امریکہ میں آخری لڑکی اور صدر ٹرمپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں دنیا کے طاقتور ترین شخص یعنی سپر پاور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذہبی منافرت کا شکار افراد سے ملاقات کی۔ ان افراد میں ایک ایسی لڑکی بھی شامل تھی جس کو 2018 میں نوبل امن انعام بھی مل چکا ہے۔ اور یہ تو سبھی لوگ جانتے ہی ہیں کہ نوبل انعام ملنا دنیاوی لحاظ سے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ نوبل انعام یافتہ شخص کا شمار دنیا کی اہم ترین اور عظیم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ اس نوبل امن انعام کے پیچھے ایک بہت بڑی کہانی ہوتی ہے۔

اس کا بہت بڑا پس منظر ہوتا ہے۔ اس لڑکی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ اس کا نام نادیہ مراد طٰحیٰ ہے۔ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے ایک گروہ نے ان کے گھر پر حملہ کر کے اس کی والدہ اور 6 بھائیوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کر دیا تھا اور اس لڑکی کو اغوا کر لیا تھا۔ اور اس لڑکی کی زندگی کو جیتے جی جہنم بنا دیا تھا اس جینے سے اس کا قتل ہونا بہتر تھا۔

ایسی درد بھری کہانی کی حامل لڑکی سے جب صدر ٹرمپ سے ملاقات کرائی گئی اور اس کو اس لڑکی یعنی نادیہ مراد کے متعلق مختصراً یہ بتایا گیا کہ دہشت گردوں نے اس کی ماں اور 6 بھائیوں کو قتل کیا تھا اور نادیہ کو 3 سال تک قید کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک دن یہ فرار ہو کر ان کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور پھر اس نے جنسی درندگی کے گھناونے عمل کے خلاف جدوجہد شروع کر دی جس کے عوض اس کے اعتراف میں اس نہتی اور مظلوم لڑکی نادیہ کو دنیا کے سب سے بڑا ایوارڈ نوبل انعام سے نوازا گیا۔

یہ سب کچھ سن کر میڈیا کے سامنے امریکی صدر ٹرمپ نے نادیہ سے حیرت انگیز سوال کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا کہ اب وہ کہاں ہیں؟ یعنی نادیہ کے خاندان کے قتل ہونے والے افراد اس وقت کہاں ہیں؟ اور دوسرا سوال یہ کیا کہ آپ کو نوبل انعام کیوں دیا گیا ؟ ہے نا حیران کرنے والی بات !

نادیہ مراد کا مختصر تعارف یہ ہے کہ یہ عراق میں آباد اقلیتی قبیلے کردش یزیدی سے تعلق رکھتی ہے۔ جب 2014 میں عالمی دہشت گرد تنظیم دولتِ اسلامیہ العراق والشام یعنی داعش کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس تنظیم کے ارکان نے مظالم اور جبر اور درندگی میں چنگیز خان اور ہلاکو خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ داعش کی جنسی درندگی اور دہشت گردی کی یہاں ایک مثال دینا ہی کافی ہے۔

جب 2014 میں داعش کے دہشت گردوں کے ایک گروہ نے عراقی کے دو شہروں موصل اور سنجر پر حملہ کیا تو وہاں ہزاروں بے گناہ مرد و خواتین اور معصوم بچوں کو قتل کر دیا۔ اور ان شہروں پر قبضہ کر کے 6700 خواتین کو قیدی بنا لیا۔ ان قیدیوں میں نادیہ مراد بھی شامل تھی۔ نادیہ کا گھر سنجر شہر میں تھا۔ دہشت گردوں نے نادیہ کے گھر میں موجود اس کی ماں اور 6 بھائیوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے سفاکی کے ساتھ قتل کیا جبکہ نادیہ کو وہاں سے اغوا کر کے اپنے ساتھ لے جا کر قیدی بنا لیا۔

نادیہ کو اس لئے قتل نہیں کیا کہ وہ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل دوشیزہ تھی۔ اس کو قیدی بنا کر جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے لئے مختص کر دیا۔ ان 6700 بدنصیب قیدی خواتین میں سے 600 خواتین کو بعد میں اس لئے قتل کر دیا گیا کہ وہ ان کی ضرورت کی نہیں رہی تھیں۔ نادیہ کی زندگی جہنم بن گئی تھی۔ اس کو روزانہ جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس کی ذات اک کٹی پتنگ کی طرح بنا دی گئی تھی۔ اس کو مالِ غنیمت کے طور پر لونڈی بنا دیا گیا تھا۔ پھر اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کو داعش کے اہم رہنما ایک دوسرے کو بطور تحفہ عنایت کرتے رہے کبھی ایک درندے کے پاس تو کبھی دوسرے درندے کی ہوس کا نشانہ بنتی رہی۔ اس جہنم جیسی زندگی میں اس کو 3 سال کا عرصہ بیت گیا۔ با الآخر قدرت کو اس کی حالت پر رحم آ گیا۔

ایک دن ایک پہریدار کو اس کی حالت پر اس کے ساتھ دلی ہمدردی پیدا ہو گئی جس کی بنا پر اس کو اس جہنم جیسی زندگی سے نجات دلاتے ہوئے داعش کے دہشت گردوں سے فرار کرنے میں مدد کی اور نادیہ جرمنی کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ جسے مہاجر کیمپ میں ایک پناہ گزین مہاجر کی حیثیت سے ٹھہرایا گیا۔ یہاں سے اس کی دوسری زندگی کا آغاز ہوا۔ نادیہ نے داعش کے دہشت گردوں کے چنگل میں جس ظلم جبر بربریت دہشت وحشت اور درندگی کا ماحول دیکھا اور خواتین کی تذلیل بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل کے جس ماحول میں 3 سال کا طویل عرصہ گزارا ان کے اس نظام کے خلاف آگاہی مہم شروع کر دی جو ایک تحریک اور ایک جدوجہد بھی ہے۔

نادیہ نے خود پر ان تین برسوں میں ہر روز گزرنے والی قیامت پر مبنی آپ بیتی لکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کتاب کا نام اس نے Last Girl یعنی آخری لڑکی رکھا۔ جب یہ کتاب چھپ کر مارکیٹ میں آئی تو بڑی تعداد میں بک گئی۔ اس کتاب پر نادیہ کو براعظم یورپ کے سب سے بڑے سیخاروف ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جبکہ 2018 میں نادیہ کو عالمی نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔

اسی نادیہ مراد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوچھا ہے کہ تمہاری ماں اور بھائی اب کہاں ہیں؟ اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آپ کو نوبل انعام کیوں دیا گیا۔ عالمی میڈیا نے اس بات پر ٹرمپ کو غائب دماغ اور احمق قرار دیا ہے۔ ویسے بھی ٹرمپ کو احمق اور تعصب پرست وغیرہ جیسے مختلف القابات سے مخاطب کیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ واقعی بیوقوف اور غائب دماغ ہے ؟ میری ناقص رائے کے مطابق اس طرح کے ٹرمپ جیسے لوگ بڑے چالاک اور عقلمند ہوتے ہیں۔

ہمارے وطن عزیز میں تین سابق وزرائے اعلیٰ بھی ایسے گزرے ہیں جو اپنی باتوں اور عمل سے لوگوں کو خوب ہنسایا کرتے تھے۔ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم خان رئیسانی اور میر تاج محمد جمالی بھی بہت ہوشیار اور ذہین گزرے ہیں لیکن ان کو بھی کچھ لوگ احمق اور بیوقوف کہتے تھے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان کی بھی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں اگر عمران خان ٹرمپ سے عافیہ صدیقی کے بارے میں بات کریں جس کا امکان تو نہیں ہے مگر فرض کریں اگر اس موضوع پر بات کر ہی لی تو مجھے خدشہ ہے کہ ٹرمپ صاحب عمران خان سے نادیہ سے 2 سوال کے بجائے تین سوالات نہ کر ڈالے کہ عافیہ صدیقی کون ہے اب کہاں ہے اور آپ اس کے بارے میں کیوں بات کر رہے ہیں؟ نادیہ اور عمران خان کو مرزا غالب کا یہ شعر نہ دہرانا پڑے کہ

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •