محمد اختر مسلم۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم


\"Yasser\"وہ ہستی جس نے زمانے کے سرد و گرم سے ہم سب بہن بھائیوں کو محفوظ رکھا جس کے وجود میں رحمت خداوندی ہم پر سایہ فگن رہی، آج سے دو برس پہلے دنیا سے رخصت ہو گئی۔ والد محترم 17 ستمبر 2014ء کو وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں بسلسلہ ملازمت اسلام آباد میں مقیم تھا اور وہ میرے دو چھوٹے شادی شدہ بھائیوں اور ہمشیرہ کے ہمراہ لاہور میں قیام رکھتے تھے۔ میں تقریباَ ہر ماہ ان سے ملاقات کے لیے جاتا اور دو روز ان کے ساتھ گذار کر واپس اسلام آباد آجاتا۔ روزانہ دو تین بار ٹیلیفون پر بات بھی ہوجاتی جس سے ان کی خیریت معلوم ہوجاتی۔ اگست 2014ء میں دفتری مصروفیت کے سبب میں لاہور نہ جا سکا۔ والد محترم کچھ عرصہ سے سینے میں درد اور سانس کی تکلیف محسوس کررہے تھے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ راولپنڈی میں امراض قلب کا بہت اچھا ادارہ ہے آپ یہاں آجائیں تو تفصیلی معائنہ ہوجائے گا۔ 14 ستمبر کی رات کو لاہور سے بذریعہ ریل کا ر راولپنڈی تشریف لائے میں اپنی تینوں بیٹیو ں کے ہمراہ اسٹیشن پر ان کا منتظر تھا، میری اہلیہ نسیم گھر پر ان کے لئے کھانے کے اہتمام میں مصروف تھیں۔ ریل کی بوگی سے جب وہ اترے تو ماشاءاللہ اسی سج دھج سے جو ان کا خاصہ تھی میں نے پہلی نظر پڑتے ہی منہ دوسری طرف پھیر لیا کہ کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے، ہمیشہ ہی سے لباس اور خوراک میں نفاست کا خاص خیال رکھتے تھے۔ میں نے ملتے ہی سلام کے بعد ازرہ مذاق کہا کہ” آپ تو ماشاءاللہ ٹھیک ٹھاک ہیں مجھے ہی ڈرا کر رکھتے ہیں تو جواباَ کہا نہیں یار اب تو میں بھی ڈر جاتا ہوں“ (چند روز قبل بھی طبیعت کافی خراب تھی)۔ گھر پر پہنچے تو رات کا کھانا کھایا اور تھوڑی دیر گپ شپ کی اور پھر سونے کے لیے کمرے میں چلے گئے۔ صبح اٹھا تو سلام کیا، انہوں نے بہت دھیمی آواز میں جواب دیا میں سمجھا کہ شاید ابھی سو کر اٹھے ہیں جس کی وجہ سے آواز بلند نہیں۔ میں دفتر کے لیے تیا ر ہونے لگا تو اہلیہ نے آواز دی کہ جلدی آئیں ابو کی طبیعت خراب ہے میں جب ان کے پاس پہنچا تو نڈھال تھے۔ میں نے کھجور کھلائی کہ مبادا شوگر لیول کم ہو لیکن ان کو قے ہورہی تھی۔ میں نے فوراَ اسپتال کے لیے چلنے کو کہا تو خود گاڑی تک آئے ہم سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچے لیکن وہاں پہنچ کر طبیعت مسلسل بگڑتی رہی طبی امداد دی جاتی رہی لیکن ان کا جسم کسی دوائی کا اثر قبول نہیں کررہا تھا۔ میرے عزیز ترین دوست اکرام اللہ خان صبح ہی سے اسپتال میں میرے ساتھ موجود تھے۔ شام کو عزیز دوست صاحبزادہ صبغت اللہ اور ملک وقار بھی آگئے۔ تقریباََ عشاءکے وقت انھوں نے اس جہاں کو خیرباد کہ دیا اور اپنے پروردگار کے حضور حاضری کے لیے روانہ ہوگئے۔ ان کی تدفین کے لیے لاہور میں سمسانی قبرستان۔ جوہر ٹاﺅن کاانتخاب کیا گیا کہ لاہور میں ان کے حلقہ احباب ایک بڑی تعداد میں موجود تھے اور پھر ہماری والدہ محترمہ کی تربت بھی اسی قبرستان میں تھی۔

ان کی پیدائش 15 اپریل 1937ء کو حیدرآباد سندھ میں ہوئی جب کہ آباءو اجداد کا تعلق وادی سون سکیسر کے شہر نوشہرہ سے تھا۔ دادا مرحوم \"pasport-size\"فارسی کے معلم تھے، جو والد صاحب کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد کراچی میں کھڈہ مارکیٹ کے علاقے میں منتقل ہوگئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے حیدرآباد سندھ میں حاصل کی جب کہ اپنی بقیہ تعلیم جیکب لائن اسکول اور ایس ایم کالج کراچی میں حاصل کی۔ انہوں نے ایک بھرپور متحرک زندگی بسر کی۔ اسکول و کالج کے کھیلوں، تقریری مقابلوں اور دیگر پروگراموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے حتیٰ کہ پہلوانی کا شوق بھی رکھتے اور بھولو برادران کے اکھاڑے میں جا کر کثرت کرتے تھے۔ اسکول و کالج میں اسکاﺅٹ کے دستے کے کمانڈر بھی رہے۔

دین کی تفہیم، انسانی دوستی، علم و ادب، شاعری،موسیقی کے مضامین خاندان کا خاصا تھے جنہوں نے ان کے مطالعہ کے ذوق کو اور مہمیز کیا۔ ابتداء میں بچوں کے رسالے کھلونا سے مطالعہ کا آغاز کیا ااور پھر ایم اسلم، نسیم حجازی، نسیم انہونی، شوکت تھانوی، قیسی رامپوری، سید رئیس احمد جعفری، رشید اختر ندوی، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی اور دیگر ترقی پسند افسانہ نگاروں کو باقاعدگی سے پڑھا۔ اس دورا ن ایک مقام ایسا بھی آیا کہ انہوں نے ناول اور افسانہ کے مطالعے کو اس عذر پر ترک کردیا کہ” کسی علمی مجلس میں دلیل کے طور پر ناول یا افسانہ کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا “۔

اس کے بعد انہوں نے قرآن حکیم کے تراجم اور تفاسیرکے مطالعہ کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں دیندار انجمن کے ہفتہ واری درس میں باقاعدگی سے شرکت شروع کی جہاں مولانا سعید بن وحید صاحب درس قرآن دیا کرتے تھے۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا کیونکہ کشف اور الہام کے تصورات اس وقت بھی ان کے دل و دماغ کو متاثر نہیں کرسکے تھے لیکن وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے تھے مولانا سعید بن وحید صاحب نے ان کے مختلف مکاتب فکر کے مطالعہ اور قرآن حکیم کے براہ راست مطالعہ کے شوق کو اور جلا بخشی۔ چناں چہ ابولکلام آزاد، سید ابو اعلیٰ مودودی، غلام احمد پرویز مولانا محمدعلی ( احمدی لاہوری گروپ) ڈاکٹر غلام جیلانی برق، نیاز فتح پوری، علامہ جعفر شاہ پھلواروی، سرسید احمد خان، مولانا عبیداللہ سندھی کی بیشتر کتب کا مطالعہ کیا، لیکن انہوں نے ان مختلف مکاتب فکر کا مطالعہ اندھی تقلید کی بجائے کھلے ذہن اور آنکھوں سے کیا۔ فکر و تدبر جس کا تقاضا قرآن اپنے قاری سے کرتا ہے اس تقاضے کو انہوں نے کماحقہ ادا کیا۔

مکتوب نگاری ان کا خاصہ تھی، خط لکھتے اور خوب لکھتے ان کا خط بھی بہت عمدہ تھا۔ مختلف حوالوں سے اہل علم و دانش سے خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا جن میں سید ابواعلیٰ موددی، جعفر شاہ پھلواروی، غلام جیلانی برق، ایم اسلم، مولانا غلام رسول مہر، غلام احمد پرویز، جاوید احمد غامدی، مختار مسعود، شیخ منظور الہی، مولانا عبد القدوس ہاشمی سمیت دیگر ارباب فکر شامل ہیں۔ ان میں سے چند خطوط ہفت روزہ آئین میں شائع ہوچکے ہیں۔

کراچی میں علامہ اقبال کے بھتیجے شیخ اعجاز احمد مرحوم کے گھر ہر ہفتے اہل علم کی مجلس ہوتی تو باقاعدگی سے اس میں شرکت کرتے۔ کراچی میں ہی مولانا محمد طاسین صاحب سے بھی خصوصی تعلق تھا جب کہ سینیٹر سید اقبال حیدر مرحوم سے بھی قریبی مراسم رہے اور مختلف مسائل کے حوالے سے اپنی آراءمستند حوالوں کے ساتھ اکثر ان کو بھیجتے رہتے۔ سید محمد تقی، محمود شام، سید قاسم محمود، عبید اللہ علیم، ملک محمد نواز اعوان اور خطیب محمد ظہیر الدین بھٹی سمیت بے شمار اہل علم و دانش سے بھی دوستانہ مراسم رہے۔ جب کہ لاہور میں ڈاکٹر الطاف جاوید، کے ایم اعظم، محمود مرزا، قاضی کفایت اللہ، پروفیسر خالد ہمایوں، شوکت چوہدری، حافظ ندیم، قاضی جاوید، ڈاکٹر رشید جالندھری، سہیل عمر، مظہر شیرانی، ڈاکٹر غلام محمد لاکھو، ڈاکٹر سلیم اختر، امجد سلیم علوی ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔ یونیسکو کے زیر اہتمام جب پورے پاکستان میں کتابوں کی نمائشیں ہوئی تو ابنِ انشاء مرحوم کے ساتھ ان نمائشوں کے منتظمین میں شامل تھے۔ 2001ء میں کراچی سے لاہور منتقل ہوئے تو چند سال اقبال اکیڈمی کے ساتھ بطور رسیرچ اسکالرپر بھی منسلک رہے۔ جب کہ زیادہ عرصہ نیشنل کنسٹرکشن کمپنی اور نجی اداروں میں انتظامی امور کے شعبوں میں ملازمت کی۔

1962ءمیں ایک کتابچہ ” شہید کربلا“ تحریر کیا جس میں واقعہ کربلا کے انقلابی گوشوں سے پردہ اٹھایا، ان کے اس کتابچہ پر اردو و انگریزی کے تمام بڑے اخبارات میں تبصرے شائع ہوئے اس کے علاوہ علامہ محمد عبدالحامد القادری، مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا غلام رسول مہر، پروفیسر بی اے حلیم،پروفیسر ڈاکٹر امیر حسن صدیقی، جناب ظفر نیازی اور سید محمد تقی نے بھی اپنی آراء کا تحریری اظہار کیا جنھیں اگلے ایڈیشن میں شامل کیا گیا۔ 2008ء میں ایک کتاب ” قرآن اور انسانی حقوق “ تالیف کی جسے علمی، سیاسی، ادبی اور سماجی حلقوں میں بہت سراہا گیا ا ور جس پر اردو و انگریزی کے تمام اخبارات میں تبصرے شائع ہوئے۔ جناب شان الحق حقی کی ادارت میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیراہتمام شائع ہونے والی انگریزی۔ اردو لغت کے پینل میں بھی شامل رہے۔

والد محترم تمام عمر فکراسلامی کے مبلغ اور شارح رہے۔ قرآن پاک، سیرت طیبہ ﷺ، غالب اور اقبال ان کے پسندیدہ موضات رہے ہیں۔ محترم فیض احمد فیض مرحوم کے لیل و نہار، محترم حنیف رامے مرحوم کے نصرت، روزنامہ جنگ، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے فکرو نظر، اخبار جہاں، ہلال، المعارف، فرائیڈے اسپیشل، قومی ڈائجسٹ سمیت ملک کے دیگر مﺅقر جریدوں و اخبارات میں ان کے شائع ہونے والے مضامین اور تحریر و تالیف کردہ کتب ’ شہیدِ کربلا“ و ’ ’قرآن اور انسانی حقوق “ سبھی میں وہ سرمایہ داری، جاگیر داری اور ظلم و استحصال کے خلاف لکھتے رہے۔ ان کی لائبریری میں قرآن پاک کی بے شمار تفاسیر و سیرت طیبہ ﷺ کے نسخے، دیگر دینی و ترقی پسند لٹریچر کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، سیاست، ادب، تصوف اور شاعری کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ موجود ہے جو ہمارے لیے تمام عمر کا اثاثہ اور ان کے لیے ان شاءاللہ صدقہ جاریہ ثابت ہوگا۔

حنیف رامے صاحب سے خصوصی انس تھا۔ حنیف رامے صاحب نے جب اپنے رسالے مساوات کو پیپلزپارٹی کا ترجمان بنایا تو والد محترم نے دامے درمے سخنے اس کے لیے کام کیا اور پیپلز پارٹی کے نظریات کی ترویج واشاعت میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ 2002ء میں، میں ان کے ساتھ لاہور میں حنیف رامے صاحب کے پاس ملنے گیا تو رامے صاحب بڑے تپاک سے ملے، اس ملاقات میں رامے صاحب نے ذکر کیا کہ وہ قرآن کو سمجھنے کے لیے غلام احمد پرویز صاحب کے پاس گئے اور ا ن سے درخواست کی کہ وہ انھیں قرآن سمجھائیں، اس کے عوض وہ ان کے گھر پر کام بھی کرنے کو تیا ر ہیں لیکن پرویز صاحب نے معذرت کرلی کہ وہ فرد واحد کے لیے وقت نہیں نکال سکتے۔ اس کے بعد رامے صاحب چند سالوں کے لیے کوئٹہ چلے گئے جہاں دنیا و جہاں سے بے نیاز ہو کر قرآن کریم پر تدبر کیا۔

والد محترم پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ نظریاتی وابستگی رکھتے تھے لیکن عملی سیاست اور جماعتوں کی اندرونی سیاست اورگروہ بندی ان کے مزاج کے خلاف تھی۔ اس دور میں کراچی میں غلام احمد بٹ، الطاف جاوید، اسماعیل آزاد اور بہت سے اہل علم ان کے ہمراہ تھے۔ 1970ء میں پیپلز پارٹی کا کورنگی میں جو جلسہ ہوا اس میں تمام تر انتظامات کے علاوہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دیے اسی جلسے میں جناب طارق عزیز نے پاکستان پیپلز پارٹی میں اپنی شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ نظریاتی اور عملی وابستگی رکھتے تھے لیکن جب سرمایہ داروں اور جاگیر داروں نے پیپلز پارٹی پر قبضہ کرلیا اور بھٹو صاحب بھی اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہو گئے تو پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا کہ:

اس محفل سے خوش تر ہے کسی صحرا کی تنہائی

لیکن جب ضیاء صاحب نے مارشل لاء نافذ کیا اور بھٹو صاحب چند روز کے لیے کراچی آئے تو فوراَ ملنے پہنچے، اس موقع پر عبدالحفیظ پیرزادہ نے والد محترم کا تعارف کرانا چاہا تو بھٹو صاحب نے ان کو روک کر خود ہی والد محترم کا نام اور مکان نمبر تک بتا دیا۔ اس وقت والد محترم نے اس وقت پیپلز پارٹی کی تمام مرکزی قیادت کے سامنے بھٹو صاحب کو باور کرایا کہ ان کو یہ دن انھی لوگوں کی وجہ سے دیکھنا پڑا ہے جو اس وقت ان کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں اور ساتھ ہی بھٹو صاحب کو بتا دیا کہ وہ اور ان جیسے ہزاروں نظریاتی لوگ ان کے دکھ کے ساتھی ہیں جو وقت پڑنے پر اپنا خون بھی پیش کرسکتے ہیں۔ والد محترم کی یہ گفتگو سن کر بھٹو صاحب کھڑے ہوئے اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ فکر نہ کرو ان کا بھی انتظام کر لیں گے۔ رپورٹنگ کی خدداد صلاحیت کے مالک تھے ٹیپ ریکارڈر کا استعمال اور نوