ڈٹ کے کھڑا ہے دانشور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پا کستان کی شروع سے یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ یہاں پر فوجی آمر، امریکہ اور دانشور ہمیشہ سے ایک پیج پر رہے ہیں۔ اول اور ثانی الذکر تو پھر بھی آگے پیچھے ہوتے رہے ہیں لیکن دانشوران ِملت کی ثابت قدمی مثالی ہے۔ انقلاب ِ فرانس اور روس میں عوام کے ساتھ کھڑے روسو، والٹپراور گورکی وغیرہ کے برعکس ہمارے دانشوروں نے ابتداء میں ہی اس حکمت کو پا گئے کہ ملت کے ابتدائی اور ارتقائی لمحات میں کسی بھی قسم کی مزاحمت اور انارکی اس نوزائیدہ مملکت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس لئے انہوں نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہاتھی کے پیر میں اپنا پیر بلکہ لوح وقلم رکھنا مناسب سمجھا۔ کچھ سر پھرے اس حکمت کو سمجھ نا سکے اور اختلاف کرتے رہے۔ سڑکوں پر اپنا مزاحمتی کلام سنا کر سمجھتے رہے کہ انہوں نے بڑا تیر مار لیا اور قوم کی فکر و شعور کی آبیاری کر دی لیکن معاملہ نقار خانے میں طوطی والا ہی رہا۔

دانشورانِ ملت نے یہ فیصلہ کیا کہ ساری زندگی چائے اورسگریٹ پر ہی گزارا کرنا عقلمندی نہیں اور یہ چائے اور سگریٹ میلی پتلون اوربش شرٹ پہن کر سستے چائے خانوں میں پینے کی بجائے سرکاری خرچ پر فائیواسٹارہوٹلزاور ایوانوں میں کیوں نہ پی جائے۔ اور اگرساتھ میں کچھ مشاہرہ بھی مل جائے تو اپنے اور نونہلانِ مِلت دونوں کا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔ دورِ ایوب کی ابتدا میں جب قرۃ العین حیدر جیسی تنَک مزاج خاتون یہ بے وقوفانہ فیصلہ کرکے ملک سے چلتی بنی کہ ”ایسی جگہ رہنے کا کیا فائدہ جہاں بھونکنے کی آزادی نہ ہو۔ “ تو قدرت اللہ شہاب کی رائیٹر زگلڈ کی چھتری تلے بغیر کسی Guiltکے شیخ رشید کی طرح کے مطمئن ضمیر کے ساتھ بغیر بھونکے گزارا کرنے کے فوائد ڈھونڈھ نکالے۔

عوام کو فائدہ یہ ہوا کہ ان دانشوروں کے ذریعے انہیں آمریت کے فوائد اور اس کے سائے تلے پروان چڑھنے والی بنیادی جمہوریت کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس آگہی مہم میں کچھ دانشورفیلڈ مارشل کی بنیادی جمہوریت کے تحفظ میں امریکہ کو بھی للکارتے پائے گئے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی بجاآوری میں ہمارے دانشور اس قدر ثابت قدم نکلے کہ محترمہ فاطمہ جناح کی ”خالص جمہوریت“ کے لئے کی گئی ننھی سی جدوجہد بھی انہیں ٹس سے مس نہ کر سکی۔

65 کی جنگ میں جب دونوں ممالک لڑ لڑ کر نڈھال ہو چکے تھے اور اپنے وسائل تقریباً ختم کر چکے تھے تو انہی دانشورانِ ملت کا احسان ہے جنہوں نے مرد آہن کو قوم کا فاتح اور قوم کا فخر ثابت کرنے میں تن، من، دھن لگا دیا ساتھ ساتھ غیبی نصرت کا تڑکا بھی لگایا جن میں ان بابوں کے قصے نمایاں تھے جو فوج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے اور اکثر گرتے بموں کو اچک کر دریاؤں میں غرق کرتے رہے۔ البتہ اکتہر کی جنگ میں بقول شخصے یہ بابے اور دانشور دونوں چھٹی پر چلے گئے۔ بابوں کا تو پتہ نہیں لیکن یہ سرفروشان ِ ملت اگلے پانچ سال ملک میں جمہوری بے راہ روی دل پر پتھر رکھ کر برداشت کرتے رہے اور شاید یہ بیتے دنوں کو بھی یاد کرتے ہوں کہ

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

پھر خدا نے ان کی سن لی اور منجھدار میں ڈولتی کشتیوں کو ساحل مل گیا۔ اب نازک کاندھوں اور قلموں پر مردِحق کو قوم کا نجات دہندہ ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں نیل کے ساحل سے تابہِ خاکِ کاشغر تک پھیلی امت کی آخری امید ثابت کرنے کی اضافی ذمہ داری بھی آگئی تھی۔ بات اب قوم سے امت پر آچکی تھی۔ انہوں نے عوام کو کمیونزم کے کافرانہ ِ عفریت سے اہل کتاب کے ساتھ مل کر جہاد کی فضیلت بھی بیان کی اور عین اس وقت جب بیرونی امداد سے ملک میں وہابی مکتب ِفکر کو فروغ دیا جارہا تھا تو کچھ دور اندیش ادیب اس کا دف مارنے کے لئے قوم کو تصوف اور صبر کا انجیکشن بھی لگا رہے تھے۔

نتیجاً مرد مومن کے ترکے میں ہمیں ایک نیم پختہ اذہان ملے جن پر بعد میں آنے والے لوکل مصطفی کمال اتاترک کمانڈو نے لبرلزم کا تڑکہ لگا یا اور ایک عجیب النوع وہابی صوفی لبرل کنفیوزڈ شکل وجود میں آئی۔ اب وہ زمانے نہ رہے جب خوراکیں اصل ہوتی تھیں اور اب تو آمریت کا نعرہ ِ مستانہ ببانگ دہل لگایا جاتا تھا معاملہ کچھ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا ہے۔ لیکن دانشور اب بھی ثابت قدم رہے۔

ابتدا سے ادیبوں کے اس کارِسرکار و صحافت میں شامل ہونے سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اندازِ صحافت میں ایک نکھا ر آگیا۔ صحافت جو حقائق کی سیدھی سادھی رپورٹنگ اور روکھے پھیکے تجزیوں کا نام تھا، ادب کے لمس سے آشنا ہوکر ایک نئے دلفریب روپ میں ڈھل گئی۔

روح تک پھیل گئی تا ثیر مسیحائی کی

حقائق میں جذبات کی آمیزیش اور افسانوی اندازِ بیاں کے اضافے سے ”جدید افسانوی صحافت“ وجود میں آئی۔ یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے آگاہی کے ساتھ تخلیق اور داد و تحسین کا مزہ بھی۔ پھر حقائق کو حسبِ منشا کانٹ چھانٹ کر کسی نے فلسفے کا رنگ چڑھایا تو کسی نے ادب کی پتیوں میں لپیٹا اور کسی نے تا ریخ اور تصوف کی تہیں لگائیں تاکہ عوام اسے بلا تردد کھا کر لطف اندوز ہوسکیں۔

موجودہ دور میں جہاں بہت سارے لکھاریوں نے افسانوی صحافت و قلم نگاری کو نیا اسلوب دیا وہاں ایک نام اظہار الحسن صاحب کا بھی ہے جو ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں اور اپنے منفرد اسلوب کی قارئین سے داد پاتے ہیں۔ تقریباً دو سال پہلے دور کرپشن میں ان کا ایک کالم پڑھا جس میں جمہوریت کے لئے بڑھیا کی چادر کا استعارہ استعمال کیا گیا تھا جو شہباز شریف کے نواز شریف کے ساتھ بیرونِ ملک دورہ کرنے پر تار تار ہو رہی تھی۔ اس بڑھیا کی چادر اور اس کی کسمپرسی کی ایسی منظر کشی کی گئی کہ آنکھوں میں آنسو آگئے اور بے اختیا ر کرپٹ حکمرانوں پر تبرہ بھیجنے کو دل کیا۔

پچھلے دنوں نئی شفاف حکومت آنے کے بعد جب پے در پے پولیس مداخلت اور تبادلوں کا ذکر پڑھا اور بہت سارے دوستوں اور غیر منتخب لوگوں کو مشیر اور وزیر بنتے دیکھا تو بے اختیا ر اس بڑھیا کو ڈھونڈھا جس کی چادر کی تو بڑھیا سمیت دھجیاں اڑ جانا چاہیے تھیں مگر وہ بڑھیا شاید ساڑھی پہن کر جشن تبدیلی منانے چلی گئی تھی اور مصنف کچھ نئی ترکیب تراش کر قارائین سے داد وصول کر رہے تھے۔ ویسے بھی ایک جیسی تراکیب اور استعارے باربار استعمال سے قدر کھو بیٹھتے ہیں۔

چار دن قبل مصنف کا ایک اور شاہکار کالم ”اقدار کی سیاست“ پڑھنے کا موقع ملا جس میں انہوں نے مغرب کی ترقی اور ان کے خود کار نظام اور اپنے سفری تجربات اور ذوقِ مشاہدہ سے قارائین کو سرفراز کیا۔ لائبریروں اور پارکوں کی سیر کراتے کراتے کالم کے آخر میں آکر قارائین کو اس حتمی فیصلے (عدالتی فیصلے سے بھی پہلے ) آگاہ کیا کہ کرپٹ شریف خاندان نے جج ارشد ملک کو پانچ سو کروڑ کی رشوت کی پیشکش کی جو کہ جج کے بیان کی تائید سمجھی جا سکتی ہے اور قارئین یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ جج صاحب کے باقی بیانات کے مطابق سولہ سال پہلے جلاوطنی کے دوران دور  مشرف میں ان جج صاحب کی وڈیوبھی بنائی گئی۔ اب اتنا بڑا دانشور اتنے وثوق سے کہ رہا ہے تو سچ ہی ہوگا۔ مفاد عامہ کی خاطرانہوں نے نے پندرہ بیس سال پرانی مثالیں دے کر عوام کو مزید خبردار کیا کہ یہ خاندان کبھی اقدار پر یقین نہیں رکھتا اس لئے اس سے جتنا دور رہا جائے بہتر ہے۔

مجھے پوری امید ہے کہ جب پندرہ بیس سال بعد ہمارا کپتان پاکستان کی سیاست کا مروجہ ارتقائی چکر مکمل کرے گا تو اظہار صاحب اس مستقبل میں ان کی حالیہ اقدار کی مثالیں اپنے خاص اسلوب میں بیان کریں گے۔ ابھی بیان کرنا تھوڑا نامناسب اور قبل از وقت ہو گا۔

اسی نوعیت کا مضمون ایک اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے بھی لکھا جس میں انہیں پریس کانفرنس کرتی اپوزیشن کے چہرے پر عذاب الہی نظر آیا۔ جہاں مذہب اور خدا کا حوالہ آجائے وہاں تو ویسے بھی تکرار نہیں بنتی۔

سیاست دانوں کی سیاست نے بھی ارتقائی منزلیں طے کیں۔ آمروں نے بھی اپنے چلن بدلے۔ امریکہ وفا اور بے وفائی کے کھیل کھیلتا رہا لیکن ہمارا دانشور ہمیشہ ثابت قدم رہا۔ کپتان کا تو پتہ نہیں کب تک ڈٹ کر کھڑا ہے۔ لیکن ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ڈٹ کر کھڑا ہے دانشور

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ظہیر الدین احمد کی دیگر تحریریں
ظہیر الدین احمد کی دیگر تحریریں