جنگ کی تباہ کاریاں اور ہم سب
عموماً جنگوں کی تاریخیں ان کے جیتنے والے لکھتے ہیں جو جنگ و جدل کو ایک خوبصورت اور خوش نما شے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ مگر جنگوں کی حقیقت صرف ان لوگوں کو معلوم ہے جو جنگ کی تباہ کاریوں سے گزرے ہیں اور صرف وہی بتلا سکتے ہیں کہ جنگ کا ٹلنا ان کے لئے کیسے ذہنی سکون کا باعث ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ تاریخ میں جنگ اکثر اوقات انقلاب کی ماں بھی ثابت ہوتی ہے۔ پچھلی صدی تسلسل کے ساتھ انقلابات کی زد میں رہا جن میں انقلاب روس، انقلاب چین، انقلاب کیوبا اور انقلاب ایران سرفرست ہیں۔
مگر اکثر اوقات انقلاب اور رد آنقلاب میں کشمکش سول وار کو جنم دینے کا باعث بن جاتی ہیں، جو کسی بھی ملک کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ جنگ و جدل میں نہ صرف بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، بلکہ اسکول، کالج، فیکٹریاں، کارخانے ایئر پورٹس، ڈیمز، سڑکیں اور انفراسٹرکچر بھی تباہ کیے جاتے ہیں۔
سرد جنگ 1945۔ 1991 کے دوران دو سپر طاقتوں امریکہ اور سابق سوویت یونین نے اپنے قومی مفادات کی بنا پر دنیا کو سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام میں تقسیم کرکے دنیا کے مختلف حصوں میں پراکسی وارز شروع کیا۔ شمالی کوریا سے ویت نام تک اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 1945 کے مقابلے میں آج کے ایٹمی ہتھیار پانچ ہزار گناہ زیادہ خطرناک بن چکے ہیں۔ آج قومی ریاستوں کے درمیان ہتھیاروں کی خرید و فروخت ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ ہر سال ایک سو بلین ڈالرز صرف ایٹمی ہتھیاروں پر خرچ کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف دنیا میں کروڑوں انسان بھوک، افلاس اور بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق آج دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ بچے بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں، اور روزانہ سترہ ہزار بچے خوراک کی قلت سے مر رہے ہیں، جبکہ گیارہ ملین بچے خوراک کی قلت کی وجہ سے پیدائش سے قبل ہی مر جاتے ہیں۔ مگرحیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک بھی اسلحہ کی خرید وفروخت میں کسی سے پیچھے نہیں، وہ اپنی قومی آمدنی کا ایک کثر حصّہ جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری میں خرچ کرتے ہیں۔
آج تیسری دنیا کے 149 میں سے 105 ممالک غذائی اجناس تک بیرونی طاقتوں سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ان ممالک میں اندرونی خانہ جنگی اور انارکی کی وجہ سے سماجی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ مثلاً سوڈان میں خانہ جنگی کی وجہ سے اب تک بیس لاکھ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، اور چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ٹیلی گراف کی حالیہ دنوں کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے متاثرہ یمن میں پانچ ملین بچے بھوک افلاس کا شکار ہو رہے ہیں اقوام متحدہ نے اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ ہائی کمیشن برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق سال دو ہزار سترہ میں دنیا میں مہاجرین کی تعداد بڑھ کر کل تعداد 65.6 ملین تک پہنچ گئی ہے، جو دنیا بھر میں مختلف تنازعات جھگڑے، قتل عام، تشدر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یو این ایچ سی آر کی سالانہ رپورٹ، گلوبل ٹرینڈز، کے مطابق گزشتہ برس 23 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، یہ تعداد بیس برس پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 37 ہزار افراد روزانہ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں، جبکہ جنگوں اور تنازعات یا جبر کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے والے ایسے پناہ گزینوں کی تعداد سال 2018 میں 2 کروڑ 59 لاکھ تک پہنچ گئی تھی، جبکہ جنگوں اور اندرونی تنازعات اور جانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد اس وقت ساتھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ جو کہ باعث تشویشِ ہے۔ دنیا کو اس وقت امن کی اشد ضرورت ہے چونکہ ان دنوں میں گلف ریجن کی فضاؤں میں جنگ کا بھوت منڈلاتا ہوا صاف دکھائی دیتا ہے۔
بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نیول جہاز نے ایک ایرانی ڈرون طیارہ مار گرایا ہے، جو بحیرہ ہرمز میں ایک امریکی جہاز کے بہت قریب آیا تھا اور امریکی جہاز کے لیے باعث خطرہ تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لوگوں اور مفادات کی تحفظ کریں۔ انہوں نے دنیا کے ممالک سے اپیل کیا ہے کہ وہ ایران کے اس اقدام کی مذمّت کریں چونکہ وہ عالمی تجارت اور سمندری سفر کی آزادیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اس سے قبل جون کے مہینے میں تہران نے بھی ایک امریکی جاسوس ڈرون طیارہ کو مار گرایا تھا، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا اور عین آخری لمحے اپنے فیصلے کو واپس لیا تھا۔ چار جولائی کو برطانیہ نے ایران کا ایک تیل سے بھرا ہوا ٹینکر کو جبرالٹر کے قریب پکڑ کر قبضے میں لیا ہے۔ اور الزام عائد کیا ہے کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کو سرییا بیچ رہا تھا۔ گزشتہ دن ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے برطانیہ کا تیل کا ایک جہاز کو قبضے میں لیا ہے جس پر برطانیہ نے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی باراک اوباما کے ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے نیوکلیئر ڈیل کو امریکی تاریخ کا بدترین ڈیل قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور واشنگٹن یک طرفہ طور پر ایران پر معاشی پابندیاں لگا رہا ہے جس سے ایران کے وزیر خارجہ نے معاشی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکہ نے گزشتہ روز اپنے اتحادی ملک سعودی عرب میں امریکی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے اور سعودی عرب کے بادشاہ نے اس کی اجازت دی ہے۔
امریکہ کی طرف سے مزید جارحیت کی صورت میں ایران نے سٹریٹ آف ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ واضح رہے کہ سٹریٹ آف ہرمز خلیج فارس کی وہ تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے 30 فیصد تیل بردار ٹینکرز ساری دنیا کی کل تیل کی سپلائی کا 20 فیصد حصہ ہے کر ہر روز گزرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک مرتبہ پہلے بھی 1980 سے 1988 کے درمیان ایران اور عراق کے درمیان خلیج فارس میں لڑی گئی خونی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے تیل کے ذخائر پر حملے کیے تھے۔
دوسری بار 1991 میں جنگ خلیج کے موقعے پر خلیج فارس ایک مرتبہ پھر جنگ کی زد میں آئی جب امریکہ نے کویت پر صدام حسین کے قبضے کو ختم کرنے کے لئے اتحادی افواج کے ساتھ ملکر عراق پر حملہ کیا۔ ایران امریکہ کے درمیان خلیج فارس میں حالیہ کشیدگی بظاہر ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے خطے میں اثرو رسوخ کو ختم کرنا ہے مگر درحقیقت امریکہ اور اتحادی ایک طرف ہیں تو دوسری طرف چین اور روس دونوں کو مڈل ایسٹ کے تیل کے ذخائر چاہیے۔
جس طرح جنگ صلیبہ 1291۔ 1195 کا بظاہر مقصد بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کروانا تھا لیکن حقیقی مقصد اقتصادی تھا یعنی شام، لبنان اور فلسطین پر قبضہ کرنا اور بحیرہ روم کی بحری تجارت کی اجارہ داری حاصل کرنا تھا۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خلیج فارس میں جنگ کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل اور گیس کی بحران سے دنیا کے بہت سارے ملکوں کی صنعتیں دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔ نتیجتاً دنیا ایک بار پھر گریٹ ڈپریشن سے دوچار ہوسکتی ہے۔ یہ جنگ نسل انسانی کو آگ اور خون کے دریا میں دھکیل دینے کا باعث بن سکتی ہے جس کا تصور بھی نہایت بھیانک اور خوفناک ہے۔ لہذا آیئے ہم سب ملکر امن کے قیام کے لیے جدوجھد کریں اور اس سیارہ زمین کو جو کہ ہم سب کا گھر ہے، اسے جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔


