واشنگٹن کا جوش اور ہوش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن ڈی سی میں مقیم پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی آمد پر بہت پرجوش ہیں اور یہ اس جوش کا کمال ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ایرینا کو پاکستانیوں نے تاریخ میں پہلی بار کھچا کھچ بھر دیا۔ واشنگٹن کے لوگ عمران خان کو پاکستان کے لئے آخری امید سمجھتے ہیں اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ عمران خان کا ٹیکس وصولیوں کا نظریہ بہت زبردست ہے چونکہ یہاں کے تمام پاکستانی ایک ایسے نظام میں کام کر رہے ہیں جہاں ٹیکس وصولی کا نظام درحقیقت انہی کی بہتری کا باعث ہے لہذٰا عمران خان ٹیکس وصولیوں کے ذریعے ہی پاکستان کو حقیقی فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستان کے لوگ پہلے صرف شوکت خانم کی مالی امداد کر کے مطمئن ہو جایا کرتے تھے لیکن اب وہ عمران کی قیادت میں ایک عظیم پاکستان دیکھنے کے لئے بے چین ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں عمران خان کو سخت اور طاقتور اپوزیشن کا سامنا ہے اور پاکستان کے لوگ براہ راست مہنگائی کی طوفانی لہروں کی زد میں ہیں مگر امریکہ کے اوورسیز پاکستانیز پاکستان کے موجودہ برے حالات کو نہ صرف عارضی تصور کرتے ہیں بلکہ وہ یہ بات یقین کے ساتھ بھی کرتے ہیں کہ ان مشکلات کی بنیادی وجہ سابق حکمرانوں کی لوٹ مار ہے۔

وزیر اعظم عمران نے کیپیٹل ایرینا میں اگرچہ پاکستانیوں کی توقعات کے عین مطابق خطاب کیا لیکن اس خطاب میں پرانی تقریروں کی تکراریہاں بھی موجود تھی۔ وزیر اعظم کے خطاب کے دوران تقریر کے اگلے جملے لوگ خود بولنا شروع کر دیتے۔ وزیر اعظم سے بے پناہ محبت اور توقعات رکھنے والے لوگ اب ان کی تقریروں کو فلم شعلے کا ہی ایک حصہ تصور کرتے ہیں۔ تقریر کے دوران کئی ڈائیلاگ وہ خود ادا کرکے محظوظ بھی ہوتے ہیں اور تسکین بھی پاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اپنی میراتھن تقریر کے آخر میں میلہ ہی لوٹ لیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران میں پاکستانیوں کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا اور امریکی انتظامیہ سے خودداری کے ساتھ بات کریں گے اور پرچیاں ہاتھ میں رکھ کر بات نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے آغاز میں ذوالفقار علی بھٹو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قائد اعظم کے بعد ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ایک ذہین لیڈر ملاتھا لیکن وہ بھی نیشنلائزیشن کے نام پر کچھ نہیں کرسکے۔ وزیر اعظم کی تقریر میں زیادہ زور میرٹ پر دیا گیا اور کہا کہ جمہوریت کے ذریعے ہی میرٹوکریسی آ سکتی ہے وزیر اعظم نے یکساں نظام تعلیم متعارف کروانے کا بھی یقین دلایا۔

وزیر اعظم نے ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے واشنگٹن میں اپنی بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کر کے ایک طرف امریکی انتظامیہ کی توجہ حاصل کی اور ساتھ ہی پاکستانیوں کو بھی ایک روشن پاکستان کا پیغام دیا۔ وزیراعظم واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے وفد اور دیگر کاروباری شخصیات کے ساتھ میٹنگز میں مصروف رہے اور پینٹا گان میں عسکری قیادت نے اہم ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم اور عسکری قیادت کا یہ دورہ پاکستان کے لئے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اس دورے کے اثرات پورے خطے کے لئے بہترین ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں اس وقت پاکستان کا جوش اور ہوش دونوں موجود ہیں۔

کیپیٹل ون ایرینا میں ہونیوالی اس تقریب میں وزیر اعظم کے خطاب سے پہلے ان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ اس ویڈیو میں ان کے کرکٹ کیرئیر سے آغاز کیا گیا اور 2014 ء کا دھرنا اور وزیر اعظم بننے تک کا سفر دکھایا گیا۔ واشنگٹن میں مقیم پاکستانیوں نے اس ویڈیو کو بہت ہی انہماک سے دیکھا اورعمران خان کی جدوجہد پر داد بھی دیتے رہے۔ وزیر اعظم کے لئے منعقد کی گئی اس تقریب میں ایک ہی جھنڈے تلے تمام پاکستانی متحد نظر آئے اور پاکستان کے مقامی عہدیدار جن کو خدشہ تھا کہ کوئی نا خوشگوار واقعہ بھی ہوسکتاہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور ایسی توقع رکھنے والوں کو حیرانگی کا سامنا کرنا پڑا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 55 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat