آخر ہجوم کب تک انصاف کرے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مملکت خداداد میں قومی مفاد کو لے کر خوب مثبت باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ بازگشت ہے کہ خان نے ملک و قوم کے وقار کو سربلندی اس لیے بھی بخشی ہے کہ وہ دورہ امریکہ پر قومی لباس میں ملبوس ہو کر گئے ہیں۔ مزید یہ بھی کہ انہوں نے امریکی صدر سے ون ان ون ملاقات میں کسی پرچی کا سہارا نہیں لیا۔ اور بڑے رعب و دبدبے کے ساتھ امریکی صدر تک اپنے تمام تر معروضات پیش کر چکے ہیں۔ اس پر بس نہیں ہماری جذباتی قوم جس کو قوم اور ہجوم بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

اس بات پر خوشی سے نہال ہے کہ دورہ امریکہ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے جو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے خطاب کیا وہ تاریخی تھا۔ وہاں موجود مجمعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کا وزیر اعظم سلیکٹڈ نہیں ہے۔ امریکی شہر واشنگٹن ڈی سی میں اک بڑے مجمعے نے وزیر اعظم عمران خان کو عزت بخشی جس سے یہ ثابت ہوا کہ قوم اپنے وزیر اعظم کے ساتھ ہے۔ یہ وہ ساری باتیں ہیں جو گزشتہ دو دنوں میں مخلتف حلقوق ں کی جانب سے سننے کو مل رہی ہیں۔ اس کے ساتھ جناب وزیر اعظم کی کفایت شعاری روایتی پرواز کے ذریعے دورہ امریکہ پر جانا اور وہاں پر کوئی بھی پروٹوکول نہ لینے پر قوم کا سنجیدہ و غیر سنجیدہ طبقہ نہال ہے کہ کچھ تو اچھا ہو رہا ہے۔

مملکت خداداد کی کسی بھی سیاسی شخصیت کا یہ منفرد دورہ تھا جو کا ادراک اک عام پاکستانی کو بھی ہو چکا۔ جس کی بڑی وجہ کفایت شعاری اور وزیر اعظم عمران خان کی خود اعتمادی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین نے ٹویٹر پر کئی سوالات اٹھائے جن میں اک یہ بھی تھا۔ کہ وزیر اعظم دورہ امریکہ پر اپنی خاتون اول کو ساتھ کیوں نہ لے گے۔ یہ سوال ضرور اور غیر ضروری کے درمیان معلوم ہوتا ہے بلکہ غیر ضروری ہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی صحافی کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر سوال خاموش کرا دیا گیا اور اس کے ساتھ اک نئی بحث بھی چھڑ گئی۔

ناقدین کا یہ بھی خیال ہے کہ دورہ امریکہ سے قبل دونو ں شخصیات کے درمیان معاملات طے تھے کہ کن امور پر بات چیت زیر غور آئے گی۔ اس سے اتفاق کیا بھی جا سکتا ہے البتہ ایک سینیر صحافی نے اپنے ویڈیو پیغام میں جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق سوال نہ کرنے کا اشارہ دیا۔ وہیں یہ بھی بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کی جانب اشارہ دیا گیا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جو الفاظ استعما ل کیے گئے۔ وہ کچھ یوں تھے۔

؛دنیا بھر کے مخلتف ممالک میں امریکی باشندے زیر حراست ہیں جن کو چھڑوانے کے لیے امریکہ اقدامات کرے گا؛

وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر کو افغانستان کے معاملے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ تو وہیں امریکی صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی گئی ہے۔ جس کے بعد نئی امیدیں سامنے آرہی ہیں۔ یہ تو ہوئیں سفارتی باتیں چونکہ ہم آپ کا تعلق زیادہ تر اندرون ملک کی صورتحال سے ہوتا ہے اس لیے اس جانب کو بڑھتے ہیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ ہم سب اک بے ہنگم ہجوم ہیں۔ اور کبھی کبھار ایک قوم بننے کی کیفیات ہمارے پاس سے ہو گزرتی ہیں۔ اُس وقت ہمارے سامنے قومی مفادات ہوتے ہیں۔ جن کے لیے اکثر ہم ایک پیج پر آکھڑے ہو تے ہیں۔ لیکن ایسے واقعے کم ہی ہوتے ہیں جو ہمیں قوم بناتے ہیں۔ رواں سال فروری میں پڑوسی ملک کے ساتھ اونچ نیچ ہوئی تو ہم قوم بن گئے۔ اس کے بعد ہم نہیں بنے اس سے پہلے شاید ہم کارگل یا پھر اکہتر اور باسٹھ میں قوم بنے تھے اور پھر ہجوم ہی رہے۔

کچھ وقت کے لیے ایک قومی جذبہ تو پیدا کر لیتے ہیں۔ لیکن ایسا رویہ ہم برقرار نہیں رکھ سکتے ہماری عادات اور کیفیات جو کہ ہجوم والی ہین وہ ہمیں واپس ہجوم کی جانب ہی دھکیل دیتی ہیں۔ ہمارے لیے یہ بات نیک شگون رہی کہ ہمارا وزیر اعظم قومی لباس میں ملبوس دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر سے ملنے گیا۔ اس کی خود اعتمادی کمال تھی لیکن ساتھ ہی یہ گلا بھی ہے کہ اس نے ملک و قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

ناقدین تو یہ بھی کہ رہے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا کردار چاہیے تھا اس لیے امریکی صدر سے وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات ممکن ہوئی۔ یہ خیال بھی پاکستان میں عام ہے۔ بلکہ یہ کڑی حقیقت ہے کہ ہمیں عالمی طاقتوں کی جاب سے بوقت ضرورت ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پھر ڈیسٹ بن ہماری منتظر ہوتی ہے۔ چلیے یہ شکوہ بھی جایئز ہے۔ لیکن خوش آئیند بات یہ ہے کہ اب کی بار یہ ہجوم اک بار پھر تھوڑاسا قوم بننے کی ڈگر پر چل پڑا ہے اور اب کی بار ہجوم کو اپنے وزیر اعظم کا طریقہ واردات بہت پسند آیا ہے۔ اس لیے اکثر نے نظریاتی سیا سی اختلاف بھلا کر قومی مفاد کو ترجیح دی۔ اور اس دورہ امریکہ پر جناب وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ تسبتا کم بنایا گیا۔

حکومت اور اپوزیشن میں جاری رسہ کشی اس دورے کو ناجانے کس تناظر میں رکھتی ہے۔ لیکن کچھ وقت کے لیے یہاں قوم والے جذبات ضرور پیدا ہوئے ہیں۔ تصوریر کا دوسرا بھیانک رخ یہ ہے کہ ہم اچھے کو ا چھا نہیں کہتے ملک خداد اد میں بسنے والوں میں سے کچھ کی جانب سے واشنگنٹن میں پاکستانیوں کے پر ہجوم اجتماع کو قادیانی اجتماع بھی کہا گیا۔ اب نہ جانے اس میں کتنی صداقت تھی یا ہے۔ البتہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے چند روز پہلے ٹویٹر پر قادیانیوں سے متعلق اک مہم بھی شروع کی گئی تھی۔

میرا دیسی دماغ یہ سمجھ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ سارا ہجوم اور ٹویٹر کا یہ ٹرینڈ۔ ان کا آپس میں کیا تعلق تھا۔ ہم کو اس دورے میں اچھی خبر یہ ملی کہ مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں اس دورے کے ملکی سلامتی معشیت اور دیگر امو ر پر کیا دورس ثمرات سامنے آئیں گے۔ یہ تو وقت بتائے گا لیکن ابھی تک کی اچھی بات یہ ہے کہ ٹیکس مہنگائی بے روزگاری او ر غربت سے ستائی پاکستانی قوم اپنے وزیر اعظم کے طریقہ واردات پر بے حد خوش ہے۔

یعنی ان کو اس پر بے انتہا خوشی ہے کہ ہمارا وزیر اعظم قومی لباس میں ملبوس ہو کر ایک بین الاقوامی دورے پر گیا اور خود اعتمادی کے ساتھ پاکستان کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ۔ تبدیلی حکومت سے سو اختلاف لیکن یہ اچھا ہے کہ آپ کفایت شعاری مہم پر خود بھی مکمل طور پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور ملک و قوم و سادگی کی مثال بن کر دکھا رہے ہیں۔ بس مجھ سمیت مملکت خداداد میں بسنے والی باقی سادی عوام

آپ سے یہ توقعات بھی لگا ئے بیٹھی ہے۔ کہ مہنگائی غربت بے روزگاری اور عوام کا میعار زندگی بہتر کرنے کے لیے بہتر قانون سازی اور حکمت عملی اختیار کریں گے۔ ورنہ آپ توجانتے ہی ہیں کہ جو ہجوم آج آپ کے گن گا رہا ہے وہ کل کسی اور کے گا رہا تھا۔ اس لیے بڑے مجمعے بڑے ہجوم کی سریلی آوازوں میں موجود تبدیلی کے نعروں میں کئی مدہوش مت ہو جانا صاحب۔ یہ ہجوم پلٹ بھی سکتا ہے۔ آخر ہجوم کب تک انصاف کرے گا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •