غلطی کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ اس فعل پر غور و فکر کریں کہ پیدا ہوتے ہی بچے کو اسی نظریہ سے دیکھا جاتا ہے جو ہمارے اندر اُمڈ رہا ہے۔ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے کہ جیسے ہی بچہ ننھے قدموں پر اپنا بوجھ سنبھال کر چلنے لگتا ہے تو لڑکی ہونے پر اس کو گُڑیا، برتن جیسے کھلونے تھما دیے جاتے ہیں اور لڑکے کو گاڑی، روبورٹ، جہاز جیسے کھلونے دیے جاتے ہیں اور ایک مائینڈ سیٹ اپ بنانے کے لئے سارا خاندان اس بچے پر حاوی ہوجاتا ہے۔

آپ دو منٹ کے لئے یہ سوچیں کہ اگر میں وہ گاڑی یا جہاز بچی کو تھماؤں اور بچے کو ننھی گُڑیا تھمادوں تو پھر کیا ہوگا !

بنیادی تعلیم جو کہ بچی کا حق ہے اگر آپ اس کو وہ دے بھی دیتے ہیں تب بھی اس کو اسی چیز ہر تیار کیا جاتا ہے کہ گھر کے کام کاج بھی ساتھ ساتھ سیکھو آگے کو چل کر یہی کام آنے والے ہیں۔ رہی بات لڑکے کی تو اس کو گھر کا اول و آخر کمانے والا مان کر پورے گھر، بہنوں، ماں باپ کے بڑھاپے حتی کہ اس نسل کی ذمہ داری بھی تھوپ دی جاتی ہے جو ابھی تک اس دنیا میں آئی بھی نہیں۔ پھر بہن کا جہیز، ایک گھر کو ڈبل سٹوری کرنا یاپھر ایک گھر کو ہی دو گھروں میں بدلنا، فورا اچھی تعلیم حاصل کرو پھر زیادہ نہیں تو تو کم از کم سرکاری نوکری کے لئے ہی خوار ہوجاو، بہنوں کو پڑھاؤ البتہ نوکری مت کرواؤ ان سے وہ گھر کا کام سیکھیں تاکہ اچھے رشتے مل سکیں۔

اب ذرا نظریے کو بدلیں، بہن/ بیٹی کو معیاری تعلیم دلوائیں، اس کو یہ تلقین کریں کہ وہ نوکری کرے اور اپنے نئے گھر کے لئے جہیز یا ضروریات زندگی کے لئے سامان بنائے اور ممکن کرے کہ شادی پر خرچ کرنے کو ہر روپیہ بھی خود کمائے تو بہترین ارتقا ہوسکتا ہے۔

اس طرح وہ لڑکی بہترین طریقہ، تجربہ اور سمجھداری سے ایک پوری نسل کی تربیت کرسکتی ہے اور آزادانہ طور پر کسی بھی  مرد پر انحصار کرنے سے بچ سکتی ہے۔

معاشی و معاشرتی دباؤ تلے ڈوبا ہوا بھائی/ بیٹا بھی اسی طرح جب کسی بھی دباؤ سے نکلے گا تب وہ اپنی صلاحتیں اور خواہشیں بروئے کار لاسکتا ہے۔ ہر اک شخص میں آرٹسٹ ہے لیکن وہ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب آپ کے اندر خوشی اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اور وہ تبھی ممکن ہے جب معاشرے کا ارتقا بنیادی ضروریات ملنے پر ہوگا۔

والدین پیسے اور بچے کے مستقبل کے بارے اندھادھند ہوکر اپنے بچے کے اندر موجود آرٹسٹ کو ماردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھُٹن زدہ معاشرے میں اگر کوئی تخلیقی سوچ کا حامل فرد ملتا ہے تو ہاسٹل یعنی گھر سے دور نکل کر اکیلے میں رہ رہا ہوتا ہے۔

جب بچہ والدین کی طرف سے کسی بھی زیادتی، ظلم یا ایموشنل بلیک میلنگ کا شکار ہوتا ہے تو والدین سے پھر بھی اسی طرح پیار کرتا ہے لیکن وہ خود سے پیار کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اپنے اندر موجود آرٹسٹ کا گلا دبا کر اس کی چیخ کو تاعُمر اپنے گلے میں اٹکا لیتا ہے اور پھر یہی چیخیں تشدد بن کر اگلی نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے اور سارا معاشرہ معاشی، ثقافتی، تخلیقی بحران کا شکار ہوجاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •