کیا کسی کو تاجروں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں؟


آپ ذرا باہر نکل کر دیکھیں، بازار کر چکر لگا کر آئیں، دکانوں کی حالت زار دیکھیں، جن مارکیٹوں میں کبھی کندھے سے کندھا چھلتا تھا، پاوں کے اوپر پاوں پڑتے تھے، تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی، خریداروں کی قطاریں دکھائی دیتی تھیں، خریدوفروخت کے لئے وقت کم پڑجاتا تھا، آج ان بازاروں میں گاہک چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا، آج ان مارکیٹوں میں خریدار تلاش کرنے کے لئے دیدہ بینا درکار ہے، تجارت کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے، معیشت کا عالم اس بانکے جیسا ہے، جو کسی رقاصہ کی دہلیز پر بے سدھ پڑا ہوا ہے۔

کاروبار میں مندا سا مندا ہے کہ خرچے ہاتھی جیسے ہیں اور بکری اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاجر ناراض ہیں، دکاندار غصے میں ہیں، بیوپاریوں کی بھنویں تنی ہوئی ہیں، آڑھتیوں نے آستینیں چڑھائی ہوئی ہیں، اور عوام سوچ رہے ہیں کہ روشن صبح کی آس میں انہوں نے جو خواب دیکھا تھا، وہ پو پھوٹنے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا ہے، ہر طرف داغ داغ اجالہ ہے کہ۔ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔

ایک جانب کاروبار مسلسل مندے کا شکار ہے، اور دوسری جانب حکومت تاجروں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس نکلوانا چاہتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ تاجر بالکل بھی ٹیکس نہیں دیتے یا مزید دینا نہیں چاہتے۔ لیکن ہر کام کی طرح ٹیکس وصولی کا بھی کوئی اصول ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے جب ٹیکس بڑھتا ہے تو تاجر یہ ٹیکس اپنی جیب سے نہیں دیتا۔ بلکہ خام مال والا ٹیکس کا بوجھ مل اونر پر ڈال دیتا ہے۔ مل اونر یہ بوجھ ڈسٹری بیوٹر پر ڈال دیتا ہے۔ ڈسٹری بیوٹر یہ بوجھ ریٹلر پر ڈال دیتا ہے، اور یوں ریٹیلز ٹیکس کا یہ بوجھ اینڈ یوزر یعنی گاہک پر ڈال دیتا ہے اور گاہک کون ہے؟ ظاہر ہے عام آدمی ہی گاہک اور خریدار ہے۔

پاکستان میں کسی بھی شعبے میں جتنے بھی ٹیکسز ہیں وہ براہ راست عام آدمی ہی ادا کرتا ہے، یا یوں کہیے کہ یہ ٹیکسز عام آدمی سے ہی نکلوائے جاتے ہیں، اب ٹیکسز بھی کوئی ایک ہو تو پھر ہے ناں! حالانکہ ہر بجٹ کے موقع پر کہا تو یہی جاتا ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، اور یہ عموما ہوتا بھی کچھ کچھ درست ہی ہے کہ بجٹ میں عموما نئے ٹیکسز کم کم لگائے جاتے ہیں، بلکہ پہلے سے موجود ٹیکسز کی شرع میں ہی اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اب پہلے سے موجود ٹیکسز کی بھی ایسی طویل فہرست ہے کہ دیوار چین بھی شرما جائے! اب یہی دیکھیں کہ ٹیکس، انکم ٹیکس، نیگیٹو انکم ٹیکس، کیپٹل گین ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس۔

اُف۔ ! چارج، سرچارج، ایڈیشنل سرچارج، سیلز ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، لیوی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس سمیت نجانے کون کون سے ٹیکسز ہیں؟ اتنے زیادہ ٹیکسز ہیں کہ ایک سانس میں گننے بھی مشکل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ٹیکس عام آدمی کے پلے تو نہیں پڑتا البتہ گلے ضرور پڑجاتا ہے۔ عام آدمی کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ ٹیکس کیوں لگایا جارہا ہے یا بڑھایا جارہا ہے؟ اس کی تُک کیا بنتی ہے؟

اس کی منطق کیا ہے اور کس قانون کے تحت یہ ٹیکس عوام پر تھوپا جارہا ہے؟ بس بجٹ آتا ہے اور بے چارے عوام پر یہ ٹیکسز نافذ کردیے جاتے ہیں اور عوام یہ خراج دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ عوام کی منشاء جانے بغیر، عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھے بغیر، عوام کی آرزووں کا پاس کیے بغیر اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کیے بغیر، ٹیکس زدہ بجٹ عوام کے منہ پر دے مارا جاتا ہے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر ٹیکس عام آدمی ادا کرتا ہے تو پھر یہ تاجروں اور دکانداروں نے ملک بھر میں کیوں ہڑتال کررکھی ہے۔ تو اس کا جواب بہت سادہ سا ہے، ظاہر ہے ٹیکسز کی بھرمار کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید ختم ہوتی چلی جارہی ہے، عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہوگی تو تاجر کی بکری یعنی سیل بھی متاثر ہوگی۔ جب سیل کم ہوگی تو دکاندار، بیوپاری، آڑھتی، تاجر اور مل اونر کا منافع یا بچت بھی کم ہوگی۔

یہ سوال بجا ہے کہ اگر حکومت یورپ جیسے ٹیکسز لینا چاہتی ہے تو عام آدمی سے لے کر مل اونر تک کو سہولیات بھی کیا یورپ جیسی دے سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کو حقوق کی بجائے فرائض کی ادائیگی کا سبق پڑھایا جاتا ہے تو حکومت یہی اصول اپنے لیے کیوں مقرر نہیں کرتی کہ پہلے ماں جیسی ریاست بننے کا فرض ادا کرے اور پھر عام آدمی سے یورپی عوام جیسے ٹیکس ادا کرنے کا حق بھی مانگے۔ یاد رکھیں! اگر ایسا نہیں تو میاں باقی سب کہانیاں ہیں۔

Facebook Comments HS