پپلانتری کے طلسمی گاؤں میں اڑتی تتلیاں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنی نوع انسان کی معلوم تاریخ کے قدیم ادوار میں عورت کو بالعموم مرد کے لیے عیش و عشرت کے سامان اور بچوں کی پیدائش کے محض ایک ذریعہ کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا۔ ایک ایسی جنس جسے مال مویشیوں کی منڈیوں میں خریدا اور پھر حسب ضرورت برتا جاسکتا ہو۔ قدیم واہیانہ مذاہب عورت کو گناہ کا سر چشمہ، معصیت اور اس سے تعلق رکھنا روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ قدیم تہذیبوں میں اگرچہ بعض خواتین نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر عنان اقتدار تک رسائی بھی حاصل کی، تاہم ایسی چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر یہ امر ایک تاریخی حقیقت ہے کہ زیادہ ترمہذب معاشروں میں بھی عورت کی سماجی حیثیت بچپن میں باپ، پھرشوہر اور اس کے بعد اولاد نرینہ کی تابع و محکوم ہی کی سی رہی ہے۔

ہمارے عمومی تاثر کے برعکس ہندو مذہب کی مقدس کتابوں میں عورت کو ایک ایسی مہان دیوی کا مقام حاصل ہے کہ جس سے کائنات کی عمیق طاقت پھوٹتی ہو۔ اگرچہ زمینی حقائق اس تصور سے پوری طرح میل نہیں کھاتے تاہم ویدوں میں عورت کا مقام اتنا برا نہیں جس طرح کا تصور ہمارے ہاں ستی کی رسم اور بیواؤں سے مبینہ سلوک کی وجہ سے پایا جاتاہے۔ اگرچہ ویدک دور کے بعد آنے والی صدیوں کے دوران صورت حال میں مسلسل بگاڑ پیدا ہوتا رہا، تاہم ہندودھرم کی بنیادی تعلیمات کے مطابق عورتوں کو اپنا شریک حیات خود چننے کا حق حاصل رہا۔

وہ مردوں کے شانہ بشانہ تعلیم کے حصول میں آزاد تھیں، جبکہ ستی کی بے رحمانہ رسم کی نفی کرتے ہوئے ہندو بیوہ کو دوسری شادی کرنے کی بھی اجازت حاصل تھی۔ ویدوں میں آٹھ اقسام کی شادیاں بتائی گئی ہیں، تاہم حیران کن طور پر ان میں سے کسی بھی ایک میں دلہن کی طرف سے جہیز دینے کا تصور موجود نہیں رہا۔ وید ک دور میں مروجہ شادی کے رواجوں میں سب سے مقبول طریقہ وہی رہا ہے کہ جس میں دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے والدین محض ایک عروسی جوڑے اور مناسب زیورات میں ملبوس اپنی بیٹی کو دلہے کے حوالے کر دیتے۔

اگرچہ قدیم ذات پات پر مبنی معاشرے میں رسم و رواج کے مطابق توقع کی جاتی تھی کہ برہمن خاندانوں کی دلہنیں رخصتی کے وقت قیمتی جوڑے میں ملبوس اور بھاری زیورات میں لدی پھندی ہوں۔ تاہم بھاری بھر کم عروسی لباس اور زیورات کو جہیز کا حصہ نہیں سمجھا جاتا تھا کہ جس کا رواج بہت بعد میں سماج کے اندر در آیا تھا۔ برہمن گھرانوں کے بر عکس نیچ ذات کے ہندوؤں یعنی شودروں پر جہیز کے لین دین پر سختی سے پابندی عائد تھی۔

دلہن کا اصل زیور وہ گن تصور ہوتے جو وہ ماں باپ کے گھر سے سیکھ کر آتی۔ معلوم پڑتا ہے کہ جس طرح بیوہ ہندو عورت کی دوسری شادی میں مذہبی احکامات سے زیادہ ترکے کی تقسیم کے پیچھے چھپے معاشی مفادات اصل رکاوٹ تھے تو اسی طرح جہیز کے رواج کو فروغ دینے میں ویدوں سے زیادہ برہمنوں کا معاشرتی تکبر بروئے کار آیا ہوگا۔ اپنی طبقاتی برتری ثابت کرنے کے لئے برہمنوں نے جس رسم کو قائم کیا وہ رفتہ رفتہ ہر ذات پات کے لوگوں کے گلے کا طوق بن گئی۔ گزرتے وقت، جہیزکے ساتھ ساتھ بیٹیاں بھی معاشرے پر بوجھ بنتی چلی گئیں۔

ہندو ویدوں کے برعکس بیٹیوں کو پیدائش کے فوراً بعد بے دردی سے قتل کر دینا عرب جاہلیت کی معاشرت کا حصہ تھا۔ اکثر عرب قبائل میں بیٹی کا باپ ہونا باعثِ ندامت اوردختر کشی کو نشانِ بڑائی سمجھا جاتا تھا۔ بعض گھرانوں میں بیٹی کو پانچ سات سال کی عمر تک محبت سے پالا جاتا تاآنکہ کسی ایک دن باپ اپنی بیٹی کو خود آبادی سے باہر لے جاکر پہلے سے کھودے ہوئے گڑھے میں زندہ گاڑ دیتا۔ ایسے باپ کوتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔

بعث نبویؐ کا نور پھیلا تو دختر کشی کی ظالمانہ رسم بھی باطل ٹھہری۔ خواتین کو ذلت کی پستی سے نکال کر بے پناہ حقوق عطا فرمائے گئے۔ بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے والدین کو تاکید اور وراثت میں ہر ایک رشتے کی نسبت سے ان کا حصہ متعین کیا گیا۔ جہیز کا تصور اسلام میں کبھی بھی موجود نہیں رہا۔ اللہ کے نبیؐ نے اپنی صاحبزادی کو علی کرم اللہ وجہہ کے عقد میں دیا تو ایک زرہ بکتر داماد کو عاریتاً عطا فرمائی۔ عمومی تصور کے برعکس یہ جہیز نہیں بلکہ شوہر کو دیا گیا قرض تھاکہ جس کو بیچ کر فاقہ کش گھرانے نے ولیمہ کی فقیرانہ دعوت برپا کی۔

جزیرہ عرب کے اندر سے نکل کر سرزمینِ ہند پر پھیلنے والے مسلمانوں، کہ جن کی رگوں میں صدیوں پرانی جنسی عصبیت اب بھی کونے کھدروں میں موجود تھی، کا معاملہ جب ہندو سماج میں برہمن ذہنیت سے پڑا تو وہ دوہری عصبیت کے عذاب سے دوچار ہوگئے۔ دیگر بہت ساری علتوں کے علاوہ بر صغیر پاک و ہند دنیا میں غالباً واحد معاشرہ ہے کہ جہاں کسی بھی گھر میں بیٹی کی پیدائش پر والدین کے کندھے جھک جاتے ہیں۔ والدین کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں اور ذمہ داری کا بوجھ ان کے کندھوں سے اتر جائے۔

اگرچہ حالات کافی حد تک بدل گئے تاہم اب بھی کئی گھرانوں میں لڑکیوں کا ایک مقررہ تعلیمی حد اوربالخصوص یونیورسٹی تک جانا شادی کی مناسب عمر سے آگے نکل جانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ بچیوں کے شادی بیاہ کی تقریبات، ملبوسات و زیورات اور دیگر رسومات پر اٹھنے والے متوقع اخراجات کے لئے والدین اپنا پیٹ فاقوں اور راتیں آنکھوں میں کاٹتے ہیں۔ لڑکی کی تعلیم اول تو ترجیح نہیں ہوتی اگر ہو بھی تو بالآخر مقصود اچھا رشتہ ہی ہوتاہے۔ بیٹے کے لئے ڈاکٹر بہو کو گھر لانا ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے۔ پاکستان میں مگر پچاسی فی صد بچیاں میڈیکل کالجز سے جاں گسل تعلیم کے بعد گھرداری کے سپرد ہو کر رہ جاتی ہیں۔

اندریں حالات یہ خبر کہ سرحد پار راجھستان کے پپلانتری نامی گاؤں میں بچیوں کی پیدائش کو خوشدلی سے قبول کیا جاتا ہے برسات کی گھٹن بھری رات میں ہوا کے تازہ جھونکے کی طرح ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاؤں کے کسی ایک گھر میں بیٹی پیدا ہونے پر گاؤں کے لوگ مل کر بچی کے نام سے ایک سو گیارہ پھل داردرخت بوتے ہیں۔ سب گاؤں والے چندہ ڈال کر اکیس ہزار روپے اکٹھے کرتے ہیں جس میں بچی کا باپ اپنی طرف سے دس ہزاررو پے ڈالتا ہے۔

کل رقم نوزائیدہ بچی کے نام پر فکس ڈیپازٹ میں رکھواتے ہوئے بچی کے والدین سے حلف نامہ لیا جاتا ہے کہ وہ ہر صورت بچی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے پابند ہوں گے اور یہ کہ سنِ بلوغت سے پہلے اس کی شادی کسی صورت نہیں کی جائے گی۔ اس دوران گاؤں کے لوگ مل کر پھل دار درختوں کے ارد گرد ’ایلوویرا‘ کاشت کرتے اور پورا سال درختوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ اس سنہری رسم کا آغاز گاؤں کے مکھیا نے کیا جس کی بچی چھ سال کی عمر میں وفات پاگئی تھی۔

گزرے چھ سالوں کے اندر پپلانتری گاؤں پھلدار درختوں میں گھرچکا ہے کہ جس کے پھلوں کی آمدنی سب گاؤں والوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ گاؤں ایک ایسا خاندان بن چکا ہے جہاں اس عرصے میں کوئی ایسا جرم سر زد نہیں ہوا جو قابل دست اندازی پولیس ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیٹیوں کی صورت میں قدرتِ اس بستی پر اپنی رحمت نازل کیے جانے کا وعدہ پورا کر رہی ہے۔

یہ رحمت ہم پر بھی برس سکتی ہے۔ تاہم اس کے لئے جہیز سے چھٹکارے کے علاوہ کچھ اور بھی ایسے کام ہیں کہ جن کی جرآت ’لڑکے والے‘ ہی کر سکتے ہیں۔ بینڈ باجوں پر ناچتی بارات کے لاؤلشکر، عروسی جوڑوں، بیوٹی پارلرز اور بھاری بھرکم زیورات پر اٹھنے والے بے مہابا اخراجات کے علاوہ متروک رسومات اور ’شگنوں‘ سے نجات لاکھوں بچیوں کے سفیدپوش مگر بے زبان والدین کی کمر سیدھی کرسکتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ دلہن کے ہاں بارات کا لشکر لے جانے کی بجائے، محض اپنے گھر والوں کی موجودگی میں ایک سادہ تقریبِ نکاح کے بعد دلہا اپنی دلہن کو گھر لے جائے۔ جب گھر دلہا کا بس رہا ہو تو ’تناول ماحضر‘ بھی اسی کی ذمہ داری میں آنا چاہیے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ باراتیوں سے اٹی ہماری گلیوں اور شادی ہالوں کی جگہ ہمارے شہروں کے اندرجگہ جگہ پپلانتری جیسے طلسمی گاؤں آباد ہو جائیں، جہاں لہلہاتے پھل دار درختوں پر کھلے تازہ غنچوں پر تتلیاں منڈلاتی گیت گاتی ہوں۔ خدا کی ایسی بستیاں کے جن کے باسی تتلیوں کے پیدا ہونے پر دل گرفتہ نہ ہوں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •