جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس آغا کے خلاف ریفرنس کو ترجیحی اہمیت کیوں؟ عابد حسن منٹو کا سپریم جوڈیشل کونسل کے نام مراسلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابثق صدر اور ملک کے سینئر ترین قانون دان عابد حسن منٹو نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک مراسلہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بطور شہری اور قانون دان کے ناطہ اس بارے میں معلومات فراہم کی جائیں کہ جب آئین پاکستان صدرمملکت یا کسی بھی دوسرے ذریعہ سے حاصل ہونے والی اطلاع میں کوئی امتیاز نہیں برتتا تو پھر ایسی کیا وجوہات ہیں کہ دوسرے زیر التوا معاملات کی بجائے جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے؟

کیا باقی تمام زیر التوا ریفرنسوں پر کوئی کارروائی کی گئی؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل میں کوئی ایسا ریفرنس زیرالتوا ہے جو سپریم جوڈیشل کونسل کے کسی رکن کے خلاف ہو اور کیا یہ مناسب ہے کہ وہ اپنے بارے میں ریفرنس کا فیصلہ ہونے تک سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بیٹھیں؟

مراسلبہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیا جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کو آئوٹ آف ٹرن لینا تعصب کی تعریف میں نہیں آتا؟ کیا یہ تعصب بذات خود ایک مس کنڈکٹ نہیں ہے۔ عابد حسن منٹو نے اپنے مراسلہ میں لکھا ہے کہ میں 60 سال سے زیادہ عرصہ سے وکالت کر رہا ہوں۔ میں نے اس عرصہ میں معاشرے اور عدالتی نظام میں بڑے اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔ بطور پاکستانی شہری اور سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر میں نے اس ملک کے عدالتی نظام میں اپنی صلاحیتیں صرف کیں۔

مراسلہ میں عابد حسن منٹو نے لکھا کہ جس جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے وہ میرے واقف نہیں ہیں مگر میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ فاضل جج نے اقتدار کی درپردہ قوتوں کے حوالہ سے کچھ فیصلے تحریر کئے ہیں۔ عابد حسن منٹو نے لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ عدلیہ اور جج صاحبان غیرجانبدار ہونے چاہئیں اور یہ بات کونسل کے ارکان کے لئے بھی ضروری ہے۔ اس لئے میں نے مراسلہ میں چھ سوال اٹھائے ہیں۔ امید ہے مجھے اس حوالہ سے حوصلہ افزا جواب دیا جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •