آپ کا بچہ ڈاکٹر نہیں بن سکتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میری بیٹی کے میٹرک میں 95 % فیصد نمبر تھے، ایف ایس سی میں 93 %، پتا نہیں کہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں کسی کی نظر لگ گئی، جس کی وجہ سے اس کا سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ہو سکا، اب ہم سوچ رہے ہیں کہ زمین بیچ کر اپنی بیٹی کا داخلہ پرائیویٹ میڈیکل کالج میں کروا دیں تاکہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا ہمارا خواب پورا ہو سکے“

اسی قسم کے فقرے زبان زدعام ہیں اور اکثر ہی کانوں سے ان کا پالا پڑتا ہے۔ یہ جولائی کا مہینہ ہے، ابھی میڈیکل انٹری ٹیسٹ ہونے میں ڈیڑھ دو مہینے باقی ہیں، اس کے بعد یہ فقرے تقریبا بے موسم برسات کی طرح ہر گھر سے سننے کو ملیں گے، جس کسی کے بیٹے /بیٹی کا سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا وہ سمجھے گا کہ اس نے دنیا فتح کر لی ہے، اور اب اسے زیر وزبر کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آنے والی۔ اور بدقسمتی سے جن کے بچوں کا داخلہ نہیں ہو گا، وہ انہیں پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلہ دلانے کے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے اور آخری لائن تک جانے سے بھی نہیں کترائیں اگر نا ہو پایا تو تمام عمر کا ملال اور غم لئے دل خشک کرتے رہیں گے۔

ہمارے نزدیک بچوں کی کامیابی اور قابلیت کا پیمانہ صرف اور صرف ڈاکڑی ہے، جو ڈاکٹر نہیں بن سکتے وہ ہمارے لئے زندگی کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ بچوں کو ڈاکٹر بنانے کی ریس کلاس نہم سے شروع ہوتی ہے، بچے کے ذہن میں یہ ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ اگر ڈاکٹر نہیں بن پایا تو اس کا کوئی مستقبل نہیں، وہ بیچارا بچہ اس ڈر کے خوف اور خاندان کے خواب چکنا چور ہونے کے خدشے سے خوب پڑھتا ہے، میڑک میں خوب اچھے نمبر لیتا ہے، پھر اس کے ذہن میں یہ بٹھایا جاتا ہے کہ میڑک تو ڈاکڑی کی طرف تو پہلی سیڑھی ہے۔

ڈاکٹر بننا ہے تو ایف ایس سی میں اچھے نمبر چاہیں۔ وہ غریب پھر دن رات ایک کر کر خوب نمبر لیتا ہے۔ اس کے بعد اس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ان چار سالوں کی محنت ایک طرف اور دو گھنٹے کا انٹری ٹیسٹ ایک طرف۔ اگر انٹری ٹیسٹ میں اچھے نمبر لو گے تو تمہیں ڈاکٹر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا! بیچارہ بچہ اس چکر میں پھر دن رات محنت کرتا ہے کہ انٹری ٹیسٹ میں کوئی غلطی نا ہو جائے۔ لیکن وہ انٹری ٹیسٹ میں اچھا پرفارم نہیں کر پاتا اور داخلے سے محروم رہ جاتا ہے۔ سب اس کی لعن طعن کرتے ہیں، دو گھنٹے کے انٹری ٹیسٹ کی ناکامی اس کی چار سالہ محنت کو غارت کر دیتی ہے۔

اس ٹیسٹ میں ناکامی کا ذمہ دار وہ بچہ نہیں، بلکہ ہم سب ہیں، بچہ پیدا بعد میں ہوتا ہے، والدین پہلے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا بڑا ہو کر ڈاکڑ بنے گا۔ ہم اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹری کے معیار پر ہی کیوں پرکھتے ہیں؟ ہم یہ کیوں سوچتے ہیں کہ اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر نا بن پایا تو اس معاشرے میں کیسے زندہ رہ پائے گا؟ ہمارے نزدیک کامیابی کا راز صرف ڈاکٹر بننے میں ہی کیوں ہے؟

