ڈاکٹر صفدر محمود کی ایک حیرت انگیز اور ولولہ آفریں تحقیق


\"CMکون جان سکتا تھا کہ نظام قدرت یا حکمت الٰہی اگرچہ تمام معاملات میں ملّت اسلامیہ کو خاص اہمیت دیتی ہے لیکن جب کوئی انقلاب آفریں راز کھولنے کے سلسلے میں کیلنڈر کے استعمال کی ضرورت لاحق ہوجاتی ہے تو حکمت الٰہی مومنین کی ہجری تقویم کو یکسر نظر انداز کر کے نصارٰی کی تقویم کو ہی ترجیح دیتی ہے؟ لیکن آج کے ’جنگ ‘ میں مشہور محقق اور مورخ جناب ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے اپنے تازہ کالم میں اس ’حیرت انگیز حقیقت ‘ کو واشگاف کر دیا ہے کہ حکمت الٰہی ہجری کیلنڈر نہیں، گریگورین کیلنڈر پسند کرتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ساری زندگی قائداعظم کے حالات اور خیالات کے مطالعہ میں صرف کر دی ہے اور اب وہ قائداعظم کے تعلق سے حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے اس انکشاف تک ان کی رسائی بھی قائد اعظم کی سوانح کے حوالے سے ہی ہوئی ہے۔ حسب معمول ڈاکٹر صاحب نے انکسار سے کام لے کر اپنے ایک دوست کے سر یہ سہرا باندھا ہے لیکن کالم میں حق گوئی چونکہ ان کا شعار رہی ہے اس لئے یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ اس تحقیق کی ابتدا خود انھوں نے عرصہ ہوا ایک کالم میں کی تھی۔ اس کی تکمیل ان کے ایک درویش صفت پروفیسر دوست، جو ریاضی کے ماہر ہونے کے ساتھ فزکس، روحانیات، اور علم الاعداد میں بھی درک رکھتے ہیں، کے ہاتھوں اب ہوئی ہے۔ یعنی ڈاکٹر صاحب نے قائد کی سوانح پر غور کرتے ہوئےجو حیرت انگیز ’حسن اتفاق ‘ کئی سال قبل دریافت کیا تھا اس کی تصدیق اس ماہ ایک گمنام ’موبائل میسج ‘ اور ایک اتنے ہی گمنام ماہر ریاضی نے کر دی ہے۔

\"safdar-mahmood\"یہ ’حسن اتفاق ‘ جو بقول ڈاکٹر صاحب درحقیقت ایک ولولہ آفریں منشائےالٰہی سے ہمیں آگاہ کرتا ہے یہ ہے کہ ہر سال ’ یومِ قیامِ پاکستان‘ (14 اگست)، قائداعظم کا یوم ولادت (25 دسمبر) اور ان کا یوم وفات (11، ستمبر) یہ تینوں پاکستان کی زندگی میں اہم ترین تاریخیں ہر سال ہفتے کے ایک ہی دن پڑتی ہیں۔ یہ دن سال بسال بدلتا رہتا ہے، لیکن ہر سال ان تینوں تاریخوں میں مشترک ہوتا ہے۔ وضاحت کے لئے اسی سال کو دیکھیے۔ 14 اگست اور 11 ستمبر کو اتوار کا دن تھا، اور منشائے الٰہی کے مطابق 25 دسمبر کو بھی اتوار کا ہی دن ہوگا۔ (مغرب زدہ لوگوں کو ضرور یہ گمان ہوگا کہ قیام پاکستان کی تقریب 14 اگست کو ہوئی تھی لیکن قانونی حیثیت سے پاکستان اور بھارت کے قیام کا دن ایک، یعنی 15 اگست 1947 تھا۔ ایسے لوگوں کو میں ان کے حال پر چھوڑتا ہوں۔) اب اگر آپ اگلے سال کے کیلنڈر پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ ان تینوں تاریخوں کا دن ایک ہی ہوگا، البتہ اتوار کی جگہ دوشنبہ۔ ہے نہ حیرت انگیز بات؟ ڈاکٹر صاحب اور ان کے دوست نے اس معاملے میں قائد ملت لیاقت علی خاں کی شہادت کو بھی شامل کر دیا ہے اور ایک دو مزید حیرت انگیز ’حسن اتفاق ‘ بھی دریافت کیے ہیں لیکن ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

اب اگر آپ ان تین اہم تاریخوں کو ہجری تقویم کے اعتبار سے قائم کریں گے تو دیکھیں گے کہ ہجری تقویم ’اسلامی ‘ ہونے کے باوجود حکمت الٰہیہ کا اظہار بخوبی نہیں کر پاتی۔ حکومت دبئی نے مجھ جیسے جاہلوں کی مدد کے لئے ایک ویب سائٹ بنادی ہے جس پر ہم بآسانی ہجری تاریخ کو گریگورین تاریخ میں بدل سکتے ہیں۔ چنانچہ اس عرب اور مسلم ویب سائٹ کے مطابق اس سال، 1437 ہجری میں، 14 اگست کو ذوالقعد کی 11 تاریخ تھی، اور 11 ستمبر کو ذوالحج کی 9۔ اور ان دونوں دن اتوار تھا۔ لیکن گذشتہ برس 1436 ہجری میں ذوالقعد کی 11 تاریخ کو 26 اگست تھی (جو بدھ کا دن تھا) اور ذوالحج کی 9 کو 22 ستمبر (جو منگل کا دن تھا)۔ بدقسمتی سے ان لوگوں نے 1968 تک پر ہی قناعت کی ہے، ورنہ 1947 اور 1948 کی تاریخوں کے بارے میں بھی آپ کو بتاتا۔ لیکن بات وہی نکلتی جو اب نکلتی ہے، یعنی حکمت الٰہی نےاپنے اظہار کے لئے مسلمانون کی تقویم کو نہیں نصاریٰ کے کیلنڈر کو پسند کیا ہے۔ اس کے نزدیک 11 ستمبر 1948 کو جو اہمیت ہے وہ 8 ذوالقعد 1367 کو ہرگز نہیں۔

میں اس تحقیق کو انقلاب آفریں سمجھتا ہوں۔ اس کی مدد سے ہم کئی ایسے جھگڑوں سے نجات پاسکتے ہیں جن سے فی الحال ہر برس سابقہ پڑتا ہے۔ اگر منشائے الٰہی ان اہم باتوں میں گریگورین کیلنڈر کو ترجیح دیتی ہے تو پھر ہم گنہگار انسان دیگر کمتر معاملات میں اسی غیراسلامی کیلنڈر کو بغیر کسی معذرت کے استعمال کرسکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے حکمت الٰہی میں اس نصرانی کیلنڈر کی اتنی اہمیت سے متاثر ہو کر کچھ لوگ اپنے پڑوسی مسیحیوں پر دست شفقت پھیرنا بند کر دیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ رویت ہلال کمیٹی میں کسی پادری کو بھی شامل کر لیا جائے کہ بتا بھائی، تیری غیر اسلامی سائنس کے حساب سے چاند کب افق پر نظر آسکتا ہے۔ بڑی بات یہ ممکن ہے کہ اگلے رمضان ہم سب ڈاکٹر صاحب کا وہ کالم ایک بار پھر پڑھنے سے بچ جائیں جس میں پاکستان کا قیام شب قدر کو ہونےکا راز ہم پر کھولا جاتا ہے۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی بات نہ ہو، لیکن خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے۔

Facebook Comments HS

5 thoughts on “ڈاکٹر صفدر محمود کی ایک حیرت انگیز اور ولولہ آفریں تحقیق

  • 15/09/2016 at 9:43 صبح
    Permalink

    محبی خالد احمد صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اس حیرت انگیز حسن اتفاق کی اہمیت اور اسکا پاکستان کی تاریخ سے کتنا اہم تعلق ہے وہ ڈاکٹر صاحب کا کالم پڑھکر ہی سمجھ سکتے ہیں، البتہ اہمیت کو قطع نظر کرکے اگر وہ پرانے اور نئے کیلنڈر دیکھیں تو یہ حسن اتفاق اپنی مجرّد شکل میں سامنے آجائےگا اور انھیں حیرت میں ڈال دیگا۔ ہر سال ان تینوں تاریخوں کا دن ایک ہی ہوگا۔
    میرے ایک ریاضی داں دوست کا کہنا ہے کہ اسکا سبب یہ ہے ہے کہ ان تینوں تاریخوں کے درمیان جتنے دنوں کا وقفہ ہے وہ عدد سات سے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
    August 14, September 11 and December 25 do not have February 28 between them. So, they always differ by multiples of 7, and so always fall on the same day of the week۔
    چونکہ میرے دوست خاصے مغرب زدہ ہیں اس لئے مسئلہ کی روح تک نہیں پہونچ سکے۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

  • 15/09/2016 at 4:17 شام
    Permalink

    عجیب بیوقوفی پر مبنی ہے یہ سارا کالم –
    ہر سال چودہ،اکیس،اوراٹھائیس اگست، چار ستمبر، گیارہ، اٹھارہ اور پچیس ستمبر، دو، نو، سولہ، تئیس اور تیس اکتوبر، چھ، تیرہ، بیس’اور ستائیس نومبر، چار، گیارہ، اٹھارہ اور پچیس دسمبر ایک ہی دن آتے ہیں کیونکہ ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں- اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ چودہ کے بعد اکیس اگست اتوار کی بجائے پیر کو آ جاۓ-

  • 15/09/2016 at 11:45 شام
    Permalink

    ڈاکٹر صفدر محمود کے کالم کے جواب میں جس طرح چودھری صاحب نے خرد کے موتی لٹائے ہیں وہ قابل دید ہے۔ ان کو اگر ان کی ہی منطق (جو ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے) میں جواب دیا جائے تو بھائی یوں ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ سے تو دینی طبقات پہلے ہی رضامند ہو چکے تھے یہ تو حکمت الہی نے آپ جیسے لبرل ( چودھری و مزارعے، سرخے و گامے تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے) کے لیے گریگورین جنتری میں اس کرامت کا انتخاب کیا ہے تاکہ آپ ذرا ایزی محسوس کریں لیکن آپ نے پھر ناشکری کا مظاہرہ کر دیا ۔ 🙂

  • 16/09/2016 at 11:26 شام
    Permalink

    Souls of those killed at the time of partition must be over joyous to learn about the learned doctor’s research. Is he being nominated for Nobel prize?t

Comments are closed.