پروپیگنڈہ کیا ہوتا ہے اور یہ کرتا کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے، پہلے جانتے ہیں کہ پروپیگنڈے کی اہمیت کیا ہے۔

یووال ہریری کی کتاب، ہومو سیپئنز، اک حیران کر دینے والی کتاب ہے۔ اس میں انسانی ارتقاء کی داستان کے علاوہ، منظم معاشرے اور منظم ریاست کی پُرکاریوں پر بھی بہت عمدہ اشارے موجود ہیں۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ہومو سیپئنز اصیل افریقن تھے اور اپنے ارتقاء کے عمل کے دوران ان میں موجود چند طاقتور افراد نے بنیادی طور پر اپنی طاقت اور کنٹرول کی حرکیات (The dynamics of power and control) کو دوام بخشنے کے لیے مختلف مقدس نظریات تخلیق کیے۔

انہی مقدس نظریات کی بنیاد پر خوف اور انعام کا کلاسیکی بیانیہ تشکیل دیا اور پھر اسی بیانیہ کی وجہ سے بکھرے ہوئے لوگ، پہلے گروہ بنے۔ پھر یہ گروہ قبائل بنے جو بعد از کمیونیٹیز بنیں۔ جب بہت سارے کمیونیٹیز مشترکہ مفادات کی بنیاد پر، یا طاقتور قبیلے کے سیاسی و تقدیسی بیانیہ کے زیر تسلط آپس میں ملیں، تو گاؤں، قصبے اور شہر آباد ہوئے۔ انہی کے ملنے سے پہلے علاقائی ریاستیں بنیں، اور اک بار پھر، طاقتور قبییلے کے سیاسی و تقدیسی بیانیے نے ان علاقائی ریاستوں کو اک بڑی وحدت رکھنے والی اکائی میں سمیٹ لیا۔ انہی اکائیوں کو آج ہم ملک، قوم، ریاست کے نام سے جانتے ہیں۔

مثال دیتا ہوں کہ برٹش انڈیا میں، بٹوارے سے قبل، تقریبا 584 علاقائی ریاستیں تھیں۔ ان میں سے تقریبا 20 ریاستیں آج کے پاکستان میں تھیں۔ آج وہ ریاستیں کدھر ہیں؟ ان تمام ریاستوں کو ان سے زیادہ طاقتور تقدیسی و سیاسی بیانیہ کھا گیا۔ 584، پہلے دو میں تقسیم ہوئیں۔ 1971 کے بعد، یہ دو، پھر تین میں تقسیم ہو گئے۔ 1971 کی تقسیم بھی بنیادی طور پر 1947 کے بیانیہ سے زیادہ طاقتور بیانیہ کی وجہ سے ممکن ہوئی کہ جہاں مذہب اور حقوق کے نام کی سیاست کو قومی و لسانی شناخت نے پچھاڑ ڈالا۔

کچھ وجہ تو ہے کہ موجودہ پاکستانی ریاست قومی و لسانی شناخت کی بنیاد پر سیاست کرنے والی کسی بھی جماعت کے حق میں نہیں۔ ویسے، میں بھی قومی و لسانی شناخت کی بنیاد پر سیاست کے حق میں نہیں۔ یہ عموما حقوق کے نقطہءآغاز سے شروع ہوتی ہیں اور بہت جلد، نسل پرستی کی سرنگ سے گزرتی ہوئی، تشدد کے میدانوں میں جا نکلتی ہیں۔ میرے محدود مطالعہ میں، کم از کم، یہ نکتہ تو ثابت ہے۔

اوپر کی تھکا دینے والی تقریر کے بعد، اب آتے ہیں کہ پروپیگنڈہ کرتا کیا ہے۔

اگر آپ بہت پکے اور انیسویں صدی کے مزاج کے پکے مسلمان عالم نہیں تو آپ فلمیں ضرور دیکھتے ہوں گے (جدید دور میں مسلمان عالم ویسے اب فلموں پر ہی چلتے ہیں ) ۔ خیر، ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلم میں آپ اپنے آپ کو اس فلم کے کرداروں کے ساتھ جذباتی طور پر بھی منسلک کر لیتے ہیں۔ آپ اس فلم کے ہیرو کے بارے میں وہ نہیں سوچ رہے ہوتے، جو آپ اس فلم کے ولن کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ ہیرؤئن، اس کے (عمومی) مجبور باپ اور مظلوم ماں کے بارے میں آپ کی رائے، اس رائے سے الگ ہوتی ہے جو آپ اک متکبر اور دولت کے نشے میں ڈوبے ہیرو کے باپ، اور ماں کے بارے میں رکھ رہے ہوتے ہیں۔ ٹریجڈی فلم میں آپ کے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ کامیڈی فلم میں آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے ہیں، بھلے ان دونوں مختلف فلموں کی کاسٹ یکسر ایک جیسی ہی کیوں نہ ہو۔

شاہ رخ خان، دیو داس ہو تو پارو کے دروازے پر خون تھوکتے ہوئے آپ کو رُلا دے گا۔ یہی شاہ رخ خان، ڈان میں اک انٹرنیشنل مجرم ہو، تو آپ اس کے ایکشن سے لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

آڈیو اور ویڈیو رابطے پر ملکیت رکھنے والا پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ڈیڑھ سے ڈھائی گھنٹوں میں گویا آپ کے خود کے سوچنے کی اہلیت سے محروم کرتے ہوئے، آپ کے ذہن کو اپنی مٹھی میں بند رکھے ہوئے، جس طرف چاہے موڑ رہا ہوتا ہے۔ تو سوچئیے، کہ ماکیاویلی طرز کی ریال۔ پالیتیک مزاج رکھنے والی ریاست کہ جس کے پاس ہر طرح کی وسیلہ موجود ہوتا ہے، وہ آپ کے ذہن کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر سکتی؟

محترمین، یہ پروپیگنڈہ ہی ہے کہ آپ کو پاکستان بنانے والوں کے وارث، سیاستدان پاکستان کے ازل سے ہی کرپٹ، وطن دشمن، نکمے اور بے کار دِکھتے ہیں اور پاکستان میں غیرآئینی مداخلتیں کرنے والے پاکباز، محب الوطن، جفاکش اور سودمند معلوم پڑتے ہیں۔

محترمین، یہ پروپیگنڈہ کا ہتھوڑا ہی ہے جو آپ کے اذہان کو مرضی سے توڑے، موڑے اور مسخ کیے چلا جاتا ہے کہ جس میں آپ پاکستان کے پانچویں بڑے انفرادی ٹیکس پئیر اور تقریبا 30 کروڑ روپے ٹیکس ادا کرنے والے شاہد خاقان عباسی کو کرپٹ اور نالائق اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والا سمجھتے ہیں۔ جبکہ تقریبا تین ارب کی ظاہر شدہ جائیداد رکھنے والے، محترم عمران نیازی صاحب، جنہوں نے سال 2018۔ 19 میں 103,763 روپے ٹیکس ادا کیا، کو ایمانداری اور شفافیت کا ایورسٹ سمجھتے ہیں۔

محض اپنے حقوق پر مسلسل مُصر، اور فرائض سے روگردانی کرتی ریاستیں، پروپیگنڈہ کو اک ہنکارے کے طور پر استعمال کرنا جانتی ہیں۔ اور جو اس ہنکارے میں اس پروپیگنڈے کے سنگ سنگ چلتے چلے جاتے ہیں، مجھے تو وہ جانور ہی دِکھتے ہیں۔

آپ کیا ہیں؟

پس تحریر: پروپیگنڈے کی اقسام پر پھر کبھی تحریر کر دوں گا۔ مگر یہ بتاتا چلوں کہ وطن عزیز میں یک طرفہ اور بے رحم پروپیگنڈہ بہت عرصے سے جاری ہے۔ اپنی اوائل جوانی میں، خادم بھی ہنکارے جانے والا چوپایہ ہی تھا۔ شکر ہے کہ سنہ 2005 سے انکاری ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •