوز لائن جاری کیا اور ان کے لیے لکھنے والوں میں، مجھے بھی شامل ہونے کا اعزاز حاصل تھی، پھر یہ سلسلہ تادیر چلتا رہا۔ یہاں تک کہ رضیہ کی صحت خراب رہنے لگی، پھر ان کا انتقال ہوگیا۔ ہیرلڈ کا دفتر ڈان کے ساتھ واقع تھا اور اس میں جانے کے لیے پچھلا زینہ استعمال کیاجاتا تھا۔ اب یہ راستہ میرے لیے بند ہوگیا اور اس کی جگہ کون جانے اس عمارت میں کیا آئے گا۔
پُختہ زبان، تجزیاتی انداز اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خطرہ مول لینے کی وجہ سے ہیرلڈ پاکستان ہی میں نہیں باہر کی دنیا میں بھی پہچانا جاتا تھا۔ لکھنے والا نہیں، میں اس کا پڑھنے والا آخر تک رہوں گا۔ آخر کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ آخری شمارہ پریس بھیج دیا گیا ہے، اس کے بعد خاموشی۔
یہ ساری باتیں مجھے اس وقت یاد آئیں جب کسی کام سے اخبار کے دفتر میں جانا ہوا۔ ضروری اندراجات کے بعد میں استقبالیہ کمرے میں کھڑا ہوا تھا تو مجھے لگا جیسے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔ وہاں بہت لوگ آتے جاتے ہیں اور میں باہر چونک کر لکڑی کی بینچ پر بیٹھے ہوئے اس پُتلے کو ضرور دیکھتا ہوں جو ہاتھ میں اخبار لیے بیٹھا ہے، اور ہر بار شک ہوتا ہے۔۔۔ نہیں، وہ مجھے نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ جو صاحب میرے سامنے تھے، ان کو میں نے پہچان لیا۔ ہیرلڈ کے مُدیر، بدر عالم، سلام دعا کے بعد میں نے وعدہ کیا کہ ان کے دفتر آئوں گا۔ اسی وعدے کی تکمیل مجھے ماتم دار بنا گئی۔
دروازہ کھول کر دیکھا، ترتیب اس سے مختلف تھی جو مجھے یاد تھی۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ سامان جوں کا توں رکھا ہوا مگر کمرے خالی۔ جس دفتر میں مجھے آتے جاتے لوگوں کی چہل پہل یاد ہے، وہاں سناٹا پڑا تھا۔ اس کمرے میں بدر عالم بیٹھے ہوئے تھے اور معذرت کررہے تھے کہ چائے بنا کر لانے والا کوئی نہیں ہے۔ سارے اسٹاف کو فارغ کر دیا گیا ہے اور دو دن بعد میں بھی آنا بند کردوں گا۔ آخری پرچہ پریس بھیج دیا ہے۔ میرا کام ختم ہوگیا۔ انھوں نے بڑے صاف اورmatter of fact انداز میں مجھ سے کہا۔


’’پاکستان میں صحافت پر کئی بار برا وقت آیا ہے‘‘ وہ مجھے بتانے لگے۔ ’’ایوب خان، بھٹو، ضیا الحق۔۔۔ ہر دور میں پابندیاں لگیں۔ لیکن اتنا برا وقت پہلے کبھی نہیں آیا۔۔۔‘‘ وہ بات کررہے تھے اور میں حیران پریشان سُن رہا تھا۔
’’مگر اس بار کسی نے کچھ کیا کیوں نہیں؟‘‘ ایک سوال میرے ذہن میں مچل رہا تھا۔ اس رسالے کے مالکان تو بڑے بااثر لوگ ہیں۔ انھوں نے بھی نہیں سوچا کہ یہ محض رسالہ نہیں، ایک قومی ادارہ، national icon ہے۔
’’شاید انھوں نے بھی یہ سوچ لیا کہ اب اس کو روک نہیں سکتے، اس لیے جانے دو__ ان الفاظ میں نہیں لیکن انھوں نے جو کہا وہ میری سمجھ میں یوں آیا۔ یہ سب اسی طرح ہونا تھا، سو اس کو کون روک سکتا تھا۔ ہم دیر تک اس کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں بات کرتے رہے اور ایک ہیرلڈ کی بندش پر تو یہ معاملہ رُکتا نظر نہیں آتا۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
خالی کمروں میں، مَیں دیر تک بھٹکتا رہا۔ سامان جوں کا توں رکھا ہوا تھا۔ فرنیچر موجود تھا، کرسی سے لے کر کمپوٹر تک۔ ان کمروں میں بیٹھنے والا کوئی نہیں تھا۔ دیواروں پر ہیرلڈ کے پرانے شماروں کے سرورق چسپاں تھے۔ ایک وقت میں یہ کامیابی کے پوسٹر رہے ہوں گے۔ اب تلاش گم شدہ کے اشتہار معلوم ہوتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کی صحافت کے اس معیار کا کیا ہوگا۔ لوگوں تک تجزیے اور خبریں کسی نہ کسی طرح پہنچتے رہیں گے۔ رسالے کی جگہ بھی خالی نہیں رہتی، ایک بند ہوتا ہے تو دوسرا نکل آتا ہے۔ لیکن مجھے تردّد ہورہا ہے کہ ہیرلڈ کا جو خاص انداز تھا__ بے لاگ اور تیکھے انداز کے ساتھ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش اور ایک سے زیادہ نقطۂ ہائے نظر کے امکان کو تسلیم کرنا__ اس انداز کا کیا بنے گا۔ ہیرلڈ شاید پکار پکار کر کہتا تھا__ جاگتے رہو! جو سوئے گا سو کھوئے گا! اب چار طرف سے ایک ہی آواز نہ سنائی دینے لگے__ سب اچھا ہے! سب اچھا ہے!
اس لیے اس رسالے کی بندش میرے لیے ایک قومی سانحہ ہے۔ ایک المیہ جس پر کوئی آنسو نہیں بہا رہا۔ کوئی آنکھ نم نہیں ہوئی۔ ٹی وی ٹاک شوز کی فراوانی کے اس دور میں شاید کسی اور چیز کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •