عمران خان کا دورہ امریکہ: پُرجوش پاکستانی عوام کے مشورے اور توقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم پاکستان عمران خان تین روزہ سرکاری دورے پر ایک کمرشل فلائٹ کے ذریعے براستہ قطر امریکہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر امریکی عہدے داروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

حکومت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق واشنگٹن پہنچنے پر وزیر اعظم کا استقبال امریکی دفتر خارجہ کے سینیئر اہلکاروں، پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد خان نے کیا۔

https://twitter.com/pid_gov/status/1152760232415772672

واشنگٹن میں سنیچر کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس دورے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ بھی عمران خان کے ہمراہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

دورۂ امریکہ: ’افغانستان کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی‘

عمران خان اور ٹرمپ ایک جیسی شخصیات کے مالک ہیں: امریکی سینیٹر

شیڈول کے مطابق 21 جولائی کو وزیراعظم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قائم مقام ایم ڈی، عالمی بینک کے صدر اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔

https://twitter.com/pid_gov/status/1152765588671991814

اس کے علاوہ وزیراعظم واشنگٹن کے معروف کیپیٹل ون ایرینا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب اور پاکستان بزنس سمٹ میں شرکت بھی کریں گے۔ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے جلسے کے لیے ایک بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔

جبکہ 22 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان وائٹ ہاؤس پہنچیں گے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات ہوگی۔

https://twitter.com/RadioPakistan/status/1152722130926211077

وزیر اعظم عمران خان جیسے ہی امریکہ پہنچے تو پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے انھیں اس دورے سے متعلق اپنے مشوروں اور توقعات سے آگاہ کرنا شروع کر دیا۔

پاکستانی صحافی اور اینکرپرسن پارس جہانزیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی قوم وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات سے اچھے نتائج کی توقع کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں اچھے تعلقات پورے خطے میں امن اور استحکام لائیں گے۔

https://twitter.com/Parasjahanzaib1/status/1152685871285641216

صحافی طلعت حسین نے اس دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ کے ساتھ امریکی صدارتی دفتر میں مناسب رویہ اختیار نہیں کیا گیا اور جب آپ جانتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس ملاقات کے لیے آپ نے بہت پاپڑ بیلے ہیں تو ایک سرکاری دورے کو پارٹی افیئر میں تبدیل کر کے آپ توجہ ہٹاتے ہیں۔‘

https://twitter.com/TalatHussain12/status/1152618130272923648

ایک اور ٹوئٹر صارف لالین سکھیرا نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان صاحب جس طرح آپ نے محمد بن سلمان سے سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے رہائی کی درخواست کی تھی اسی طرح امریکی حراستی مراکز میں قید تارکین وطن بچوں کا معاملہ بھی اٹھائیں۔

https://twitter.com/laaleen/status/1152636629825347586

ایک اور ٹوئٹر صارف محمد ابوبکر نے تو وزیر اعظم عمران خان کو ان کا انتخابی منشور یاد کرواتے ہوئے امریکی قید میں موجود عافیہ صدیقی کی رہائی کا ذکر کیا اور لکھا ’وعدہ پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے، قوم منتظر ہے‘۔

https://twitter.com/AbRajput123/status/1152635922468548609

ابیحہ صالح جتوئی نامی ٹوئٹر صارف نے اپنی توقعات کا اظہار کچھ اس طرح کیا ’عمران خان صاحب ہم امید کرتے ہیں کہ آپ دوسرے حکمرانوں کی طرح غلامی کا راستہ نہیں اپنائیں گے بلکہ خود مختاری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اپنا موقف پیش کریں گے اور اپنے مفادات کو ترجیح دیں گے.‘

https://twitter.com/UMMEAbeeha2k19/status/1152643400019132416

اور طارق محمود نامی ٹوئٹر صارف نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو یاد کرواتے ہوئے وزیر اعظم کو یہ مشورہ دیا۔

https://twitter.com/Tariq2K19/status/1152629966925963266

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں امریکہ میں موجود حکومتی جماعت کے حامی اراکین ’تبدیلی (واشنگٹن) ڈی سی پہنچ چکی ہے‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

https://twitter.com/PTIofficial/status/1152696568715317248

پی ٹی آئی کے ٹوئٹر آکاؤنٹ نے #PMIKVisitingUS کے ہیش ٹیگ سے کئی ٹویٹ شیئر کیے ہیں جس میں عوام کو عمران خان کے استقبال کے لیے کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

https://twitter.com/PTIGRWOfficial/status/1152733570059952129

وزیراعظم عمران خان 23 جولائی کو اپنا دورہ مکمل کر کے واپس وطن روانہ ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10029 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp