چیرمین سینیٹ کا انتخاب : خفیہ رائے شماری یا ووٹوں کی خریداری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارہ مارچ دو ہزار اٹھارہ چیرمین سینیٹ کا انتخاب، تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ صادق سنجرانی کے چیرمین سینیٹ منتخب ہوتے ایوان بالا ایک ساتھ ایک زرداری سب پہ بھاری اور آئی آئی ہی ٹی آئی کی نعروں سے گونج رہا تھا۔ کیونکہ اس وقت پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم کے مشترکہ امیدوار چیرمین سینیٹ کے طور پر سا منے آئے۔ مگر نظر ڈالی جائے 3 مارچ سے 18 مارچ 2018 کے حالات پر تو وقت نے کئی بار قلابازیاں کھائیں پہلا چیرمین سینیٹ کے لئے مسلم لیگ ن کا رضا ربانی کا نام مشترکہ امیدوار کے طور دینا حیران کن طور زاردی کا رضا زبانی کی حمایت نہ کرنا بلاول کا ربانی صاحب کے لیے ایڑی چوٹی کا لگانا اچانک سے پیپلز پارٹی کا اس وقت (مارچ 2018 ) کی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دینا، اچانک سے اپوزیشن اتحاد مضبوط ہوجانا اور صادق سنجرانی کا ان کا امیدوار بن جانا۔

یہ وہ تمام واقعات تھے جس کا ذکر ابتدا میں کیا گیا۔ چیرمین سینیٹ کے انتخاب پر آج تک انگلیاں اٹھتی ہیں کہ نمبر گیم تبدیل کیا گیا یا کروایا گیا خیر کیا اور کروایا کی بحث کا وقت تو نکل گیا۔ سینیٹ الیکشن پر سب سے بڑا سوال جو ہمشہ اٹھایا جاتا ہے وہ ہے خفیہ رائے شماری؟ ہر تین سال بعد جب بھی باری آتی ہے سینیٹ انتخابات کی اور پھر اس کے بعد چیرمین کے الیکشن کی تو ہارس ٹریڈنگ آوازیں بھی بلند ہونے لگتی ہیں۔ کڑوں کی بولی کی باتیں ہوتی ہیں۔

دیکھا جاے تو یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے ہر دفعہ خفیہ رائے شماری کے قانون کی تبدیلی کی باتیں بھی کی جاتی ہیں مگر جسے جسے وقت گزرتا ہے گرد بیٹھ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں حالات نے ایک بار قلابازی کھائی۔ جو پیپلز پارٹی صادق سنجرانی کے چیرمین منتخب ہونے پر ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگا رہی تھی اس ہی پیپلز پارٹی کے حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ اب یہ ہی وہ جماعت ہے جو تمام اپوزیشن کو اکٹھا کرکے چیرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے میں پیش پیش ہے۔

لگتا یہ ہی ہے کہ پی پی پی قیادت کو اس وقت شاید پس پردہ قوتوں نے جو کچھ دیکھا وہ ملا نہیں! ورنہ ایک منٹ کے لیے سوچا جائے تو وہی ایوان بالا ہے وہ ہی مسلم لیگ ن اور ویسا ہی انتخاب مگر اب یہ اتحاد اس لیے بھی ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے حالات بالکل ایک جسے ہیں! کیسے حالات؟ یہ بحث پھر کبھی سہی۔ تحریک عدم اعتماد لانے کے کم از کم 26 ارکان کے دستخط درکار تھے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے 44 کے دستخط کیے گئے۔

تحریک پر نوٹس کے سات ورکنگ ڈئز کے اندر اجلاس بلوایا جانا ہوتا ہے جس میں قرارداد پیش کرنے کی تحریک پیش کی جائے گی کہ اب چیرمین سینیٹ اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے۔ جس کے بعد خفیہ رائے شماری کروائی جائے گی۔ اگر سینیٹ میں اب تک کی پارٹی پوزیشن پر نظر ڈالی جائے تو کل ملا کر متحدہ اپوزیشن کے پاس 67 سینیٹر کی حمایت موجود ہے جبکہ حکومت کے پاس لگ بھگ 36 ارکان اپنے حق نے نظر آ رہے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے تبدیلی میں حکومت کی جانب سے بلوچستان کارڈ کھیلنا شروع کیا گیا اور کہا گیا کہ چھوٹے صوبے کے چیئرمین کو تبدیل کرنے سے محرومیاں پیدا ہوں گی تو اپوزیشن نے بلوچ سینیٹر حاصل بزنجو کو نامزد کرکے اسے ناکام بنا دیا یہی وہ فیصلہ ہے جس نے اپوزیشن کی ممکنہ تقسیم کو جیت کے یقین میں بدل دیا۔

آخر میں ایک بار پھر بات خفیہ رائے شماری کی تو اس بار بھی نئے چیرمین سینیٹ کے لئے قانون کے مطابق الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہی ہوگا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوبار نمبر گیم تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ تو 104 ارکان پر مشتمل ایوان بالا میں مقابلہ سخت نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے مضبوط ترین اتحاد نے نمبرز میں آدھے کا فرق پیدا کرکے نتیجہ اپنے حق میں یقینی بنادیا ہے۔ اس ہی لیے اس بار خفیہ رائے شماری چاہ کر بھی ووٹوں کی خریداری کا سبب نہیں بن سکتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •