درویش کپتان کا امریکہ میں رعب اور خوفزدہ امریکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے محبوب وزیراعظم امریکہ گئے تو امریکی انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک ایسا پاکستانی حکمران امریکہ گیا ہے جسے نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ڈرایا جا سکتا ہے۔ کپتان اپنی ٹرمز پر دوسروں سے بات کرتا ہے۔ بے خوف ایسا کہ سعودی شاہ سے بھی ملے تو سر اٹھا کر اور انگلی تان کر بات کرے اور پروٹوکول ایسے ٹھکرانے والا کہ دنیا کے دو درجن طاقتور ممالک کے سربراہان آ رہے ہوں اور سارا ہال پروٹوکول کے نام پر ان کی خوشامد کرنے کے لئے کھڑا ہو تو کپتان اپنا مقام واضح کرنے کو بے نیازی سے بیٹھا رہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی حکام کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کپتان کے استقبال کے لئے کسے بھیجا جائے۔ ٹرمپ تو ظاہر ہے گھبرا گیا ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ویسے تو بہت پھنے خان بنتا ہے مگر اس کا بھی حوصلہ نہ پڑا۔ اسی وجہ سے کپتان جب قطر ائیر کے جہاز سے اترا تو سفارت خانے کی جاری کردہ ویڈیو میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستانی سفیر ہی کپتان کا استقبال کرتے دکھائی دیے۔ بہرحال پاکستانی سفارت خانے نے روایتی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے میزبان امریکی انتظامیہ کی بزدلی کو آشکار کرنا نامناسب جانتے ہوئے یہ ٹویٹ کر دی کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلی افسران نے بھی کپتان کا استقبال کیا تھا لیکن امریکیوں کی عزت رکھتے ہوئے ان افسران میں سے کسی کا نام نہ لیا اور نہ ہی ان کی تصویر بنائی۔

کپتان نے ماضی کے حکمرانوں کے شاہانہ دوروں والا کروفر اختیار نہیں کیا۔ کرپٹ اور عیاش حکمران ہمیشہ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کا سالم جہاز لے کر اس میں امریکہ جاتے تھے۔ کپتان کے لئے جھوٹی شان دکھانے سے زیادہ اہم یہ تھا کہ پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جائے۔ اس وجہ سے اس نے اسلام آباد سے واشنگٹن کے ٹکٹ پتہ کروائے اور قطر ائیر کا ٹکٹ سب سے زیادہ سستا پا کر اس میں امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔

حاشا وکلا پاکستانی کی قومی ائیر لائن پر وزیراعظم کے سفر کرنے سے اجتناب برتنے کا سبب پی آئی اے پر عدم اعتماد نہیں تھا۔ گلگت میں پی آئی اے کے جہاز کا حادثہ تو کپتان کے ملک سے روانہ ہونے کے بعد ہوا تھا۔ نہ ہی پی آئی اے کی سروس کو کپتان عام پاکستانیوں کی طرح ناقص سمجھتا تھا۔ مانا کہ قطر ائیر کے جہاز نئے اور نہایت آرام دہ ہیں اور ان کی سروس بہت اچھی ہے مگر جو درویش سال میں دو جوڑے بناتا ہو اور بے نیازی سے ننگی چارپائی پر ہاتھوں کا تکیہ بنا کر سو جاتا ہو، اسے اس عیش آرام کی کیا پروا؟ کپتان تو بس قوم کا پیسہ بچانا چاہتا تھا۔

ہاں یہ امکان ہے کہ امیر قطر کے حالیہ دورہ پاکستان پر اظہار تشکر کے لئے کپتان نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ چلو میں تمہاری قومی ائیرلائن کی مارکیٹنگ کر دیتا ہوں کہ دوسرے ممالک کے سربراہ بھی ایک خوشگوار اور محفوظ سفر کے لئے اپنی قومی ائیرلائن کی بجائے قطر ائیر پر اعتماد کرتے ہیں۔ بہرحال کپتان ان معاملات کو ہم عام پاکستانیوں سے بہتر جانتا ہے کیونکہ اسے جن معلومات پر دسترس ہے وہ ہم عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں۔

اب پاکستان کا طاقتور، غیر کرپٹ اور ہینڈسم وزیراعظم جب قطر کی قومی ائیرلائن کے جہاز سے باہر نکلا تو اس کے پاس دو راستے تھے۔ یا تو وہ ماضی کے عیاش پاکستانی حکمرانوں یا انڈیا کے بڑے دفتر کے چھوٹے آدمی کی طرح جہاز سے اتر کر سرخ قالین پر اترتا اور چاق و چوبند امریکی دستوں کی سلامی لیتا، اور اپنے عہدے کی پھوں پھاں میں عالیشان گاڑی میں بیٹھ جاتا یا پھر اس پروٹوکول سے بے نیازی دکھا کر امریکی حکمرانوں کو بتا دیتا ہے کہ اسے روپے پیسے اور تحریص سے خریدنا ممکن نہیں ہے۔

کہاں نریندر مودی کا دورہ امریکہ جس میں جہاز سے باہر سرخ قالین کے سامنے ہی بھارتیوں نے ایک قیمتی گاڑی کھڑی کر رکھی تھی کہ مودی کے پاؤں امریکی مٹی سے آلودہ نہ ہوں، اور کہاں ہمارا درویش کپتان جو بے نیازی سے عام مسافروں کی طرح جہاز سے نکلا اور سامنے کھڑی واشنگٹن کی بی آر ٹی میں بیٹھ گیا جس میں پاکستانی وزیر خارجہ اور سفیر اس کے استقبال کی خاطر موجود تھے۔

بخدا مجھے حیرت ہو گی اگر اب متکبر اور پروٹوکول سے ناواقف اجڈ ٹرمپ ہمارے کپتان کا سامنا کرتے ہوئے حواس قائم رکھ پائے۔ وہ اپنے مطالبات بھول کر پوچھے گا کہ کپتان حکم کریں کہ افغانستان پر امریکہ کیا ڈو مور کر سکتا ہے؟ آپ کی مرضی کیا ہے کہ ہم فوج کب نکالیں۔ طالبان کے کون کون سے مطالبات مانیں۔ انڈیا کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ عافیہ صدیقی کو ابھی واپسی پر قطر ائیرویز پر ہی بٹھا دیں یا بعد میں سالم جہاز کروا کر پاکستان بھیجیں؟ آئی ایم ایف کے علاوہ اگر ورلڈ بینک سے بھی بجٹ بنوانا ہے تو حکم کریں۔ آپ کی آنکھ کے اشارے پر ہم ان اداروں کے مزید افسران بھی پاکستانی اداروں کی کمان سنبھالنے کے لئے دینے کو تیار ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ ہمارا یہ تجزیہ ہمارے گزشتہ تمام تجزیات کی طرح غلط نہیں نکلے گا کیونکہ وہ تجزیات کرپٹ، بزدل اور عیاش حکمرانوں سے خوش گمانی رکھنے کے سبب غلط ہوئے تھے۔ اب کپتان ہمارا غیر کرپٹ، بہادر اور ہینڈسم وزیراعظم ہے، جو نہ جھکتا ہے اور نہ بکتا ہے۔ اور اس نے ماضی میں بھی نہایت نکمی ٹیم منتخب کرنے کے باوجود ورلڈ کپ جیتا ہوا ہے۔

اسی بارے میں: کپتان کی امریکہ میں مقبولیت سے ٹرمپ پر لرزہ طاری

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar