کپتان کا دورہ واشنگٹن دو سو فیصد کامیاب رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت علیؓ کاقول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اپنے ان دوستوں سے کنارا کشی کرلو، جن کا دوستانہ تمہارے دشمنوں سے بھی ہے‘‘سالہا سال پہلے جب میں نے یہ قول پڑھا تو کچھ اس طرح دل میں اترگیا کہ زندگی کو قرار آگیا، چاروں طرف سکون ہی سکون پھیل گیا،اور دوستوں کے حوالے سے کوئی بد اعتمادی باقی نہ رہی ،اب یہ قول مجھے یاد آیا ہے نیوز چینلز پر ’’ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے معصوم‘‘ وزیر اعظم عمران خان کی وائٹ ہاؤس میں بالمشافہ ملاقات سے پہلے غیر روایتی مشترکہ پریس کانفرنس دیکھ کر۔

امریکی صدر نے اس پریس کانفرنس میں تنازعہ کشمیر پر ثالث بننے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر رضامند اس لئے ہوئے ہیں کہ دو ہفتے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں کہا کہ وہ تنازعہ کشمیر حل کرادیں کیونکہ یہ ایشو پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی برسوں سے چل رہا ہے۔ عمران خان نے جواباًکہا کہ اگر آپ نے تنازعہ کشمیر پر ثالثی کرادی تو ایک ارب سے زیادہ لوگ آپ کو دعائیں دیں گے۔

امریکی صدر کا یہ دعوی سامنے آتے ہی پورے بھارت میں الارم کھڑک گئے، میڈیا کے ہاتھ میں سب سے بڑی خبر آگئی، اور اس کے فوراًبعد بھارتی حکومت کے دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا کہ مودی نے ٹرمپ سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی، جھوٹ امریکی صدر نے بولا یا بھارتی حکومت نے سچ کو چھپا لیا ؟ یہ حقیقت تو سامنے آ ہی جائے گی، لیکن میرے خیال میں اس سچ جھوٹ سے پردہ صرف اور صرف ٹرمپ خود اٹھا سکتے ہیں کوئی اور نہیں، چلیں! ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر نے بھارت کے حوالے سے اور کیا کہا؟

ٹرمپ یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے کہ بھارت سے امریکہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں جبکہ پاک بھارت تعلقات اچھے نہیں ہیں، ٹرمپ نے گلہ کیا کہ اسلام آباد عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے واشنگٹن کا احترام نہیں کرتا تھا جہاں تک وزیر اعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن کے مطلوبہ نتائج کی بات ہے تو سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ دورہ سو فیصد کامیاب رہا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان کی منجمد امداد بحال کرنے کا اشارہ دیدیا ، ہم نے امداد اس لئے بند کی کہ پچھلی حکومت ہماری مدد نہیں کرتی تھی، امریکی صدر نے لفظ ،،مدد،، کی تشریح تو نہیں کی لیکن اسے سمجھنے کے لئے حافظ سعید کی گرفتاری کا واقعہ ہی کافی ہے۔

اللہ نہ کرے کہ امداد بحال کرنے کے اشارے کی تردید پنٹاگون کردے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان نئی محبت نے بارشوں کے موسم میں جنم لیا ہے، ایسے موسموں کی محبتیں شاعری میں تو پائیدار ہی نظر آتی ہیں‘ دیکھنا یہ ہوگا کہ سیاست کے عالمی منظر نامے پر یہ محبت کیا رنگ دکھاتی ہے؟ کچھ لوگوں نے ٹرمپ اور عمران خان کو ایک ہی طرح کی شخصیات قرار دیا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، عمران خان محبتوں پر ایمان رکھنے والا انسان ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ ،،تعلقات،، پر‘ اور یہ تضاد کوئی معمولی تضاد نہیں ہے۔

امریکی صدر سے ملاقات کے دوران اپنے وزیر اعظم عمران خان کی،، باڈی لینگوئیج،، پر بعض دوست معترض ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ درست کہتے ہوں لیکن عمران خان امریکی صدر کے ساتھ بیٹھے ہوئے سج بھی خوب رہے تھے، یہ ان کے پر اعتماد ہونے کا مظاہر تھا کہ انہوں نے کئی بار ،، دنیا کے سب سے طاقتور ملک،، کے سربراہ کی گفتگو کے دوران کئی بار ان کی ،، اصلاح،، بھی کی، امریکی صدر کی گفتگو کے دوران کئی بار ان سے توجہ ہٹا کر وائٹ ہاؤس کے کی چھت کا بھی نظارہ کیا، خوبصورت انداز میں انگلش بولی اور جیب سے کوئی پرچی نکالی نہ کسی بات پر ہکلائے، یہ تو پہلی محبت کی پہلی ملاقات تھی، آگے آگے دیکھئے، ہوتا ہے کیا؟

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •