زہر جب کار گر نہیں ہوتا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زہر جب کار گر نہیں ہوتا
لوگ تہمت سے مار دیتے ہیں

یہ شعر مجھے کافی پسند ہے کیونکہ اس میں مخالفین ( پاکستانی عوام ) کا رویہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مخالف کو پچھاڑنا ہے خواہ اس کے لئے انسانیت کے مقام سے بھی نیچے گرنا پڑے اگر زہر سے یک دم مارنے والا وار ناکام ہو جائے تو کردار کشی کر کے لمحہ بہ لمحہ اذیت دے کر مخالف کو موت کے گھاٹ اتارا جائے۔ موضوع چونکہ تھوڑا سیاسی ہے اس لئے موضوع کا رخ کرتا ہوں۔

خان صاحب سے اپنا روحانی و سیاسی تعلق اتناہی ہے کہ اگر خان صاحب شمال کی جانب رخت سفر باندھیں تو اپنا سفر جنوب کو ہوتا ہے اور بھولے سے ہم کبھی شمال کا سوچ بیٹھیں تو خان صاحب جنوب کی راہ لیتے ہیں۔

اتنا شدید اختلاف ہونے کے باوجود لکھتے ہوئے کوشش کرتا ہوں کہ اس سیاسی و روحانی تعلق کو آڑے نہ آنے دوں اور اپنی طرف سے حقائق لکھوں اس میں کبھی کامیابی قدم چوم لیتی ہے اور کبھی ناکامی منہ چڑاتی رہتی ہے اپنا۔ اور یہ سانسوں کا سلسلہ بھی شب و روز سے ہوتے ہوئے منزل کی جانب گامزن رہتا ہے۔

اپنی نظر میں خان صاحب بیک وقت خوش قسمت بھی ہیں اور تھوڑے سے بد قسمت بھی ہیں۔

خوش قسمت ایسے کہ کرکٹر سے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا ہے اور دنیا کو حیراں و پریشان کیے بیٹھے ہیں اور بد قسمت ایسے کہ ہم جیسے عام شہری بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

چونکہ ذاتی طور پہ ہم نے خان صاحب کو ہمیشہ عام سیاستدانوں جیسا ہی پایا ہے اور خان صاحب کے دعوے اور باتوں کو دیوانے کی بڑھ سے ہی تشبیہ دی ہے۔ مگر خان صاحب چونکہ پاکستانی قوم کی ایک امید بھی ہیں اس لئے ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں رہا ہے۔ خیر اب تو پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ امریکن شہری بھی دل و جان سے خان صاحب پہ فریفتہ ہوئے بیٹھے ہیں۔

آج پاکستانی وزیراعظم کو عہدہ پہ براجمان ہوئے تقریباً ایک سال ہونے کو ہے اور ہم نے بھی کہا ہوا تھا کہ اس دورانئے میں خان صاحب پہ تنقید ذرا کم ہی کریں گے اور کم ہی لکھیں گے اس لئے اپنے خود سے کیے گئے وعدے کا بھرم رکھ رہے ہیں۔

خان صاحب کی خوش قسمتی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا لیں کہ ملک میں اتنی مہنگائی اور معیشت کی تباہی ہونے کے باوجود خان صاحب لوگوں کی دلعزیز شخصیت ہیں۔ لوگ ان کے سحر میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ ابھی تک ان کی کوئی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں اور اپنے کپتان کی طرح کپتان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

ان کے اصل ووٹر ان سے مایوس بھی نہیں ہیں اور نہ ہی شاید کبھی ہوں۔ اس تحریر کی اصل وجہ خان صاحب کا دورہ امریکہ ہے

اپنی نظر میں خان صاحب کی گرتی ساکھ کو دورہ امریکہ پھر سے زندہ کر گیا اور خان صاحب ظاہری طور پہ اس دورے سے ہر میدان میں کامیاب و کامران لوٹ رہے ہیں۔

دورے کی تنقیدی باتیں تو پھر کبھی سہی مگر ایک بات جس کی طرف خصوصی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ مخالفین اور سادہ لوح پاکستانی عوام کا خان صاحب کے ساتھ قادنیت کی وابستگی جوڑنا ہے۔

ویسے تو یہ موضوع اتنا حساس ہے کہ اس پہ بات کرتے لکھتے حتیٰ کہ اب تو سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کیونکہ لوگ بات سمجھے بغیر اپنی مرضی کے فتوے صادر کر دیتے ہیں اور بندہ منہ میں انگلی دبائے سوچتا ہی رہتا اور قسمیں کھا کھا کر وضاحتیں دیتا رہتا ہے کہ میری بات کا مطلب یہ نہیں یہ تھا۔

وطن عزیز چونکہ مذہبی بنیادوں پہ حاصل کیا گیا ہے اس لئے لوگوں میں ظاہری طور پہ مذہبی جذباتیت زیادہ ہے اور باطنی طور پہ منٹو کے افسانوں کی حقیقتیں اسی معاشرے سے عمومی طور پہ مل جاتی ہیں۔

اور پھر میرے ملک کی سیاست بقول شاعر!
جیسے گھری ہو طوائف تماش بینوں میں۔

ان تماش بینوں نے سیاست کو اتنا رسوا کر دیا ہے کہ طوائف بھی اب تو پناہ لینے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔

سیاست میں مخالفین کی کردار کشی تو دنیا کا شیوہ ہے مگر سیاست میں مذہب کو استعمال کرنا پاکستانی سیاستدانوں سے سیکھا جا سکتا ہے۔ اس حد تک مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے کہ سیاسی سے زیادہ مذہبی جلسے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی کوئی بھی جماعت (خواہ مذہبی ہو یا سیاسی) دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے مذہب کو بطور سیاست استعمال نہ کیا ہو۔

اکہتر کی تقسیم کے بعد تو ہم ایسے تقسیم ہوئے ہیں کہ ابھی تک پچاس سالوں میں اپنی حالت میں واپس نہ آ سکے ہیں۔ اور پھر جہادی لٹریچر بھی ایسے گھول کے پلایا گیا ہے ہمیں کہ ابھی رند کے رند رہیں ہیں اور ہوش میں آنے سے قاصر ہیں۔

ہم اس قدر مذہبی ہو گئے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے جب چاہیں کسی کے عقیدے کو جانچیں اور قتل کے فتوے جاری کریں۔ کبھی ہمارے وزیراعظم کو تو آرمی چیف کو اعلانیہ اپنے عقیدے ظاہر کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔

ہم اندر سے کیا ہیں اس بات کا اندازہ اگر ایک دوجے کو ہو جائے تو یہ ظاہراً مذہبی نظر آنے والا معاشرہ ننگا ہو جائے۔

دورہ امریکہ کے دوران عمران خان صاحب نے کہا کہ ایک مذہبی گروپ نے پچھلی حکومت کو بھی یر غمال بنایا اور ہماری حکومت کو بھی یرغمال بنانے کی کوشش کی مگر ہم نے ان کو جیلوں میں ڈال دیا۔ گویا دیار غیر میں جا کر اعتراف کر لیا گیا کہ وہ لوگ جنہیں اپنا کہا گیا اپنے نہیں تھے بلکہ یرغمالی گروہ تھا۔ یہ الگ بحث کہ ایسے یرغمالی گروہ کب کون اور کیسے میدان میں اتارتا ہے جو حکومتوں کا اقتدار چھین لیتے ہیں۔

میری نظر میں خان صاحب ظاہری طور پہ کامیاب لوٹے ہیں اور ان کی کامیابی مخالفین کو بھلا کیسے بھا سکتی ہے اس لئے وہ اب تہمت سے مارنے کے چکر میں ہیں اور تہمت بھی اسلامی۔ اور کبھی وزیراعظم کے مشیروں کو قادیانی ٹھہرایا جا رہا ہے اور کبھی دوستوں کو صف میں شامل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور کبھی خود وزیراعظم کو قادیانیوں کا حامی بنانے کی کوشش کی جا رہی تاکہ کسی طریقے سے یہ سحر ٹوٹے جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ مگر نہیں اب اللہ کرے کبھی ایسا نہ ہو۔

عمران خان صاحب میرا سیاسی نقطہ نظر ہمیشہ آپ کے مختلف رہا ہے مگر ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناتے آپ سے گزارش ہے کہ خدارا اس معاملے میں روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کو فیصلے کرنا شروع کیجئے اور بہادری سے کام لیجیے تاکہ مذہب کو بطور سیاست آئندہ کبھی استعمال نہ کیا جا سکے۔ اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو۔

(آپ کے حامی تو ویسے بھی یہ کہہ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ پہلے ہم کون سا سوئٹزرلینڈ میں رہ رہے تھے اس لیے ان کی بلا سے۔ مگر تھوڑی سی خوشی سے ہم جیسوں کو بھی نواز دیجئے۔ دعاؤں میں یاد رکھیں گے اور دعائیں بھی وہی جن کا حوالہ جناب خود ٹرمپ کو دے آئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •