تمھیں کیا بھئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چاند کی روشنی میں ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنی ”سری“ کو بلند کر کے نگاہ مرد مومن سے ارد گرد کا جائزہ لیا تو تقدیر بدل چکی تھی۔ مخالف قوتیں پسپائی اختیار کر چکی تھیں۔ مشتعل افراد اپنا محاصرہ اٹھا لے گئے تھے۔ گویا ہم ”پین دی سری“ والی صورت حال سے دوچار ہونے سے بال بال بچ گئے تھے۔ (اس داستان کے لیے ہمارا گذشتہ کالم ”پیر و مرشد کے متبرک کلمات کے مہلک اثرات“ ملاحظہ فرمایئے۔ )

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ کو مزید صورت حال سے آگاہ کریں گے۔ اب ہم کوئی سیاست دان تو ہیں نہیں کہ وعدہ کر کے بھول جائیں۔ ہمیں اپنا وعدہ اس انتہائی نامساعد صورت حال میں بھی یاد ہے چناچہ ہم آپ کی قوتِ مطالعہ کا مزید امتحان لینے کو تیار ہیں۔

آپ کو یاد ہی ہو گا کہ اتوار بازار میں پیر و مرشد کے افکارِ میں سے چند متبرک کلمات کی بے وقت ترویج کے اثرات کی بدولت ہمیں اتوار بازار کے عقبی برساتی نالے میں ”آئی ڈی پی“ بننا پڑا تھا۔ کچھ دیر پہلے تک ہم خود کو راہ حق کا مسافر سمجھرہے تھے مگر جب مردِ مجاہد کے لیے وقتِ شہادت آیا تو ہم اپنے اندر وہ حوصلہ پیدا نہ کر سکے اور یوسین بولٹ کی رفتار سے بھاگتے ہوئے بالآخر برساتی نالے میں غروب ہوگئے۔ بعد ازاں غازی بننے پر ہم نے خدا کا شکر ادا کیا اور برساتی نالے ہی سے طلوع ہو گئے۔

خشک برساتی نالے میں ہم ”یوں ہوتا تو کیا ہوتا“ کے مختلف زاوئیے سوچ سوچ کر پسینے میں بھیگ چکے تھے۔ اپنے طویل مگر غیر متوقع قیام کے طفیل ہمیں اپنے خیالات سے تفصیلی طور پر رجوع کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ شریف اعظم کی طرح ہم اس سوال پر بھی غور کر رہے تھے کہ آخر ہمارا قصور کیا تھا۔ ہم نے اس سوال پر اتنا غور کیا کہ ”رانجھا رانجھا کردے میں آپے رانجھا ہوئی“ کے مصداق ہمارے اندر شرافت کا نزول ہو گیا۔ ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہماری گاڑی کانٹا تبدیل ہونے کی بنا پر غلط پٹڑی پر چڑھ گئی تھی۔ جوں ہی ہمیں ”راستے میں خبرہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے“ ہم نے فوری یو ٹرن لیا اور رائے ونڈ جنکشن سے گاڑی تبدیل کر لی۔

ہر آئی ڈی پی کا مقدر کچھ عرصہ کی دربدری (خواری) سہنے کے بعد بالآخر اپنے گھر کی آبادکاری ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ ہوئے توہین آمیز سلوک کے بعد ہم بھی بذریعہ جی ٹی روڈ گھر جانا چاہتے تھے۔ برساتی نالے سے طلوع ہونے کے بعد تاریک راہوں میں گرتے پڑتے ہم سڑک تک پہنچے۔ ہمارے موبائل فون کی بیٹری عارضی طور پر داغِ مفارقت دے چکی تھی اور یوں ہم سستے سفر کے لیے نجی ٹیکسی سروس کی خدمات حاصل کرنے سے بھی معذور ہو چکے تھے۔

سڑک پر پہنچتے ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ ”ہم شریف کیا ہوئے، ساری دنیا ہی بدمعاش ہو گئی تھی۔ “ اس کا سب سے پہلا ثبوت ہمیں لب سڑک موجود اکلوتی کالی پیلی ٹیکسی کے لال پیلے ڈرائیور نے دیا جب اس نے نجی ٹیکسی سروس کے مقابل چھ گنا زائد کرایہ طلب کیا۔ پہلے تو ہم بھونچکے رہ گئے اور پھر کچھ لے دے کر معاملہ طے کرنے کی کوشش کی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے گریڈ اٹھارہ سے اکیس کے سے افسران کی شان سے انکار کیا اور ٹیکسی بھگا لے گیا۔ دور جاتی ہوئی ٹیکسی کی عقبی روشنیاں نہ جانے کیوں ہمیں ہیروں کی مانند چمکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

ہم نسخہ ہائے شرافت سے ابھی نئے نئے نوازے گئے تھے۔ مجموعہ خیال ابھی فرد فرد تھا اور جذبات میں وہ ٹھہراؤ پیدا نہیں ہوا تھا جو شرفا کا طرہ امتیاز ہے لہٰذا اس سلوک پر ہکا بکا رہ گئے۔ رات کے اس پہر آس پاس تو کیا دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہم آخر کتنی دیر تک ہکا بکا رہتے۔ اندر سے کوئی چیخ چیخ کر کہ رہا تھا کہ ”قدم بڑھاؤ قدم بڑھاؤ فکر مت کرو تم تنہا نہیں ہو گھبراؤ مت تم قدم بڑھاؤ۔ “ اور ہم نے قدم بڑھا دیے۔ اس وقت ہم تنہا تھے مگر سینکڑوں قدموں کی آہٹیں ہمارے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ کچھ دیر اور کچھ دور چل کر ہم نے پلٹ کر دیکھا تو پریشان ہوگئے۔ ”میں تنہا تھا، میں تنہا ہوں“ کی سی صورت حال تھی۔

تقریباً دو گھنٹے تک مسلسل قدم بڑھانے کے بعد ہمیں ایک نیک دل فوجی نے لفٹ دے دی۔ گھر تک پہنچنے کو اور کوئی بھی وسیلہ دسترس میں نہ پا کر ہم نے طوعا و کرہا لفٹ قبول کر لی۔ تاہم ہم نے فوجی سے سوال کیا کہ رات کے اس پہر سنسان سڑک پر ایک اجنبی کو لفٹ دیتے اسے ڈر نہیں لگا؟ فوجی جو اپنے انداز سے نہایت پراعتماد معلوم ہوتا تھا، بولا کہ اسے ”ڈر ور“ نہیں لگتا۔ ہمیں لگا کہ یہ بات شاید ہم پہلے بھی کہیں سن چکے ہیں مگر ذہن پر خاصا زور دینے کے باوجود ہمیں یاد نہ آ سکا کہ یہ لہجہ اور الفاظ ہم نے پہلے کب اور کہاں سنے تھے۔ بہرحال! دورانِ سفر فوجی سے گپ شپ رہی اور ہم نے اسے ان حالات سے آگاہ کیا جن سے ہم حال ہی میں گزرے تھے۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اس داستان میں سفر کٹ گیا۔

صبح کے تقریبا پونے چار بجے جب فوجی نے ہمارے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو ہمارے عالی شان گھر کو دیکھ کر حیران ہوا۔ ہماری داستان سن کر وہ شاید یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ہم کوئی ٹٹ پونجیے ہیں۔ ظاہر ہے جب رات کے تین بجے ایک سنسان سڑک پر ایک شکستہ حال شخص آپ کو ملے اور اپنی دکھ بھری داستان آپ کو سنائے تو آپ اس کو ارب پتی تو نہیں نا سمجھ سکتے۔ اس کے استفسار پر ہم نے بڑے غرور سے بتایا کہ یہ گھر ہمارا ہی اثاثہ ہے۔ ہماری بات سن کر فوجی کے لبوں پر جو مسکراہٹ ابھری اس نے ہمارے تن بدن میں آگ لگا دی۔ ہمیں لگنے لگا جیسے ہماری تمام مصیبتوں کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے۔ ہمیں اس بات کا اس قدر یقین ہو گیا کہ ہمیں اس سے نفرت محسوس ہونے لگی۔

گاڑی سے اترتے وقت ہم نے اس کی بڑبڑاہٹ سنی۔ وہ کہ رہا تھا ”بڑے میاں سٹھیا گئے ہیں۔ اپنا حالت نہیں دیکھتے۔ کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ اثاثہ ان بڑے میاں کا ہی ہے۔ “ تب ہم پلٹے اور انتہائی کرخت لہجے میں اسے جواب دیا۔

”اتنے تم اعتراض کرنے والے۔ اگر تمھیں میری حالت دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ اثاثہ میرا ہے تو پھر تمہیں کیا؟ تمھیں کیا بھئی؟ “
فوجی نے پہلے تو گھور کر ہماری طرف دیکھا۔ پھر اس نے کندھے اچکائے اور گاڑی آگے بڑھا دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 108 posts and counting.See all posts by awais-ahmad