امریکی دورہ اور نیا دور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دورہ دل کو ہو یا امریکہ کا، اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ دل کا دورہ ان کو پڑنے والا ہے جو امریکہ کو پاکستان کا دشمن سمجھ کر پاکستان دشمنی پر سیدھے اتر ائے تھے۔ سپر پاور چھوٹے چھوٹے پراکسی پریشر گروپ بناکر ان کے ذریعے کم قیمت پر کام نہ کرنے والے کمزور لیکن اہم ممالک کو صراط مستقیم سے ہٹنے نہیں دیتے۔ اور ایسے گروپ جن کی لیڈرشپ پرائی سرزمین پر بیٹھ اپنے ملک کے خلاف لیکن بظاہر اپنے مقاصد کے حصول کے لئے لڑتے ہیں استعمال ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی امریکہ میں بہت ساری چیزیں ڈسپوزیبل ہوتی ہیں۔

اس بات کا سرسری ذکر میں نے اپنے گذشتہ اخباری کالم میں بھی کیا ہے۔ جو اس فورم پر چھپ چکا ہے۔ کہ سعودی عرب نے نواز شریف حکومت کے ابتدائی دنوں میں پاکستان کو نامعلوم مد میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا ”تحفہ“ دیا تھا۔ جس کے بارے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں کی جا رہی تھی۔ کہ یہ امداد کیوں دی گئی ہے؟ امداد لینے کے باوجود نواز شریف حکومت نے نہ اس امداد کا اصل وجہ قوم کو بتایا اور نہ اس امداد کی ماہیئت ظاہر کی کہ کیوں پاکستان کو دے دی گئی تھی۔

الٹا پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی کہ پاکستانی فوج سعودی عرب کی کسی لڑائی میں استعمال نہیں کی جائے گی۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ امداد کس مد میں دی گئی تھی؟ اس امداد کی وصولی اور مناسب پاکستانی ردعمل کی غیرموجودگی کے بعد نواز شریف کی تنزلی شروع ہوگئی۔ جو جیل کی گرم تنگ کال کوٹھڑی پر اختتام پذیر ہوگئی۔

پانامہ کے قصے سے اقامہ کی برامدگی اور حکومتی معزولی کے بعد نواز شریف سے لندن فلیٹس کی منی ٹریل مانگی گئی۔ جس کے جواب میں نواز شریف نے ایک قطری شہزادے کا خط پیش کیا تھا۔ جس کے رو سے ظاہر کیا گیا تھا کہ رقم کہاں سے آئی تھی۔ لیکن قطری شہزادہ اپنی کوشش میں ناکام ہوگیا کیونکہ قطر پر اچانک، بظاہر کسی اور مسئلے کی وجہ سے عرب ممالک نے پابندیاں لگا دیں۔ اور ان کو نواز شریف کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے مسئلے حل کرنے مشکل ہوگئے۔ قطری شہزادے نے نہیں انا تھا نہیں ایا اور نواز شریف کے لئے جیل لکھ دی گئی تھی تاکہ سند اور عبرت رہے اور ڈالر لینے کے بعد کام نہ کرنے والے خبردار رہے۔

اب پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے بتادیا ہے۔ کہ نواز شریف حکومت کو ساڑھے تین ارب ارب ڈالر دینے کے لئے امریکی حکومت تیار تھی لیکن نواز شریف حکومت نے یہ رقم لینے انکار کیا تھا۔ جس سے نواز شریف کے زوال اور اورجیل جانے کے چند اور وجوہات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ پاکستانی سیاستدان اتنے بدقسمت ہیں کہ یہ جیل چلے جاتے ہیں۔ سولی چڑھ جاتے ہیں۔ گولی سے اڑا اڑادیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ خود نہ ان کے وارث ان کی موت اور زوال کے حقیقی وجوہات پر بات کرسکتے ہیں نہ منہ کھول سکتے ہیں۔

وہ بھٹو ہو ضیاءالحق ہو نواز شریف ہو یا کوئی اور۔ ان کے بچے اکثر ان کی موت کے بدلے میں حکومت اور مراعات حاصل کرلیتے ہیں اور باقی زندگی خوشی خوشی گذار لیتے ہیں۔ جیسے بے نظیر بھٹو جلسوں میں بھٹو کے پھانسی پانے کے بعد امریکی جھنڈے جلائے جانے برہم ہوئی اور کسنجر کی دھمکیاں بھول گئی تو پاکستان میں حکومت کی مالکن ہوئی۔ ضیاءالحق اور اختر عبدالرحمان کے بیٹوں نے وزارتیں لیں، بزنس امپائرز کھڑی کیں اور خاموش ہوگئے۔

اسی طرح مریم نواز شریف عمران خان اور اس کے سرپرستوں کو روزانہ چیلنج کرتی اور لتاڑتی ہے لیکن سعودی، امریکہ اور ان اربوں ڈالرز کا ذکر نہیں کرسکتی جو اس کے والد کے اخری دور حکومت کے ابتدائی دنوں میں پاکستان کو نامعلوم مد میں سعودی عرب نے ادا کیے تھے۔ یا ساڑھے تین ارب بلین ڈالر جو امریکہ ادا کرنے پر تیار تھا لیکن نواز حکومت نے لینے سے انکار کردیا تھا۔

پاکستان میں کوئی سول حکومت کبھی اس قابل نہیں رہی کہ وہ ملک اور بیرون ملک دفاعی مسائل اور معاہدوں پر کلی کنٹرول پر قدرت رکھتی ہو۔ اس لیے سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے بعد شاہد خاقان عباسی کے ضمنی حکومت کے ذریعے نواز شریف نے سعودی عرب فوج بھیجنے کی اجازت دیدی اور جنرل راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے قوانین سے بالا بالا سعودی عرب جانے اور نوکری اختیار کرنے کی منظوری بھی دی۔ یعنی ~ جو نہ کرنا تھا وہ بھی کر بیٹھے۔

اب امریکی فوج سعودی سرزمین پر اترنے والی ہے۔ جس کا بظاہر ہدف یمن کے حوثی باغی ہیں۔ جن کو ڈرون ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی تیل اور دفاعی تنصیبات پر کامیاب حملے کرنے کرنے پر دسترس حاصل ہوگئی ہے۔ نامعلوم قوت کے ہاتھوں خلیج میں مختلف ممالک کے سمندری جہازوں اور اور ائل ٹینکروں پر تباہ کن حملے ہورہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اچانک عراقی سرزمین پر داعش نامی دہشت گرد تنظیم کسی صحرائی بگولے کی طرح اچانک نمودار ہوگئی تھی۔

جن کے اختیار میں نہ صرف یہ کہ جدید جنگی مشینری اور بے پناہ وسائل تھے۔ بلکہ انسانی وسائل سے بھی مالا مال تھی۔ ان انسانی وسائل میں حیران کن طور پر بہت سارے سنہرے بالوں اور نیلی انکھوں والے سفید فام یورپین نوجوان بھی تھے۔ جو مسلمان والدین کے ”مایوس“ بیٹے اور بیشتر اسلام کی ”حقانیت“ سے متاثر ”نو مسلم“ تھے۔ جو اخری لڑائی شام میں لڑنے اور اخرکار کرد جنگجوؤں سے ”شکست“ کھانے کے بعد اسی طرح دوبارہ صحرا میں غائب ہوگئے جس طرح اچانک کوئی بگولہ اٹھنے کے بعد غائب ہوتا ہے۔

البتہ ان کے البتہ ان کے کاٹے ہوئے بڑے بڑے سر کے بال اور کٹی ہوئی داڑھیوں کے گچھے جگہ جگہ صحرا میں اج بھی تیز ہوا کے ساتھ اڑتے ہوئے ملتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اپنے یورپی سیف ہاؤسز میں ارام کر رہے ہیں اور کچھ ابھی تک کرد جنگجوؤں کو جنگ میں ٹیکٹیکل سپورٹ مہیا کرتے ہوئے ٹھنڈی بیئر کی چسکیاں لیتے ہیں۔ اپ نے امریکی دوست ملک اردن میں داعش قسم کا کوئی حملہ یا سرگرمیاں کبھی نہیں سنی ہوں گی۔ چشم بد دور۔

خلیج کے دھانے پر پاکستان ہے۔ جس کا ایران کے ساتھ لگا ہوا تیل بردار اور معدنیات سے مالا مال صوبہ، امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت اور مدد کے ساتھ بلوچی علیحدگی پسندوں کی شورش کا کئی دھائیوں سے جولاں جولاں گاہ بنا ہوا ہے، چند دنوں پہلے خوشگوار صورت حال سے دوچار ہوا۔ جب اچانک بڑے چوہدری نے اعلان کیا کہ بلوچ علیحدگی پسند دراصل دہشت گرد ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے مالی اثاثے اور سفری حرکت منجمد کردی گئی۔

کہتے ہیں عرب شہزادے نے مذاکرات کے لئے بہتر اور قابل اعتماد ماحول تیار کرنے میں کافی امداد کی ہے۔ اور مزید ”امداد“ امریکی دورے کے بعد کرے گا۔ قرض کی مے کی طرح قرض کی تیل کے خشک ہوتے ہوئے چشمے بھی ابلنے لگے ہیں۔ بلاؤل کا حمایتی بیان بھی اگیا ہے۔ لگتا ہے مریم نواز کے جلسوں کا ”پریشر“ قید میں پڑے نواز شریف کو رہا کرانے کا چمتکار کریں گے۔ یہ بچوں کی طرح اپس میں لڑنے کا وقت نہیں۔ کیونکہ بڑے لڑنے پر تیار ہوتے نظر اتے ہیں۔ توجہ بلوچستان بارڈر پر رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •