ایک دن کے قصائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"aliجانور کا ڈیل ڈول دیکھ کر میں نے اُس کی تعریف کی تو اس کے ایک حصہ دار نے کہا، ایک کم ستر ہزار میں بہت اچھا جانور مل گیا ہے جی۔\”

\”بیوپاری نے بیچتے وقت ہمیں بتایا کہ اُس نے بڑے پیار سے اسے گھر میں پالا ہے۔\” دوسرے نے جملہ جوڑا۔

پہلے نے اُس کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، \”جب ہمارا سودا ہوگیا تو ہمارے حوالے کرنے سے قبل بیوپاری نے اسے تین مرتبہ چوما بھی تھا۔\”

\”ہاں بھئی چھریاں لے آؤ۔\” اس دوران اُس نے آواز لگائی۔

کراچی کی لوئر کلاس آبادیوں میں رہنے والے مختلف قوموں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اکثر و بیشتر قربانی کا جانور کاٹتے ہوئے پیشہ ور قصائی کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے یہ کام بھی خود ہی سرانجام دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے الگ سے چُھریاں، ٹوکہ، اور کلہاڑی سنبھال کے رکھی جاتی ہے۔ سو یہاں بھی زیادہ تر افراد وہی تھے جو سالہا سال سے قربانی کرتے آرہے ہیں۔

اب سب جانور کے گرد جمع ہوگئے۔ ایک ادھیڑ عمر کے صاحب نے رسی کے دو ٹکڑے اٹھائے ہوئے تھے، جبکہ چودہ پندرہ سال کے تین چار منچلوں نے موبائل فون سنبھال لئے۔ وہ جانور کی قُربانی یعنی چُھری پھیرے جانے کی ریکارڈنگ کرنا چاہتے تھے۔

اس وقت قربانی کا سب سے دشوار مرحلہ درپیش تھا، یعنی جانور کو باندھ کر گرانا، اسے قبلہ رخ لٹا کر اس کے گلے پر چُھری پھیرنا، اور اس دوران کسی قسم کی غیر ضروری بات سے گُریز کرنا، کیونکہ ایسا کرنے سے، بقول ان کے، جانور کی جان جلدی نہیں نکلتی۔

بہرحال جیسے تیسے کرکے یہ مرحلہ سر ہُوا اور متعدد موبائلز سے اس کی ویڈیو بنائی گئی۔ اب جانور کی کھال اتارنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ ایسے میں ایک نوجوان جو اب تک اس عمل سے دور تھا، اُس نے کھال اُتارنے والی چھوٹی چُھری اور بیل کے پیچھے والی ایک داہنی ٹانگ پکڑ کر پوز بنایا، اور دوسرے نے اُس کی تصویر لے لی۔

\”فیس بک پہ ڈال لیتے ہیں اسے\” اُس نے کہا۔

اب چُھریاں کم اور لوگ زیادہ تھے، اور لیکن کھال اتارنے کا عمل کافی مشاقی کا متقاضی ہے، اس لئے زیادہ تجربہ کار افراد نے کھال اتارنی شروع کردی، اور باقیوں نے ان کی مدد کے لئے بیل کی ٹانگیں پکڑ لیں۔

کھال اتری، اور اوجھڑی نکالی گئی، ایک صاحب اوجھڑی کو اپنے لئے صاف کرنا چاہتے تھے، سو باقی چھ حصے داروں کی رضامندی درکار تھی، سو اجازت طلب کی گئی جو انہیں مل گئی۔ پھر کلیجی، تلی، پھیپھڑے، دل، اور گردے نکال کر سب کے چھوٹے پیسز بنا کر اور سات حصوں میں بانٹ کر گھروں میں بھیج دیا گیا تا کہ اسے فورا پکایا جاسکے۔

جیسے جیسے جانور کے اعضاء نکالے جاتے، تو ایک بزرگ ان اعضاء کے طبی فوائد بتاتے جاتے، اور ساتھ میں پایوں کے شوربے کے جوڑوں کے درد میں افادیت پر زور دیتے رہے۔ جب پائے نکال لئے گئے تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو یہ میں لے جاؤں، اور پو چھا کہ اجازت ہے، لیکن حصے دار اس کے لیے تیار نہ تھے سو بزرگ کے حصے میں بھی ساتواں حصہ ہی آیا۔

گوشت کے پارچے بنائے گئے، ہڈیاں توڑی گئیں اور یوں چار قسم کے ڈھیر بنا دیئے گئے، سرخ ریشے دار گوشت، چربی ملا سرخی مائل گوشت، ہڈیاں اور چربی۔ جنہیں ترازو سے تول کر سات برابر حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہر مرتبہ جب کوئی اپنا حصہ اٹھاتا، تو وہ رسمی طور پر آواز لگا کر پوچھتا، \”اجازت ہے؟\”

رانوں کی سیدھی چپٹی ہڈیاں نکال کر اور گوشت سے صاف کرکے پھینک دی گئیں، پھینکنے سے قبل پہلے تاکید کے ساتھ اس کے دو ٹکڑے کر دیئے گئے۔

\”یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ اگر یہ سالم رہ جائیں تو اسے جادو ٹونے میں استعمال کیا جاسکتا ہے\” ایک بزرگ نے تاکید کی وجہ بتائی۔

ایسے میں ایک صاحب نے اوجھڑی کے پاس سے چربی میں سے الگ کرکے کپورے نکال لیے۔ اور ہاتھ سر سے اوپر اُٹھا کر با آواز بلند پوچھا، \”اجازت ہے؟\”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •