دورۂ امریکہ اور ⁩صدر ٹرمپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کی خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت جب کہ امریکہ میں 22، جون کی صبح ہو چکی ہے اور لوگ اپنے کاموں پر جا چکے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو لگے کا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

امریکی صدر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں اور دنیا میں اہم واقعات پر اپنا نقطۂ نظر اپنے ذاتی ٹویٹ کے ذریعے لکھتے ہیں۔ مذید یہ کہ وہ امریکہ کے اندر نسبتاً کم اہم واقعات بھی زیر بحث لاتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار تواتر سے کرتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنے میں مشہور ہیں اور ایسے واقعات پر بھی رائے زنی فرما دیتے ہیں کہ جن پر اُن کا گفتگو کرنا ضروری نہیں بھی سمجھا جاتا۔

مگر آج صبح اُن کا ٹویٹر اکاؤنٹ دیکھنے سے اُن کے ریگولر فالوورز کو ضرور تعجب ہؤا ہو گا کہ وہ اپنی ناک کے نیچے ایک انتہائی اہم واقعے سے بے خبر ہیں۔ بالخصوص جبکہ وائٹ ہاؤس جو امریکی صدر کی رہائش گاہ، دفاتر کی خوبصورت، مشہور اور تاریخی عمارت ہے، واشنگٹن ڈی سی میں ہی واقع ہے جہاں پاکستان کے مقبول ترین وزیر اعظم عمران خان ٹھہرے ہؤے ہیں کہ جن کی پارٹی نے پچھلے انتخابات جیت کر کچھ چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر، اب تک پاکستان میں قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں میں مضبوط ترین، فعال ترین اور دیانتدار حکومت قائم کی ہے، اور جنہوں نے وہیں پر ایک، بیس ہزار کی گنجائش والے ایرینا میں تیس ہزار تارکینِ وطن پاکستانیوں سے خطاب کیا ہے۔

اور اس لئے بھی کہ خان (وزیر اعظم کے چاہنے والے، انہیں پیار سے خان کہتے ہیں ) کا یہ خطاب نہایت ہی اہم نوعیت کا تھا کیونکہ مغربی دنیا اور اُس کی پالیسیوں کا زیادہ ادراک اور فہم رکھنے کا وہ بارہا عندیہ دے چکے ہیں، اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جو تقریر انہوں نے امریکہ میں پاکستانیوں کے بھرپور اجتماع میں کرنی ہے اس کی کیا اہمیت ہے، وہ انٹرنیشنل میڈیا اور تعلققاتِ بین الاقوامی کے ماہرین کتنے ذاویوں سے دیکھیں گے اور مستقبل قریب و بعید میں اُسے پاکستان کے معاملات پر فیصلے کرتے وقت بیرونی دنیا کس طرح استعمال کرے گی۔

امریکی صدر نے اسی مہینے کمال مہربانی سے خان صاحب کو امریکہ کے دورے کی دعوت دی۔ پاکستان کے ہر دلعزیز وزیر اعظم چونکہ عوام کے وسیع تر مفاد میں، بیرونی دوروں کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں لہٰذا انہیں اس اچانک دی جانے والی دعوت کو قبول کرنے میں کوئی وقت نہیں لگا۔ اس طرح وہ اپنی گونا گوں مصروفیات کہ جس کا مرکزی نقطہ اپوزیشن کو سبق سکھانا اور این آر او نہ دینا ہے، سے تین دن نکال کے کل ہی امریکہ پہنچ گئے جہاں ان کا، امریکی سرزمین پر اعلی سطحی پاکستانی وفد نے پاکستانی وزیر خارجہ کی قیادت میں استقبال کیا اور انہیں ایک پبلک ٹرین پر مسافر ٹرمینل سے لایا گیا۔

سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی ایک وڈیو میں شاہ محمود قریشی ان کا استقبال کرتے نظر آ رہے ہیں اور وہی اُن کو ایک امریکی خاتون سے بھی ملوا رہے پیں، بعد ازاں، خان ٹرین میں تشریف فرما ہو کر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے گفتگو بھی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ خان نے اپنی روایتی سادگی کا مظاہرہ اپنے استقبال تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اُن کی کابینہ کی ایک رکن، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جو وفاقی حکومت کی مشیرِ اطلاعات بھی ہیں، نے کل ہی یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وزیر اعظم نے دورۂ امریکہ کے دوران، امریکی حکومت کی سرکاری رہائش گاہ کی پیشکش سے فائدہ نہ اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی وجہ اخراجات کی بچت ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکی حکومت اس فیصلے کے نتیجے میں بچ جانے والے اخراجات کا کوئی اور بہتر استعمال کر سکے گی۔

تارکینِ وطن پاکستانیوں سے خطاب میں وزیر اعظم نے انہیں کچھ نہیں کہا بلکہ اپنے خطاب کا فوکس اپوزیشن رہنماؤں پر ہی رکھا۔ اس کی وجہ غالباّ یہی ہو گی کہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانی بھی پاکستان کی معاشی صورت حال کی بجائے پاکستانی اپوزیشن رہنماؤں کو رگڑا لگانے کی خبروں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہوں۔

اگر آپ نے وزیر اعظم کا وہ خطاب نہیں سنا تو آپ پاکستان میں وزیر اعظم کا کوئی اور خطاب دوبارہ سُن لیں۔ بس اُس میں دو باتیں اور شامل کر لیں کہ جو وزیر اعظم نے پہلی دفعہ کہی ہیں، یعنی یہ کہ وہ پاکستان واپس پہنچ کر فوراً ہی نواز شریف کی جیل کے رہائشی کمرے سے اے سی اتروا لیں گے اور ٹی وی اُٹھوا لیں گے۔ دوسرا یہ کہ احسان مانی، زلفی بخاری، عون چوہدری اور نعیم الحق کا تذکرہ کیے بغیر اُنہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے کسی دوست کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔

وزیر اعظم نے پاکستانیوں کے اس بڑے اجتماع سے عام باتیں کرنے سے احتراز کیا۔ مثلاً انہوں نے پچاس بلین ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جس کی خبر چند دن پہلے ایک ٹی وی چینل کے صحافی چوہدری غلام حسین نے بریکنگ سٹوری کے طور پر دی تھی۔ نہ ہی وزیر اعظم نے اسی صحافی کی بریکنگ نیوز کہ شریف فیملی تین بلین ڈالر دینے کو تیار ہو گئی ہے اور کچھ رقم کسی دوسرے ملک کی وساطت سے مل بھی گئی ہے، پر کوئی تبصرہ کیا۔ البتہ خان نے پاکستانی امریکیوں کو چین کی سوشلسٹ پارٹی کی خوبیاں بتائیں، مولانا کے ڈیزل والے معاملے کا تذکرہ کیا اور اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ وہ این آر او نہیں دیں گے۔

ہمارے اس کالم کا موضوع وزیر اعظم کا خطاب نہیں ہے ورنہ اس تاریخی خطاب کے بارے میں ابھی کئی اہم باتیں کی جا سکتی ہیں کہ جو وزیر اعظم نے نہیں کیں۔ ہماری دلچسپی صدر ٹرمپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ میں اُس تشنگی سے ہے کہ جو پاکستان کے مقبول ترین، منتخب وزیر اعظم کے واشنگٹن میں تاریخی موجودگی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر ابھی تک خاموش ہے اور نہ ہی کوئی جذباتی خوش آمدید کا پیغام دے رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •