خدا ابھی مجھ سے مایوس نہیں ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں بہت خوش ہوں، لبوں پہ مسکراہٹ ہے اور آنکھوں میں نمی ! نہیں! کوئی غم نہیں ہے۔ جذبات کے جوار بھاٹے میں آنکھیں تو بھر ہی آیا کرتی ہیں۔ میں نے ابھی ایک پیغام پڑھا ہے اور ایک تصویر دیکھی ہے۔ دل گداز پیغام، روح کو چھو لینے والا۔ تصویر ایک چھوٹی بچی کی ہے۔ بڑی بڑی آنکھیں، سفید لباس، سر پہ پھولوں بھرا ہیئر بینڈ پہنے، بہت معصومیت سے ایک طرف دیکھ رہی ہے۔

آج اس کی پہلی سالگرہ ہے!

ہفتے کا ایک دن میرا کلینک حمل سے وابستہ پیچیدگیوں والے مریضوں کے لئے مخصوص ہے۔ مختلف علاقوں سے ریفر ہوئے مریض دیکھے جاتے ہیں۔ مریض اپنی جاۓ رہائش کے مطابق ہسپتال کو بھیجے جاتے ہیں۔ جیسے مزنگ کا رہنے والا گنگا رام ہسپتال میں جا سکتا ہے لیکن میو میں نہیں۔ ہیلتھ سسٹم بہت آرگینائزڈ ہے۔

میں مریض دیکھ رہی تھی کہ میری نرس نے مجھے بتایا، ایک خاتون آپ سے ملنا چاہتی ہے بہت دور سے آئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے اور چیک کرو کہ ہمارے علاقے سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں۔ تھوڑی دیر بعد نرس نے آ کر بتایا کہ اس کا علاقہ ہمارے ہسپتال کے تحت نہیں آتا اور ہم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ میں نے نرس سے کہا معذرت کر لو۔

کچھ دیر بعد ہیڈ نرس نے آ کے کہا کہ خاتون کا تعلق پولیس سے ہے اور وہ ہر حال میں آپ سے ملنا چاہتی ہے۔ میں نے یہ سوچ کر شاید کوئی اور بات ہو، اسے اندر بلانے کا کہا ۔وہ آئی، تیس بتیس سال کی سمارٹ پرکشش عورت یونیفارم میں ملبوس۔ بیٹھ کے بولی، ڈاکٹر میں بہت دور سے آئی ہوں اور میں تہیہ کر کے آئی تھی کہ آپ سے ہر حال میں ملوں گی۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سسٹم کے ہاتھوں مجبور ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ آپ میری مدد کریں گی میں نے آپ کے متعلق بہت سنا ہے

” آپ اپنی تکلیف تو بتائیے “

” بارہ سال ہو گئے میری شادی کو اور ان بارہ سالوں میں نو دفعہ حمل ٹھہرا۔ لیکن ہر دفعہ تین مہینے ختم ہونے سے پہلے ہی اسقاط ہو گیا۔ بہت علاج کرایا لیکن بات نہیں بنی۔ اب آپ کے پاس بہت امید لے کر آئی ہوں”

“ نو حمل اور سب اسقاط”، میرے دل کی دھڑکن تھوڑی سی بے ترتیب ہوئی۔ وہ بہت دلگیر نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی آنکھوں میں آنسو تھے، میرا دل پگھل گیا!

” دیکھئے آخری فیصلہ تو رب کائنات کا ہے، ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں “

اور پھر میں نے دو کام کئے۔ خاتون کو اپنے کلینک میں لینے کے لئے ہسپتال انتظامیہ سے اجازت اور خاتون کو یہ ہدایت کہ جب بھی حمل ٹھہرے، وہ بغیر اپائنٹمنٹ کے بھی مجھ سے آ کے مل سکتی ہے۔

کچھ ہی ماہ بعد ریسپشن نے اطلاع دی کہ فاطمہ (اصلی نام نہیں ہے )مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ بلایا، اندر آنے پہ معلوم ہوا کہ پیریڈز کی تاریخ سے صرف ایک دن اوپر ہے اور پریگننسی ٹیسٹ مثبت ہے۔

وہ بہت پریشان تھی اور بے قرار بھی، اس کا یہ دسواں حمل تھا۔ میں نے تسلی دی اور کچھ خاص قسم کے ٹیکے شروع کروائے۔ ساتھ میں یہ ہدایت بھی کہ ایک دن بھی ایسا نہ ہو جب وہ دوا لینا بھول جائے۔ اس نے کانپتی آواز، گھبرائی مسکراہٹ اور پلکوں پہ ٹمٹماتے ستاروں کے ساتھ مجھے یقین دہانی کروائی۔

میں نے اس کے وزٹس ترتیب دے دئیے، شروع میں ہر مہینے ایک دفعہ اور آخری دو مہینوں میں ہر پندرہ دن بعد اسے کلینک آنا تھا۔ گو کہ مسافت تین گھنٹے کی تھی لیکن وہ پرعزم تھی۔

پہلے تین ماہ وہ جب بھی آئی، اضطراب اس کے چہرے پہ لکھا ہوتا۔ کچھ ہونے اور نہ ہونے کے بیچ جھولتا دل اور بدمست خدشے !

جس دن الٹرا ساؤنڈ پہ بچے کے دل کی دھڑکن دیکھی، اس کی بےچینی دیدنی تھی۔اسے ہر دفعہ میں خوب تسلیاں دیتی اور راضی برضا ہونے کا درس بھی ۔

تین مہینے گزر گئے اور دسویں حمل میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ چوتھے مہینے میں داخل ہوئی تھی۔ اب وہ دو طرح کی کیفیات کا شکار تھی۔ تیسرے مہینے کو پار کرنے کا انبساط چھپائے نہ چھپتا تھا اور کسی بھی وقت کچھ غلط ہونے کا اندیشه اور ہراس بھی چہرے پہ لکھا نظر آتا تھا۔

پانچواں مہینہ شروع ہوا ! امید اور بڑھ گئی، مگر کچھ کھونے کا ڈر اب بھی فاطمہ کو بے چین کرتا تھا۔ میں ہر دفعہ اسے ہمت دلاتی، ماں بننے کے عزم ویقین کا صور اس کے کانوں میں پھونکتی اور وہ میرے لفظوں کی ڈور تھام لیتی!

چھٹا مہینہ گزرا، ساتواں گزرا۔ طوفان ٹل چکا تھا اور اب فاطمہ کھلکھلاتی تھی۔ میں اس کو بتا چکی تھی کہ اس عمر کا بچہ اگر پیدا بھی ہو جائے تو بچا لیا جاتا ہے۔ اطمینان کا ایک عالم تھا جو اس کے چہرے کو مامتا کا نور بخشتا تھا۔ دل کی دھڑکنیں تیز تو ہوتی تھیں مگر سرشاری سے۔

اب میں اس کو چھیڑتی تھی کہ بےبی کے کیسے کپڑے خریدے جا رہے ہیں ؟ کیا جہیز اکھٹا کیا جا رہا ہے؟ وہ ہر وقت مجھے بتاتی کہ کیسے پورا خاندان اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہے اور کیسے تقریبات کا اہتمام سوچا گیا ہے۔ کبھی کبھی وہ مجھے غور سے دیکھتی اور مسکرا دیتی۔ میرے پوچھنے پہ کوئی جواب نہ دیتی، بس مسکراہٹ ہلکورے لیتی!

زچگی کا وقت آیا، وہ لیبر روم داخل ہوئی اور اللہ نے اسے ایک ننھی منی گڑیا سے نوازا۔ میری اس سے ملاقات نہ ہو سکی کہ ہمیں لیبر روم صرف پیچیدگی کی صورت میں بلایا جاتا ہے۔ لیکن میں بہت خوش تھی کہ میری محنت رنگ لائی تھی۔

ایک برس بیت گیا اور ایک شام میرے فون پہ میسج کی گھنٹی بجی۔ اٹھا کے دیکھا تو فاطمہ کا میسج تھا!

“ ڈاکٹر تم بہت حیران ہوں گی کہ میں بچی کی پیدائش کے بعد تم سے ملے بنا کیوں چلی گئی !

آج میں تمہیں اس کی وجہ بتانا چاہتی ہوں۔ جب میں تمہارے پاس آئی تھی، میں نا امیدی کے جنگل میں بھٹک رہی تھی۔ پچھلے بارہ برس میں خواہشوں کی کرچیاں میرا مقدر تھیں جو میری روح میں پیوست ہوتی تھیں اور آنکھوں کو لہوبار کرتی تھیں۔ امید و بیم کا یہ کھیل میں نے بہت برس کھیلا اور اس نے مجھے ریزہ ریزہ کر دیا !

پھر میں تم سے ملی اور تم نے مجھے یقین کا چراغ پکڑا دیا۔ ایسا چراغ، جس کی لو جب بھی دھیمی پڑتی، تم اس میں اور ایندھن ڈال کے اسے بھڑکتا ہوا شعلہ بنا دیتیں۔ میں الفاظ کی رسی پکڑتی اور پھر سے تازہ دم ہو کے پل صراط پہ چلنے کے لئے تیار ہوجاتی۔ قدم قدم ، آہستہ آہستہ !

ہر دن طلوع ہوتا تو میں چاہتی کہ دن گھوڑے کی طرح سرپٹ بھاگے۔ میں رات کی تاریکی جلد نمودار ہونے کی دعا مانگتی اور رات آتی تو میرے سجدے طویل ہو جاتے، اگلے دن کی صبح دیکھنے کے لئے۔

میں نے پہلے تین مہینے تو انتہائی کرب میں گزارے کہ یہی وقت ہوتا تھا جب میرے پیاسے ہونٹوں سے وہ جام لے لیا جاتا تھا جس کی پیاس صرف ماں نامی لفظ لے سکتا تھا۔

تین ماہ خیریت سے گزر گۓ اور چوتھا شروع ہوا۔ دس دفعہ حمل ٹھہرنے کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ میں تین مہینے گزار کے چوتھے میں داخل ہو چکی تھی۔ امید کی کونپل دوبارہ سے ہری ہو رہی تھی لیکن ابھی بھی میں خلا میں معلق تھی۔ پاؤں تلے زمین نہ تھی اور آسمان سے ڈر لگتا تھا۔

پھر وہ وقت آیا جب میں نے بچے کی حرکت اپنے بطن میں محسوس کی اور میں خوشی سے پاگل ہو گئی ۔

میں ماں بن رہی تھی، وہ میرے اندر سانس لے رہی تھی (الٹرا ساؤنڈ سے میں جان چکی تھی کہ وہ ننھی پری ہے)۔ اب میں اس سے باتیں کرتی تھی اور اسے بتاتی تھی کہ میں صدیوں سے اس کے انتظار میں ہوں۔

انہی دنوں میں نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ کیا فیصلہ تھا ؟ یہ میں بعد میں بتاتی ہوں۔ اس فیصلے کا ذکر میں نے اپنے شوہر سے کیا۔ وہ اس سارے سفر میں میرا شریک سفر تھا اور درد کی سب ساعتوں کا ساتھی بھی۔ وہ میرا ہم خیال نکلا ۔

لیکن میں ابھی بھی عالم نزع میں تھی !

ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں معلق۔

لیکن ڈاکٹر تم، تم امید کی شمع بجھنے ہی نہ دیتی تھیں۔

اور پھر وہ وقت آیا، جب تم نے بتایا کہ اب اگر میری بچی دنیا میں وقت سے پہلے بھی آجاۓ تب بھی وہ بچا لی جاۓ گی۔ وہ رات میرے اور میرے شوہر کے لئے سجدوں کی رات تھی۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہم کبھی روتے تھے اور کبھی ہنستے تھے اور پھر اپنی ننھی پری سے باتیں کرتے تھے۔

ہم نے اس کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیں۔ گلابی کپڑے، گلابی بیگ، گلابی کمبل، ربن، کلپ، چوڑیاں جوتے گڑیا غبارے، بھالو ۔ ہم نے پچھلے بارہ برسوں کے خواب خرید ڈالے۔

میں اب خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہی تھی۔ میرا رونا تھم چکا تھا۔ میں اب ہنستی تھی اور بس ہنستی تھی۔

پھر وہ وقت آیا۔ درد زہ میں تڑپتے ہوۓ بھی میرے لبوں پہ مسکراہٹ تھی۔ مجھے اپنی ایک ایک درد عزیز تھی۔ وہ درد نہ تھا وہ تو زندگی کی نوید تھا۔ میں نے زندگی اور موت کا پل اس سرخوشی میں پار کیا کہ وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ میں اپنی ننھی پری کو تھاموں۔

اور پھر میری گود میں وہ آئی۔وہ جس کے لئے میں بہت دفعہ کرچی کرچی ہوئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھولیں، مجھے مسکرا کے دیکھا اور میری روح شانت ہو گئی۔

اور مجھے اپنے آپ سے کیا ہوا وعدہ یاد تھا۔

میں اپنی زندگی کو لئے گھر چلی گئی۔ تم سے دانستہ طور پہ نہیں ملی۔ میں ابھی کچھ وقت لینا چاہتی تھی شاید پچھلے زخموں نے مجھے بے اعتبار کر دیا تھا۔

میں نے ننھی پری کی ایک سالہ زندگی کا ایک ایک پل جاگتے گزارا ہے، اپنے آپ کو یقین دلاتے کہ یہ کسی خواب کا حصہ نہیں۔ مجھےسونے اور غافل ہونے سے ڈر لگتا ہے۔ لیکن پھر یہ یقین کہ میری تکمیل ہو چکی ہے، میرے پاس ماں کہلاۓ جانے کا غرور ہے، مجھے لوری سناتا ہے!

میں جب حاملہ تھی اور تمہارے پاس آتی تھی، تب میں سوچتی تھی کہ اگر میں ماں بن گئی تو تمہیں کیا تحفہ دوں گی۔ ایک اچھا سا بیگ یا پرفیوم یا سونے کی انگوٹھی۔ مجھے معلوم تھا کہ تم پسند نہیں کرو گی کہ تمہاری محنت کو چند چیزوں میں تولا جاۓ۔

جب میں نے پہلی دفعہ اپنی پری کی پیٹ میں حرکت محسوس کی، میں بہت خوش تھی اور اس خوشی میں مجھے ایک اچھوتا خیال آیا۔ میں جوں جوں سوچتی، مجھے اپنے خیال کی وحدت پہ یقین بڑھتا جاتا۔میرا شوہر بھی میرا ہم خیال تھا۔

پری کے میری گود میں آنے کے بعد ہم نے یہ سوچا کہ ہم تمہیں یہ تحفہ اس کی پہلی سالگرہ کے موقع پہ دیں گے۔

سو آج اس کی پہلی سالگرہ ہے اور اسے میں نے خوب بنایا سنوارا ہے۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے، بہت پیاری!

میری بیٹی طاہرہ !

یہی وہ تحفہ ہے جو میں نے سوچا تھا تمہارے لئے کہ میں اپنی بیٹی کو تمہارا نام دوں گی!

طاہرہ !

اب میری بیٹی طاہرہ کے نام کی صورت میں تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی اور میں تمہیں بھلانا بھی چاہوں تو ممکن نہیں “

میرے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ میری جھولی محبتوں کے بوجھ سے بھر گئی تھی اور میں کچھ کہنے کے قابل نہیں تھی۔

میرے ابا نے دنیا سے رخصت ہونے والی بیٹی طاہرہ کا نام مجھے بخش کے اپنے عشق کو پھر سے مجسم دیکھنا چاہا تھا اور فاطمہ نے دنیا میں آنے والی بیٹی کی اتھاہ محبت میں اسے ہمارا نام دے کے تشکر کی اعلی مثال قائم کرنا چاہی۔

محبت کے سو روپ ہیں اور ہر روپ انوکھا ہے۔ جب تک محبت کرنے والے موجود ہیں، زندگی حسین ہے !ٹیگور نے کہا تھا کہ جب ایک بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو میں جان لیتا ہوں کہ ابھی خدا انسان سے مایوس نہیں ہوا۔ اس بچی کی صورت میں طاہرہ کا تیسرا روپ دیکھ کر مجھے یقین ہو چلا ہے کہ خدا ابھی مجھ سے مایوس نہیں ہوا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •