جگا ایک دن ہار جائے گا


\"zafarullah-khan-3\"بلونت سنگھ کے افسانے کا کردار’جگا ‘ کالے رنگ کا دیو ہیکل مرد تھا۔ اس کے کاندھے غیر معمولی طور پر چوڑے تھے۔ ہاتھوں اور چہرے کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ آنکھیں سرخ انگارہ، ناک جیسے عقاب کی چونچ، چوڑے اور مضبوط جبڑے۔ ہاتھ میں ایک تیز خمدار ہتھیار۔ جگا ڈاکو، اصلی نام سردار جگمت سنگھ ورک وہ خوفناک شخص تھا جس کا نام سن کر بڑے بڑے بہادروں چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ قتل، غارتگری، ظلم، لوٹ مار اس کے ہر روز کے مشاغل تھے۔ لڑکپن اور شباب خون کی ہولی کھیلنے میں گزر گیا۔ موت کے ساتھ کھیلتا ہوا سو جاتا اور موت کا مذاق اڑاتا ہوا جاگتا۔ محبت، حسن، شفقت، نیکی کا اس کے نزدیک کچھ بھی مفہوم متعین نہیں تھا۔ دور دور تک اس کی دھوم تھی۔ علاقہ بھر اس سے تھراتا تھا۔ اس کا دل پتھر، بازو آہن، غصہ قیامت، دہن شعلہ۔ وہ ایک قہر تھا۔

جگا جیسے لوگ کیوں پیدا ہوتے ہیں اس پر تو نفسیات دان ہزاروں مقدمات قائم کر چکے ہیں۔ ہاں مگر سردار جگمت سنگھ، جگا کیسے بنتا ہے اس کا ایک ہی اصول ہے اور وہ ہے طاقت۔ طاقت کا جائز استعمال اپنی جگہ درست ہو گا مشکل یہ ہے کہ طاقت کا بطور اصول استعمال انسانی معاشرے میں اب جائز نہیں رہا ہے۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف حیوانی وجود نہیں رکھتا بلکہ ایک ذہنی وجود بھی رکھتا ہے۔ جہاں تک حیوانی وجود کا تعلق ہے تو وہ چاہے انسانی وجود ہو یا حیوانات کا وجود، اسے طاقت سے زیر کیا جا سکتا ہے۔ مگر انسان کا ذہنی وجود طاقت سے زیر کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسان کی جانور پر برتری سوچ، فکر، خیال کی ترتیب و آرائش اور فیصلہ سازی کی قوت ہے۔ \"general_takehara_hands_sword\"انگریزی کا مقولہ مستعار لیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ (Humans can think about a thought)۔ انسان تصور کی تخلیق پر قادر ہے۔ انسان میں فیصلہ سازی کی صلاحیت صرف ’اشیا‘ پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ انسان اقدار، اصول اور ترجیحات کو بھی فیصلہ سازی میں اہم عناصر کے طور پر رکھتا ہے۔ دوسری طرف جنگل میں بقا کا قانون صرف طاقت پر منحصر ہے۔ بڑا چھوٹے کو کھاتا ہے۔ طاقتور کمزور کو پچھاڑتا ہے۔ انسان ایک برتر تہذیب میں اس لئے داخل ہوئے کیونکہ انسانوں میں اقدار و قوانین بنانے کی صلاحیت موجود تھی۔ اقدار بنانے کی صلاحیت انسانی خیال(ideas)  سے پروان چڑھا ہے۔ خیال میں مگر ایک مسئلہ ہے۔ خیال انسانی ضمیر، سمجھ، علم اور معلومات سے جنم لیتا ہے۔ ایک انسان کو جسمانی تشدد سے کسی بھی چیز پر قائل کیا جا سکتا ہے لیکن ذہنی طور پر ایک انسان کو کسی خیال یا فکر پر اس وقت تک قائل نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اسے سچ تسلیم نہ کرے۔ ایک انسان کو کچھ کرنے یا کہنے پر تو مجبور کیا جا سکتا ہے لیکن ذہنی طور پر کچھ منوانے کے لئے اسے قائل کرنا ضروری ہے۔ انسانوں کو قائل کرنے لئے اس فکر، نظریہ، سوچ کا بھی سچ یا جائزہونا لازم ہے جس پر قائل کئے جانے کی خواہش ہوتی ہے۔

 مدعا یوں ہے کہ وجاہت مسعود نے اپنے گزشتہ کالم میں دو جملے لکھے تھے جس میں اس ملک کے چار عشروں کی تاریخ سمو دی۔ لکھتے ہیں، ’ ایسا نہیں ہے کہ جمہوریت کے افق پر سب بادل چھٹ گئے ہیں۔ 1977 میں ضیاءالحق مرحوم نے ہمیں نوے روز کے انتظار کا پیغام دیا تھا۔ قریب چالیس برس گزرنے کے بعد ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ نوے روز کی اس معیاد میں ابھی کتنے روز باقی ہیں‘۔

اس تاریخ سے بلونت سنگھ کا جگا یاد آگیا۔ افسانے کی ہیروئن گرنام کے حسن نے آس پاس کی بستیوں کے نوجوانوں میں ایک ہلچل سی مچا \"main-qimg-2998473947dbde23730be024093ec994\"دی تھی۔ گرنام مگر ابھی گڑیا کی مانند معصوم تھی۔ شباب کی آمد آمد تھی۔ گاﺅں کے کئی نوجوان اس کی محبت کا دم بھرتے تھے جن میں ایک کردار دلیپ سنگھ کا بھی تھا۔ جگا ڈاکو کسی رات اس گاﺅں میں سے گزرتے ہوئے رکا، تو گرنام پر نظر پڑ گئی۔ جگا دل ہار گیا۔ وہ دھرم سنگھ کے نام سے گرنام کے گھر آنے جانے لگا۔ گرنام کے دادا کے علاوہ کوئی اس کی حقیقت سے واقف نہیں تھا۔ گرنام بھی نہیں۔ اس نے گرنام کے دادا کو بتایا کہ وہ ڈاکہ زنی چھوڑ کر ایک شریف انسان کی زندگی گزارے گا اگر گرنام کی اس سے شادی کر ادی جائے۔ دادا کے پاس ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جگا چاہتا تھا کہ وہ گرنام کو خود بتائے گا۔ اس سے پہلے کہ جگا گرنام سے اظہار محبت کرتا گرنام نے ایک دن اسے بتایا کہ اس کے گھر والے کسی امیر آدمی سے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں جبکہ گرنام دلیپ سنگھ سے محبت کرتی ہے۔ گرنام کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے طے کیا کہ وہ دلیپ سنگھ کو مار دے گا۔ کسی رات اس نے دلیپ سنگھ کو رات کے اندھیرے میں روکا۔ دلیپ سنگھ نوجوان تھا۔ چست تھا۔ پرجوش تھا مگر جگا کی طرح تجربہ کار نہیں تھا۔ وہ جگا سے ہار گیا۔ جگا اسے مارنا چاہتا تھا لیکن مار نہ سکا۔ جگا نے اس کے جسمانی وجود پر تو قابو پا لیا تھا مگر اسے ذہنی طور پر تسخیر نہ کر سکا۔ اور یوں جگا نے خود گرنام کی شادی دلیپ سنگھ سے کروا دی۔

طاقت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لازوال نہیں۔ ایک وقت ہوتا ہے کہ شیر کی دھاڑ جب جنگل میں گونجتی ہے تو سارے جانور ادھر ادھر بھاگنا \"paulusschmidtcaptured\"شروع کر دیتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ شیر بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے بیمار وجود کے پاس گدھ اور بھیڑے جمع ہو جاتے ہیں۔ انسانوں میں بھی طاقت کوجہاں انسانی جذبے کا سامنا کر پڑ جائے وہاں وہ ہار جاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں کسی کے پاس طاقت تو ہوتی ہے تو وہ انسانوں کو زیر کر لیتا ہے۔ مشکل مگر یہ ہے ان کے دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر پاتا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما کے محاذ پر جاپان انچاسویں ڈویژن کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل Takehara کا ڈنکا بجتا تھا۔ جاپان جنگ ہار گیا۔ اکتوبر 1945 کے کسی دن جب لیفٹیننٹ جنرل Takehara اپنی تلوار میجر جنرل Arthur W Crowtherکو پیش کرتا ہے تو ایک مضبوط جنرل کی بجائے ایک مجبور سپاہی نظر آتا ہے۔ اس کی آنکھیں چغلی کھا رہی ہوتی ہیں کہ وہ ایک ہارا ہوا انسان ہے جسے اب حکم دینے کا اختیار نہیں رہا بلکہ حکم سننے پر مجبور ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر سولہ دسمبر 1971 میں ڈھاکہ کے مقام پرلیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی ہے۔ جنرل محمد ضیاءالحق کا مقبرہ آج بھی فیصل مسجد کے احاطے میں ویران پڑا ہے۔ جن لوگوں نے جنرل صاحب کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا وہ اب ضیاءالحق کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں۔ ادھر مگر گڑھی خدا بخش کے قبرستان کے ساتھ لاکھوں انسانوں کی دل دھڑکتے ہیں۔ پرویز مشرف تو ابھی کل کی بات ہے۔ کہاں مشرف کی وہ طاقت کہ لوگوں کو مارنے کی دھمکیاں سر عام دیا کرتا تھا اور انسانوں کی موت پر مکے لہراتا تھا۔ کہاں یہ مجبوری کہ اپنے ملک سے فرار کے لئے ہسپتال میں پناہ لینی پڑی۔

 گرنام کی شادی ہو گئی۔ عرصے بعد رات کے کسی پہر گرنام باپو کے ساتھ گھر سے باہر کریلے کی بیل کے پاس کھڑی تھی۔ اچانک دور سے غبار اٹھا۔ کچھ سانڈنی سوال نمودار ہوئے۔ ان کی سجی سجائی سانڈنیاں، مردانہ اور دیو پیکر صورتیں، چمکتے ہوئے ہتھیار عجیب منظر پیش کرتے تھے۔ ان کا سالار تو غیر معمولی طور پر چوڑا چکلا شخص تھا۔ گرنام اسے دیکھتے ہی چلا اٹھی۔ باپو! وہ کون لوگ ہیں؟ یہ سب سے آگے والا شخص تو دھرم سنگھ دکھائی پڑتا ہے۔ نہیں بیٹی نہیں۔ وہ دھرم سنگھ نہیں ہے۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی پوتی کا سر سینے سے لگا لیا۔ اور پھر ببول کے درختوں کی جھنڈ میں غائب ہوتے ہوئے سانڈنی سواروں کی طرف خواب ناک نظروں سے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا، ’ آج جگا ڈاکو ڈاکہ ڈالنے جا رہا ہے‘۔

جگا ایک بار ہار چکا تھا۔ اس نے انسان کے جسم کو تسخیر کر لیا مگر دل و دماغ کو شکست نہ دے سکا۔ ایک دن آئے گا کہ جگا طاقت بھی ہار جائے گا۔ اس کی آنکھوں میں کسی بوڑھے شیر کی سی ویرانی ہو گی۔ وہ کسی کو تلوار تھماتے ایک مجبور اور شکست خوردہ شخص لگے گا۔ اس کا مقبرہ کی احاطے میں ویران پڑا رہے گا۔ وقت کی رفتار پر نظر رکھنی چاہیے۔ تاریخ کے پنوں میں اپنا چہرہ بار بار دیکھنا چاہیے۔ جگا کے ہاتھ میں ہتھیار تھا۔ دلیپ سنگھ کے دل میں امنگ تھی۔ ایک بہادر ہتھیار اٹھانے والا ہے۔ ایک بہادر مگر ہتھیار اٹھانے والے کے سامنے کھڑا شخص ہے جو بندوق بردار کو بتاتا ہے کہ تمہارے ہتھیار سے خوفزدہو کر سچ کا ساتھ نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عرفان ستار نے کسی وقت لکھا تھا ’ نہ کر ملال کہ ہر رنج رائیگاں ہے یہاں‘ مگر انسانی امکان سے وابستگی میں ہی تو انسانوں کے کل امید ہے۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah

Comments are closed.