پِچھل پیری، میم صاحب اور پپو میراثی
اس کے کئی رشتہ دار لاہور جا کر قوال، گویئے یا سٹیج کے فنکار بن چکے تھے۔ جو یہاں تھے وہ میلوں منڈیوں میں رہس رچا کر اچھی خاصی کمائی کر لیتے۔ انہی دنوں برکت بھی ان کے ساتھ مل کر چھوٹا موٹا تماشا کرتا اور جب دو چار سو روپے جیب میں آ جاتے تو اس کے کھبے ہاتھ میں خارش شروع ہو جاتی اور وہ گھر آنے سے پہلے دوستوں کا رخ کرتا۔ اب تو بھائی بندوں نے بھنگ اور چرس بھی شروع کرادی تھی۔ گھنٹوں سوئے رہنا، اٹھنا توجوڑوں کی درد کا بہانہ کر کے گھر بیٹھے رہنا یا دوستوں یاروں میں گپیں ہانکتے رہنا ہی اسے اچھا لگتا۔
اپنی تعریف سنے بغیر محفل بے برکتی رہتی سو برکت قصے کہانیاں سناتے یاروں کی آنکھوں میں جھانکتا کہ کہیں تعریف باقی تو نہیں رہ گئی۔ اُس کی بیوی دبے لفظوں اُس کی کاہلی اور کام چوری کی شکایت کرتی مگر یہاں بھی برکت کی ڈرامہ بازی جیت جاتی اور گھرکے برتن اکثر خالی ہی رہتے۔ بس اپنے روپ بہروپ میں مگن برکت اس ادراک سے دُور ہی رہا کہ گردوپیش بھی کروٹ کروٹ زندگی بدلتی ہے۔
بڑا بیٹا بڑے انہماک سے اس کردار کو چڑیل میں ڈھلتے دیکھتا اور سوچتا کہ کارخانوں کی دنیا میں کوئی مشین ایسی توہوگی جومیراثیوں کا روپ بدل دیتی ہو۔ اس کا نام پپو ہے۔ پپو میراثی کو ماحول میں ہر شے بدلنے کا شدت سے احساس ہے۔ پھیلتی ہوئی منڈیوں میں جو قدر مقرر کی جارہی تھی، پپومیراثی سمیت اس سے ہر شخص آگاہ اور بے چین تھامگر میراثیوں کے دروازے پر لٹکتی بوسیدہ اور اُدھڑی ہوئی دری برکت کی طرح ہر قسم کے اناج اور تفکر سے بے نیاز وہیں کی وہیں تھی۔
ہر روزپپو میراثی گلی سے گزرتی ہوئی بھر پور زندگی کو بوسیدہ دری کی طرح سکڑتی ہوئی فنی میراث سے تقابلی موازنہ کرنے کے لیے بیرونی دیوار پر کہنیاں اٹکا کر کھڑا ہوجاتا۔ خاکی پتلونوں اور نیلی قمیضوں میں ملبوس چست وچالاک اُجلے اُجلے جسموں کو سائیکلوں، موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں میں اور گھر کے پاس سے گزرتے دیکھتا تو محرومیوں کے بوجھ سے دیوارسے گرتا محسوس کرتا، چکرا جا تا اوراپنے گھر کو شہر سے دورہٹتامحسوس کرتا۔
بائیں طرف چھوٹا بھائی دلبر ننگے پاؤں کسی سائیکل کے پرانے ٹائر کو گھماتا گھر کی طرف پلٹتا ہے جیسے وقت کا پہیہ گھر کی طرف گھما رہا ہو۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ وقت بھی آجاتا ہے کہ سارا علاقہ مراثیوں کے گھر کو عجیب اور اجنبی نظروں سے دیکھتا ہے اور ایک دن وقت کے اٹل فیصلوں کے سامنے برکت کو اپنی شکست تسلیم کرنا پڑی۔ بچوں کے سوالات سے گھبرا کر اُسے کہنا پڑا کہ تم بڑے ہوجاؤگے توہر شے بدل جائے گی۔
اور آخروہ دن بھی آگیا۔
۔ جب ہر شے بدل چکی تھی۔ دونوں لڑکے بڑے ہو چکے تھے اور برکت کے چڑیلی پن کو احتساب کی عدالت کی طرف گھسیٹنے لگے تھے۔ خود ساختہ دنیا کی کھوٹ واضح ہونے لگی تو پہلی دفعہ برکت کو محسوس ہوا کہ اُس کے اندر کی پِچھل پیری کٹھّی مُٹھی ہوتی، جسم کے اندر ہی چھپنے لگی ہے اور باپ سامنے آنے لگاہے۔ گزشتہ سالوں میں لڑکوں نے ماحول سے کیاسیکھا اُسے پتہ ہی نہ چلا۔ کتنے ڈرامے، کتنی فلمیں وہ دیکھ چکے تھے جن کا نچوڑ اُن کی حرکتوں اور جگتوں سے ٹپک رہا تھا۔
کس طرح کماتے اور کیسے اُڑاتے ہیں اس پربرکت کوکوئی اعتراض نہیں تھا مگرآج شام جگتوں کے نشتر اُس کی کھال میں چھید کرنے لگے تو وہ پہلے ہنساپھر پریشان ہوا اور پھر ایسا ڈراکہ کچھ کھائے بغیرسالوں پرانے بستر پر لیٹ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ پِچھل پیری اوڑھ کے سوجاتا اُس کی نظر ڈھلتی شام پرپڑی۔ کبوتروں کی غٹر گوں چھت سے اُتر کر اس کے اعصاب پر پھڑپھڑانے لگی۔ بے چینی بال نوچنے لگی تو آنکھیں اُلٹ کر اپنے اندرکو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔
پورے جسم کی کایا پلٹ چکی تھی۔ اندر لمبی اور تاریک غاریں جن میں سیاہ بال اُگ چکے تھے، یہ بال بڑی بڑی رسیاں بننے لگے۔ یہ لمبی لچھے دار رسیاں اس کو کھینچتے ہوئے اس کھنڈرمیں لے گئیں جو کبھی اس کے باپ دادا کے فن کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ وہ ماضی کی گلیو ں میں ہانپنے لگا۔ تقریباً سبھی دروازے کھٹکھٹائے مگر فن کدے سے کہیں سے کوئی جواب نہ ملا۔ اُس نے قبرستان جانا چاہاتاکہ پُرکھوں کو جگا سکے اور اپنے کھوئے ہوئے سوالوں کے جواب لے سکے۔ شکستہ ماضی میں مدفون وقت سے والہانہ محبت اُس کی آنکھوں سے ٹپکنے لگی۔ ملبے تلے موسیقی کے ٹوٹے ہوئے آلات سر بکھیرنے لگے تو بے اختیار اُس نے گانا شروع کیا:
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبرو قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
واہ وا ہ کی داد نے اُسے چونکا دیا۔ آنکھیں پلٹ کر دیکھا تو چھوٹا بیٹا کبوتروں کے ڈربے بند کرتے ہوئے واہ واہ کررہا تھا۔ ماں بڑے کو چولہے میں لکڑیاں جلانے کے لیے پکاررہی تھی مگر وہ کمرے میں اپنی ہی دنیا کا نقشہ پھیلائے کوئی واضح ٹھوس اور جامع حکمتِ عملی ترتیب دے رہاتھا۔ بڑے کے پیچھے پیچھے چھوٹے نے بھی کمرے کا رُخ کیا اور دونوں مل کر آنے والے کل کے خواب بُننے لگے، گارمنٹس سے خریدے ہوئے ریڈی میڈ کپڑے اور کاسمیٹکس سامنے پھیلائے گئے۔
دلبر ماں کی طرح گوری رنگت اور تیکھے نقوش سے فطری طور پر سجا تھا۔ لباس پہن کر بازار سے خریدے نئے آئینے میں دیکھا تو اُس کی اپنی ہی چیخ نکل گئی۔ پپو پیچھے سے اس کو خبردار کرتے ہوئے بولا ”ابھی نہیں۔ دیکھتا جا۔ ابھی تو وِگ پڑی ہے۔ پمپی شوز اور پائلیا۔ شور مچائے نیند اُڑائے۔ “ ( معنی خیز انداز سے گاتا ہے )۔
برکت ان کی کُھسرپُھسر سُنتے ہوئے چارپائی سے بولا،
” اوئے تم لوگ کوئی نیا چن نہ چڑھا دینا“
اندر سے نسوانی اور تیکھی سی مگر مدھم سی آواز آئی۔
”اب ٹم ہمارے آئٹم ڈیکھنے کا۔ ایک ڈم پٹاخہ۔ “
دوسرا اپنے لہجے میں ہیجان بھرتے ہوئے کہنے لگا،
” اب ایسی فن کاری ہوگی کہ پوری برادری میں زندگی تھرکتی دھڑکتی نظر آئے گی۔
کھلے صحن میں چارپائی پر لیٹے برکت دونوں ہاتھوں سے اپنے سر تلے تکیہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ ایک غزل گنگنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
”نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں“
اندر سے جواب ملا ”جو کسی کے کام نہ آسکے، میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں“
” چار پائی پر لیٹے لیٹے برکت نے اُن کی ماں سے پوچھا یہ کس چیز کی نشانیاں ہیں۔ “
” قیامت کی“ جواب ملا۔
کمرے سے آوازآئی ”ہمارے دھندے میں دخل نہیں دینے کا۔ “
”ہاں۔ “
”ورنہ۔ “
” خلاص۔ “
اور کمرہ منہ سے بجنے والے طبلے کے ساتھ ”شام ہے دھواں دھواں“ کی دھن میں رقص کرنے لگا۔
آسمان پر کہیں کہیں سفید بادل تیر رہے تھے۔ دونوں میاں بیوی ٹمٹماتے ہوئے ستاروں کو ایک ایک کرکے بادلوں میں چھپتے دیکھتے ہیں۔ نئے فن کی چمک آنکھوں میں لیے لڑکے اپنے اپنے بستر کا رُخ کرتے ہیں۔ برکت ستاروں کو بادلوں میں چُھپتا دیکھتا ہے اور اُن کے باہر نکلنے کا انتظار کرتا ہے۔ لڑکے آنکھوں میں اُمید لیے کروٹیں بدلتے ہیں پورا گھر کھلے آسمان کو دیکھتا ہے۔ ان کی ماں خالی برتنوں میں خوش بختی کی منتیں مرادیں رکھ کرڈھلتی عمر کو پھونکتی ہے اور سوجاتی ہے۔ برکت پھر پِچھل پیری کے اندرکوئی نیابرکت ڈھونڈتا ہے۔ دراڑیں مارے درو بام اونگھتے ہیں۔ اس کے بعدسناٹا صحنوں میں کروٹیں بدلتا ہے۔ کچھ دیر بعد بڑے اسٹیشن سے چلنے والی ریل گاڑی سکوت کا سینہ چیرتے ہوئے میراثیوں کے پچھواڑے سے گزرتی ہے اور ایک کھڑکھڑانے والی صبح کا پیغام دیتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

