بادشاہ سلامت زندہ باد


\"saleemدو حکومتی ملازمین کے ساتھ سر عام دھونس دھاندلی ہوئی جو کسی سیانے آدمی نے کیمرے پر ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا کے حوالے کر دی اور بات عوام کی عدالت میں پہنچ گئی۔ پاکستان کی یاس و ناامیدی کی شکار عوام نے اپنی طاقت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھلائی ہی تھی کہ توپوں نے خیر سگالی کے ٹویٹ اگلنے شروع کر دئے۔ میں نے سوچا موقع اچھا ہے میں طاقت کے نشے میں چور بادشاہ سلامت کو یہ باور کرا دوں کہ اس طرح کے زوردار ردعمل کے مزید جھٹکے بھی آ سکتے ہیں کیونکہ عوام کو شاہی خاندان کے کچھ اور کارناموں کا بھی علم ہے۔ بادشاہ سلامت کے کچھ زیادہ مرغوب مشاغل کی لسٹ نیچے دی گئی ہے۔

(1) بار بار آئین توڑنا، منتخب حکومتوں کو اسمبلیوں سمیت برخاست کرنا اور خود سیاہ و سفید کا مالک بن کر بیٹھ جانا

(2) اصولوں پر سودا نہ کرنے والے ججوں کو جبری برخاست کرنا اور باقی ماندہ عدلیہ کو مجبور کر کے اپنی مرضی کے فیصلے کروانا۔ وہ فیصلے سیاست دانوں کی پھانسیوں کے ہوں یا اپنے غیر آئینی اقدامات کو قانونی جواز کا سہارا دلانے کے۔

(3) الیکشن میں دھاندلی کروانا اور اپنی مرضی کی شخصیات اور گروپوں کو منتخب کروانا، اپنی پسندیداہ شخصیات اور پارٹیوں کے الیکشن کی مہم چلانا اور اس کام کے لئے ریاستی وسائل کو استعمال کرنا۔

(4) منتخب حکومت کو اپنی مرضی کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر عمل کرنے سے روکنا

(5) پڑوسی ممالک کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کرنا اور اسے برقرار کرنا

(6) میڈیا کو کنٹرول کرنا اور اظہار رائے کے حق کو غصب کرنا

(7) بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اس کے جائز اختیارات استعمال نہ کرنے دینا

(8) پاکستانی شہریوں کو اغواء اور قتل کرنا۔ یہ وہ شہری ہوتے ہیں جو بادشاہ سلامت کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کرنے کا جائز حق استعمال کرتے ہیں۔

(9) ملک کے اندر مسلح گروپس بنانا اور انہیں ملک کے اندر اور باہر استعمال کرنا۔

(10) دنیا کے بدترین دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دینا

اے ہمارے طاقتور لیکن عوام کی طاقت سے بے خبر بادشاہو، یہ سارے کھلے راز ہیں اور بچہ بچہ ان سے واقف ہے۔ یہ تمام الزامات ثابت ہیں۔ عدالتوں کے اندر یا باہر لوگوں نےایسے حقائق مہیا کر دئے ہیں جنہیں جھٹلانا ناممکن ہے اور بہت حد تک آپ نے بھی ان حقائق کو تسلیم کیا ہوا ہے۔ اسامہ بن لادن اور ملا اختر منصور کی پاکستانی سرزمین پر ہلاکتیں ناقابل تردید حقائق ہیں۔ حافظ سعید اور اظہر مسعود آپ ہی کی مرضی سے ہماری سر زمین پر دندناتے پھرتے ہیں اور پاکستان کی بدنامی کا باعث ہیں اور سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ دوسرے ممالک ان دہشت گردوں کی پاکستان میں موجودگی کو جواز بناتے ہوئے ہماری سرحدوں کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہمارا احتجاج کھوکھلا ہوتا ہے۔

گم شدہ افراد کے کیس نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ بہت سے اغواء شدہ پاکستانی شہری ریاست کی غیر قانونی حراست میں تھے اور ان میں سے بہت سارے اپنی جانوں سے ھاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لیکن یہ جرائم نہ صرف ابھی جاری ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کاش حالیہ واقعہ سے بادشاہوں کو یہ بات سمجھ آ جائے کہ عوام کی بے پناہ طاقت کسی وقت بھی حرکت میں آسکتی ہے۔ دو سرکاری ملازموں کے خلاف دھونس دھاندلی کا جرم سامنے آنے پر، عوام کی طاقت اگر صرف سوشل میڈیا کے ذریعے ہی، ریاست کے سب سے طاقت ور ادارے کو پسپا ہونے اور اپنے لوگوں کے خلاف ایکشن لینے پر مجبور کر سکتی ہے تو سوچیں یہی عوام کسی بھی واقعہ پر متحرک ہو کر اگر سڑکوں پر آ گئے تو انہیں کون روک پائے گا۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 324 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments