بند راستہ اور باجو کی پتلی گلی


 \"asifاگر دفتر سے اٹھتے اٹھتے دیر نہ ہو جاتی تو شاید میں وہ راستہ اختیار نہ کرتا۔

لیکن نہ جانے یہ کیسے ہوتا ہے کہ تھوڑا سا بھی پہلے دفتر سے اٹھنے کا ارادہ کر لوں تو عین اسی وقت بہت سارے لوگوں کو کام یاد آجاتے ہیں نہ جانے کب سے رکھے ہوتے ہیں، کوئی ملنے چلا آتا ہے، کسی کو ضروری بات کہنی ہوتی ہے۔ آدھ  پون گھنٹہ پہلے نکلنے کا ارادہ کیا تھا مگر پھر بھی دیر ہوتی چلی گئی۔ دوسری جگہ بھی وقت پر پہنچنا تھا۔

جلدی جلدی کمپیوٹر بند کیا اور سیڑھیوں کے بجائے لفٹ سے بیسمنٹ میں آ گیا جہاں گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ پہلوان گوٹھ سے مڑ کر اندر والا راستہ لے لیتے ہیں، میں نے طے کیا۔ ایئرپورٹ سے اندر اندر نکل کر شارع فیصل کے فلائی اوور سے شاہ فیصل ٹائون اور وہاں سے انڈسٹریل ایریا ہو کر پھر کورنگی روڈ۔ سیدھا راستہ ہے اور سیکڑوں دفعہ کا دیکھا ہوا۔ اس سے وقت بہت بچ جاتا ہے۔

پچھلے تجربے کی بنیاد پر میرا خیال یہی تھا۔ لیکن ان دنوں یہ حال ہے کہ پرانے تجربے بہت جلد منسوخ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے تجربے آجاتے ہیں جو معمولی سے معمولی ہونے کے باوجود تلخ تر ہو جاتے ہیں۔ اس راستے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

شاہ فیصل ٹائون میں فلائی اوور سے اتر کر داخل ہونے کے بعد بھی کوئی گمان نہ تھا۔ میں اس سے آگے نکلتا چلا گیا، ٹھیلوں، دکانوں، گلیوں، بازاروں، مکانوں کو دیکھتا ہوا۔ جس طرح ہمیشہ دیکھا کرتا تھا۔ فیصل ٹائون سے باہر نکلنے والے راستے پر جہاں تیر کا نشان بنا ہوا ہے اور سنگر چورنگی لکھا ہوا ہے، کچھ ٹرک کھڑے تھے۔ میں نے گاڑی کی کھڑکی سے دیکھا تو کئی لوگ گاڑیاں واپس موڑ کر اسی طرف پلٹ رہے تھے۔ موٹرسائیکلیں زیادہ تھیں، وہ بھی واپس ہورہی تھیں۔ خدا جانے کیا ہوگیا ہے۔ کون بتاتا، کس سے پوچھتے؟

ٹریفک والے دو چار سپاہی کھڑے باتیں کررہے تھے۔ صدیق نے گاڑی روک کر راستے کے بارے میں کچھ پوچھا۔ صدیق کی آواز تو نہیں آئی، جواب میں ٹریفک کے سپاہی کے دانت کچکچانے اور زور سے ڈانٹنے کی آواز آئی۔ پھر اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ خدا جانے کیا نیکی جی میں آئی کہ جواب میں بُرا بھلا نہیں کہا اور صدیق نے گاڑی اسی طرف موڑ دی۔ تھوڑی دیر چلا، پھر جیسے سوچ میں پڑ گیا۔ ’’یہ راستہ تو قائد آباد نکلے گا۔ روڈوں پر کھڈّے مڈّے ہوں گے، ٹریفک کا رش ہوگا۔۔۔‘‘ اس نے مجھے بتایا اور گاڑی دوسری طرف موڑ لی۔ مکانوں کا اسی طرح کا سلسلہ تھا لیکن بیچ میں کوئی ایسا راستہ نہیں تھا جو دوسری طرف لے جائے۔

اگلے چوک سے دو قدم آگے سڑک کے ساتھ کھڑے ہوئے بوڑھے آدمی سے کئی گاڑی والے راستہ پوچھ رہے تھے۔ وہ بھی ہاتھ کے اشارے\"traffic-jam-karachi\" سے آگے جانے کا اشارہ کررہا تھا۔ ’’یہ ۵ نمبر ہے۔ آگے بلال کالونی سے ہو کر شارع فیصل بھی پکڑ سکتے ہیں۔ فلائی اوور پر واپس جانا پڑے گا۔۔۔‘‘ صدیق نے مجھے بتایا، ’’آگے پل بند ہے۔ اس کا کوئی حصّہ ٹوٹ گیا ہے۔ شارع فیصل سے جائیں تو آپ ٹائم کے بھی بعد پہنچیں گے۔ ندی کے راستے سے چلتے ہیں۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔ میں نے بھی سوچا، وقت کم ہے۔

خطرہ مجھے اس وقت محسوس ہوا جب سڑک کچّے راستے میں تبدیل ہوگئی جس کے دونوں طرف گھاس اور ہرے بھرے پودے تھے۔ مٹّی اور ہرے بھرے پودے ہی اندیشے کا احساس دلانے کے لیے کافی تھے۔ پھر سڑتے ہوئے پانی کی تیز بو اور پانی بہنے کی آواز بھی آنے لگی۔ کچّے راستے کے ساتھ ساتھ گندے پانی کی بدرد بہہ رہی تھی اور کالے رنگ کا بدبودار پانی تیزی سے حرکت کررہا تھا۔ پانی کے کٹائو سے یہ راستہ بھی کئی جگہ سے خراب ہورہا تھا اور کیچڑ جمع ہوگئی تھی۔ ایک آدھ جگہ کیچڑ اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی اوپر نیچے ہلنے لگی۔ اب اس کے آگے بھی گاڑی تھی اور پیچھے کئی اسکوٹر والے جو بڑی احتیاط کے ساتھ کیچڑ میں سے اپنے اسکوٹر ڈھکیل رہے تھے۔

دھنستی ہوئی کیچڑ سے آگے نکلے تو ایک نیا مرحلہ تھا۔ کچّا راستہ گندے پانی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے چوڑا ہورہا تھا۔ پھر بھی گاڑیوں کی قطار رکی ہوئی نظر آئی۔

’’مارے گئے استاد‘‘ میں نے اپنے آپ سے کہا۔

گندے پانی کا پاٹ چوڑا ہوگیا تھا۔ اس کے دونوں طرف ریت کے ٹیلے اور نوک نکلی چٹانیں تھیں جن کو ایسا لگتا تھا کہ کاٹا گیا ہے۔ لیکن ان کی نچلی سطح پر کوڑے کرکٹ کے مخروطی ڈھیر تھے۔ چھوٹے بڑے اہرام کا ایک سلسلہ جن میں سے بعض میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ بدبو کے مارے دماغ پھٹا جاتا تھا۔

یہاں سے راستہ ایک دم سے اونچائی کی طرف جاتا تھا۔ وہاں گاڑیاں رُکی کھڑی تھیں، ایک ایک کرکے باری باری گزر رہی تھیں۔

\"KARACHI,

ایک موٹر سائیکل والا اپنی گاڑی ایک طرف روک کر بڑے اطمینان سے موبائل فون پر باتیں کرتا چلا آرہا تھا۔ وہ ہوا کے مخالف سمت سے آیا تو اس کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ وہ کسی کو جگہ سمجھ رہا تھا کہ اس وقت کہاں ہے۔

’’اب کہاں ہوں کیا بتائوں۔ سمجھو شاہ فیصل والی ندی میں کھڑا ہوں۔ راستہ کُھلے تو نکلوں۔ پھنس گیا ہوں۔۔۔‘‘

یہ سارا منظر کسی post-apocalyptic فلم کا حصّہ لگ رہا تھا۔ میں گاڑی کے اندر بیٹھا رہا۔

گاڑیوں کے قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ ایک ٹرک نے جو بہت لدا پھندا تھا، تیزی دکھائی تو چڑھائی کے نزدیک پہنچ کر رک گیا۔ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا تھا۔

وہاں نہ جانے کہاں سے کئی آدمی آگئے۔ پہلے میں سمجھا کہ ٹیلی فون چھیننے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ مگر انہوں نے ٹرک کو دھکّا لگانا شروع کیا، یہاں تک کہ گڑگڑاہٹ کی زور دار آواز کے ساتھ ٹرک پار ہو گیا۔ وہ ہر گاڑی کو اسی طرح دھکّا دے کر نکال رہے تھے۔

اپنی باری آنے پر میری گاڑی بھی بڑی تیزی کے ساتھ چڑھائی پر آئی۔ وہاں پہنچ کر میں نے نظر دوڑائی تو سمجھ میں آیا، کوئی بھی گاڑی اُلٹ سکتی تھی۔

میں نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ کچے پکّے مکان۔ کارخانوں کی بائونڈری وال۔ چھپّر والے چائے خانے اور تندور۔ چند ایک لوگ بیٹھے بڑے سکون سے ان گاڑیوں کی غیرمعمولی تعداد پر نظر ڈال رہے تھے۔ بڑے اطمینان کے ساتھ جگالی کرتی ہوئی بھینسیں اس راستے کو عبور کررہی تھیں۔ گندے نالے کے ساتھ ایک بگلا کھڑا تھا۔ نالہ دوسری طرف جارہا تھا اور ہم دوسری طرف۔

کراچی کا یہ علاقہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور شاید دیکھتا بھی نہیں اگر ایک اتنی بڑی اور connecting سڑک کا کوئی متبادل راستہ ہوتا۔ یا پھر کوئی ہمیں بتا دیتا کہ آگے راستہ بند ہے۔

مگر یہ کام کون کرتا؟ راستے تو سب بند ہیں۔

دیکھا اس شہر کا ایک اور تماشہ۔ ٹریفک جام کا مزہ۔ یہ تو کام سے نکلے تھے۔ بھٹکے پھر پہنچ گئے۔

اس سے پہلے ایک دن فاتحہ میں جانا تھا۔ جاتے وقت حسین آباد میں پھنسے۔ حسن اسکوائر پار کیا تو ٹریفک ٹھیک چل رہا تھا۔ غریب آباد سے مڑے تو گاڑیوں کی رفتار ہلکی ہونا شروع ہوئی۔ پھر اس سے آگے قطار رینگ رہی ہے۔ لوگوں کا بس نہیں چل رہا کہ رانگ سائڈ آجائیں مگر نکلنے کا راستہ ادھر سے بھی نہیں۔ بڑی مشکلوں سے ایک ایک گاڑی گزر رہی ہے۔ معلوم ہوا کسی قسم کی کھدائی ہو رہی ہے۔ چوک کا ایک طرف کا راستہ بڑی کرین اور ارتھ ریمور لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے لے کر کریم آباد کے پُل تک گاڑیاں ہی گاڑیاں جو ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسائے کھڑی ہیں۔

پتہ نہیں کتنی دیر میں پہنچے۔ سوچا واپسی میں ادھر سے جانے کی غلطی نہیں کریں گے۔ راستے بہت ہیں، دوسرا راستہ لے لیں گے۔ لمبا چکّر\"karachi1\" کاٹ کر عائشہ منزل کی طرف آئے۔ اس چوک پر ویسی ہی گاڑیوں کی قطار۔ بڑی مشکل سے سڑک کے درمیانی حصّے تک پہنچے۔ سوچا کہ آگے اس میں پھننے کے بجائے الٹے ہاتھ پر چلتے ہیں، وہاں سے واٹر پمپ کی طرف پھر گلبرگ۔ دیکھا بھالا راستہ ہے۔

ہجوم اس چوک پر کم نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے آ گے بڑھے تو عجیب حالت۔ گاڑیوں سے گاڑیاں ملی کھڑی ہیں۔ اسکوٹر والے بیچ میں سے نکل کر فٹ پاتھ پر چڑھ دوڑے ہیں۔ ٹریفک ہے کہ آگے بڑھنے کا نام نہیں لیتا۔ بسوں کے ہارن، لوگوں کا شور۔۔۔۔ ذرا دیر میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔ سڑک کے آدھے حصّے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے، گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس آڑی ترچھی پڑ رہی ہیں۔ سڑکوں کے دونوں اطراف اندھیرے سے نہ جانے کون سے اور کیسے لوگ نکل رہے ہیں۔ ہارن کا مسلسل اور متواتر شور کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دے۔ اس شور میں جیسے چاروں طرف سے مہیب سائے ڈولتے ہوئے پھیل رہے ہیں۔ گھبراہٹ اور بے بسی سے آگے بڑھ کر میرے کیفیت اب سراسیمگی میں بدلنے لگی ہے۔ ایک ان جانے خوف سے میرا سر چکرائے جا رہا ہے کہ گاڑی کا دروازہ کھول کر کوئی اندر گھس آجائے گا یا پھر شیشے پر ناخن ٹکرانے کی وہ آواز آنے لگے گی جس کا مطلب اتنا واضح ہوتا ہے کہ آپ دھوکا نہیں کھا سکتے۔

خیرخدا خدا کرکے وہاں سے نکلے۔ جان میں جان آئی۔ ایک طویل چکّر کاٹ کر گھر کا رُخ کیا۔

بُرے پھنسے، میں راستے میں سوچ رہا تھا۔ حالاں کہ وہ سارے علاقے جن سے ہم گزرے کتنے دیکھ بھالے۔ ایک طرف چچا کا گھر۔ اس چوک سے آگے خالہ کا مکان۔ فلاں رشتہ دار۔ فلاں جاننے والے اس طرف۔ اس کے باوجود یہاں سے نکلنا عذاب ہوگیا۔

خیر، ہم تو نکل گئے۔ ہمارے بعد نہ جانے کتنے پھنس رہے ہوں گے۔ لوگ آئے چلے جا رہے تھے۔ کوئی بتانے والا نہیں تھا کہ راستہ بند ہے۔ ایک ایک کرکے سارے راستے بند ہوتے جارہے ہیں۔ آگے جانا ممکن نہیں ہے اور واپس جانا اس سے بھی زیادہ مشکل۔

ان دنوں کراچی کے ٹریفک کا جو عالم ہے، وہ آپ کو بہت کچھ سمجھا دے گا۔

اگر نہیں بتائے گا تو یہ کہ یہاں سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS