وزیراعظم کا تاریخی دورہ امریکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان امریکہ کے تاریخی دورے پر ہیں۔ یہ دورہ کئی لحاظ سے تاریخی ہے۔ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی، پرائی جنگیں لڑنے، پراکسی پالنے اور کوئی واضح خارجہ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے سفارتی محاذ پر تقریبا پوری دنیا میں تنہا ہوچکا تھا یا اسے تنہا ہونے کا ڈر تھا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ شدید مالی مشکلات کا شکار تھا، اس پر فوجی اور سول دونوں طرح کی پاکستانی امداد تقریبا بند ہوچکی تھی، اورایک بار پھر تاریخ کے دوراہے پر کھڑا تھا۔

اس لئے پاکستان کے وزیراعظم کی خواہش تھی کہ کسی طرح جاکر ان کی دادرسی کی جائے، انہیں تھوڑی سی مالی مدد کی آفر کی جائے اور ان کے ساتھ ان کی داخلہ وہ خارجہ پالیسی پر بات چیت کرکے اور انہیں یقین دہائی کرائی جائے کہ اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا، یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارہ تو میں تمہارا۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کے کسی وزیراعظم یا صدر نے امریکہ کا دورہ نہیں کیا، اگر کسی نے کیا ہے تو شلوار قمیص نہیں پہنے، بلکہ پینٹ شرٹ پہن کر اور پرچیاں جیب میں لے جاکر اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے جبکہ اس بار رٹہ اس قدر مضبوط ہے ملاقات سے قبل کنٹینر والی تقریر حرف بہ حرف سٹیڈیم میں دہرادی۔

بعض دانشورانِ فیس بک کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کوئی بھی جرنیل اپنے منتخب وزیراعظم کو ساتھ نہیں لے گیا، بلکہ خود ہی معاملات طے کرنے کے لئے گیا، جس طرح مشرف جمالی اور شوکت عزیز کی جگہ خود ہی معاملات طے کرتا تھا جبکہ اس مرتبہ آئی ایس پی آر نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے کہ دورے کی سربراہی وزیراعظم ہی کریں گے، ظاہر ہے پٹواری یقین نہیں کریں گے اور مولانا فضل الرحمان تو حسد کی وجہ سے نکے دے ابا کا نکے کو ساتھ لے جانے کی ضد والی جگت مارے گا، مریم بی بی کہے گی کہ جب اس کے والد بھی جایا کرتے تھے تو چند جرنیل ساتھ ہوا کرتے تھے اور جہاز میں بیٹھ کر اپنے اپنے ڈائیلاگ کہنے کی پریکٹس ہوتی تھی۔

جبکہ بلاول کو تو ویسے بھی اردو نہیں آتی اور پاکستانی قوم کی انگریزی ویسے بھی کمزور ہے اس لئے اس کی بات کی کوئی اوقات ہی نہیں۔ کون کسے ساتھ لے جایا کرتا تھا، کون اس دورے میں سربراہی کررہا ہے، یہ بحث بہرحال تب تک جاری رہے گی جب تک پارلیمان، عدلیہ، الیکشن کمیشن اور سیاستدان مل کر جمہوریت اور جمہوری نظام پر متفق نہیں ہوتے، لیکن یہ بات بہرحال درست ہے کہ پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم نے اس سے پہلے کمرشل فلائیٹ میں امریکہ کا دورہ نہیں کیا، نہ ہی واشنگٹن میں تیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کو فٹ بال کے گراونڈ میں اکٹھا کرکے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے۔

یہ دورہ اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ اس میں دو دیوانے یعنی وژنری لیڈرز مل بیٹھ کر اپنے اپنے وژن پر ایک دوسرے کو قائل کریں گے اور دنیا کے دو عظیم قوموں کے مستقبل کا فیصلے کریں گے۔ وژن انگریزی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے آنکھوں کی بینائی۔ خوش قسمتی سے دونوں لیڈروں کو ابھی تک عینک پہننے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور آج بھی امریکہ اور پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو اپنے وژن سے زیادہ ان دونوں کے وژن کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کے اندر اپنے وزیراعظم کے وژن پر کچھ لوگ اعتراضات اٹھا رہے ہیں، لیکن وہ سب پٹواری ہیں، ورنہ اوورسیز پاکستانی جانتے ہیں کہ ایسے عظیم لیڈر صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا لیڈر ہے کہ اس کی آمد سے ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ اضافہ کرنسی ایکسچینج اور ڈالر، پاونڈ اور ریال سب پر لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ پیسے روپوں میں کنورٹ ہوں اور وہ بھی پاکستان میں، البتہ امریکہ اور کینڈا کے اوورسیز پاکستانیوں کا اپنے ملک اور وطن سے اس قدر پیار ہے کہ وہ پاکستان کو بھی امریکہ اور کینڈا کی طرح اسلامی فلاحی جمہوری ریاست بنانا چاہتے ہیں، جس کے لئے وہ باقاعدہ طور پر چندہ بھی دیتے آئے ہیں، اور آئندہ بھی دیں گے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کا ملک بھی امریکہ اور کینڈا بن گیا تو پھر ان کی دوہری شہریت کی کوئی اہمیت ہی نہ رہے گی۔

وزیراعظم اور صدر ٹرمپ کے اس رومانوی ملاقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی سیٹنگ سعودی شہزادے ایم بی ایس نے کرائی۔ یہ وہی ایم بی ایس ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ماموں کے بہت سارے بیٹوں جن کے نام کامران ہیں، کو سعودی عرب کی جیلوں سے فیس بک اور ٹوئٹر پر رہائی دلوائی تھی، سعودی عرب میں پاکستان اور ہندوستان کا بیک وقت سفیربھی ہے اور اپنے ملک میں چند سنیما اور تھیٹر کھول کر مشرقِ وسطیٰ کو یورپ بنانے کا دعویٰ کرچکا ہے، کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ یورپ کی ترقی کا راز جمہوریت، جمہوری اداروں کی بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی، علم، یونیورسٹیاں، انڈسٹریلائزیشن، پوری دنیا کی مارکیٹوں، سمندروں اور فضائی حدود، چاند اور مریخ پر قبضہ نہیں بلکہ سنیما ہاؤس کھولنے میں پوشیدہ ہے۔

دوسری جانب بعض ٹوئٹراٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی دلی خواہش تھی کہ بطورِ وزیراعظم امریکہ کا دورہ کرکے ٹرمپ کاکا کے ساتھ تصویریں بنائے، اسے راتوں کے پچھلے پہر اچانک اٹھ کر یا نییند نہ آنے کی صورت میں پاکستان کے خلاف ٹویٹ کرنے، مودی کو فون اور وٹس ایپ مسیجز کا ریپلائی کرنے، نیٹو کی سپلائی خود روکنے، ڈرون حملے افغانستان تک محدود رکھنے، حافظ سعید کی گرفتاری کا کریڈٹ لے کر شہریار افریدی کا ایمان خراب کرنے، شیخ رشید کا بھرم رکھنے، تینتیس ارب ڈالروں کو بھول جانے، کولیشن سپورٹ فنڈ کے بقایاجات دینے، ڈاکٹر شکیل افریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرنے اور آئی ایم ایف کی آنٹی کو کم سود پر زیادہ پیسے دینے کی درخواست کرے گا  اور قبول نہ ہونے کی صورت میں خودکشی کی دھمکی دے گا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو پاکستان میں تیارکردہ مصنوعات کو اپنی دکانوں میں بیچنے یعنی تجارت کرنے کے مواقع ڈھونڈنے نیز اس ڈاکٹر کا نام بھی امریکہ کے ای سی ایل میں ڈالنے کا ہے جسے پاکستانی امریکہ سے پاکستان واپس لانا چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر امریکہ کو اپنے سچے پیار کی قسمیں اٹھا اٹھا کر باور کرانے کی کوشش کرنا اور تعلقات میں پیچ و خم اور اتارچڑھاؤ کی ذمہ داری اپنے رقیبوں نواز شریف اور زرداری پر ڈالنے کی کوشش کرنا ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ پاکستان کو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا میں مدد دینے، طالبان کو افغان حکومت میں شامل ہونے، جنگ کا راستہ روکنے، پاکستان میں جمہوریت اور افغانستان مین شریعت نافذ کرنے یا اس قسم کے کسی بھی تجربے سے دور رہنے کے احکامات دے گا، نیز ان ساری شکایات کا بھی ذکر ہوگا جو افغانستان اور ہندوستان پہلے ہی ٹرمپ تک پہنچا چکے ہیں۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں!

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کی کوشش کی ہوگی کہ مالی مشکلات میں گھرے پاکستان کی تھوڑی سی مالی مدد کی جائے یا ڈالروں کی ترسیل دوبارہ شروع ہوجائے جبکہ ٹرمپ تینتیس ارؓ دالر کا حساب مانگ کر پرانی تنخواہ پر ہی گزارہ کرنے ورنہ نوکری ہاتھ سے جانے کا دباؤ ڈالے گا۔ تا ہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ دباؤ کا پیرنی کے جنات کو پہلے سے علم ہوچکا تھا اس لئے اس نے تعویذ کے ساتھ ساتھ ایک خاض وظیفہ بھی دیا ہے جس کے اثرات وائٹ ہاؤس میں موجودگی کے وقت وزیراعظم کی باڈی لینگویج دیکھ کر ان تصویروں میں بھی جس میں ٹرمپ کی خوبصورت بیوی اور عمران خان دائرے کے اندر جبکہ ٹرمپ دائرے سے باہر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں عمران خان دیوار پر پینٹنگ دیکھ رہا ہے اور ٹرمپ سمیت سب لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔

اب جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ریاستِ مدینہ کا خلیفہ بنایاہو، وہ منتخب وزیراعظم بھی ہو، نوجوانوں کے سب سے پسندیدہ لیڈر ہو، پاکستان اور ہندوستان کی بہت ساری آنٹیاں آج بھی اسے دیکھ کر ہائے اللہ کتنا ہینڈسم ہے، چشمِ بد دور، نظر نہ لگے، کہتنی ہوں، پاپولر اتنا ہو کہ امریکہ میں بھی سٹیڈیم بھر دے اور ٹرمپ بھی قائل ہوجائے کہ اس سے زیادہ پاپولر کوئی نہیں، حسن میں چائے والے مودی اور عقل میں ٹرمپ کو بھی مات دے، تو ایسے وزیراعظم کے دورہ کو تاریخی، کامیاب ترین نہ کہنے والے یا تو پٹواری ہوسکتے ہیں، یا کوئی غیر محبِ وطن، بیورنی ایجنٹ اور غدار۔ چاہے وہ صحافی ہو، سیاستان ہو، لکھاری ہو یا فیس بک پر گریڈ بائس کا دانشور۔ ۔

پاکستان کی شان ہیں آپ
پاکستان کی آن ہیں آپ
عمران خان ہیں آپ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ضیا اللہ ہمدرد کی دیگر تحریریں
ضیا اللہ ہمدرد کی دیگر تحریریں