ہم اس بات کو کیوں سمجھ نہیں پاتے کہ اگر ہمارے بچے ڈاکٹر نا بن پائیں تو ان کی زندگی ختم نہیں ہو جائے گی۔ آپ نے اس کی کرئیر کونسلنگ نہیں کی بلکہ اس پہ اپنی مرضی مسلط کی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر بچے کو علیحدہ خصوصیت کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو ہر بچے کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔ کچھ ایسے listener ہوتے ہیں تو کچھ اچھے speaker۔ کچھ میں لکھنے کی قابلیت ہوتی ہے تو کچھ میں کچھ نیا کرنے کی طاقت۔ ہم اپنے ان بچوں کی صلاحیت کو پہنچانے میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔ جب ہم کو ان کی قابلیت اور صلاحیت کی سمجھ آتی ہے تو پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں ہم بچوں کے دلوں میں competition کا ایسا بیج بو دیتے ہیں وہ جو چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کرتے پڑتے۔ ان کے نزدیک اپنی کلاس میں فرسٹ آنا، پھوپھو کے بیٹے سے نمبر زیادہ لینا ہی کامیابی کا راز ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹری ایک نہایت اچھا شعبہ ہے، لیکن اگر آپ کے نزدیک کامیابی کا راز صرف اور صرف ڈاکٹری میں ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔ ہم یہ کیسے سوچ لیتے ہیں کہ ڈاکٹر بننے کے بعد ہمارے بچوں کو زندگی گزارنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی؟ ان کی زندگی ڈاکٹر بننے کے بعد آسان ہو جائے گی تو یہ ہم سب کی سراسر غلط فہمی ہے۔

ڈاکٹر بنانے کی اس دوڑ میں میں ہم یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کیا ہمارا بچہ اس ریس میں حصہ لینا چاہتا بھی ہے نہیں؟ اس کے کیا کچھ خواب ہیں؟ کیا وہ اپنے سپنوں کو حققیت میں بدل سکتا ہے؟ کیا وہ سب کچھ کر سکتا ہے جو اس کا دل کرتا ہے؟ کیا وہ اپنے دل کی مان کر کوئی ایسا شعبہ اختیار کر سکتا ہے جو اس کے لئے بنا ہو؟ اگر نہیں! تو آپ اپنے بچے سے اس کے سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت ختم کر چکے ہیں، اب وہ صرف مشین ہے جس کا کام صرف ڈاکٹر بننا ہے!

خدارا اپنے بچوں کے پاس بیٹھیے، ان کی نفسیات کو سمجھیں۔ ان کے ساتھ communication gap کو ختم کریں۔ اگر وہ ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا تو مت بنائیے۔ کامیابی کا معیار ڈاکٹری ہرگز نہیں ہے۔ ڈاکٹر بنانے کی اپنی ضد میں اپنے بچوں کو competition کی آگ میں مت دھکیلں۔

ڈاکٹر بنانے کے چکر میں ہم بچوں سے ان کی معصومیت تک چھین لیتے ہیں۔ آپ اپنے بچے کو راستہ بتا سکتے ہیں۔ منزل اسے خود منتخب کرنے دیں۔ وہ ڈاکٹر بنے یا انجنیئر۔ کھلاڑی بنے یا کچھ اور۔ یہ فیصلہ اس کے ہاتھ میں دیں۔ جب وہ فیصلہ اس کا ہو گا۔ تو اسے اپنی اس منزل تک پہنچنے تک کوئی نہیں روک سکتا۔ اب فیصلہ آپ پر ہے۔ آپ نے اپنے بچے کو اس منزل تک جانے کا راستہ دینا ہے یا راستہ بدل کروا کر اس کی منزل تبدیل کروانی ہے۔ تو جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ ”sky is only limit“ اس کو بتائیے کہ جنون اور جذبے کو فالو کرے گا تو دنیاوی اور سماجی و نفسیاتی کامیابی پائے گا وگرنہ وہ بھیڑ بکری کی طرح کا کوئی جانور ہے جس کو کسی سمت میں ہانکا جا رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شافع صابر کی دیگر تحریریں
شافع صابر کی دیگر تحریریں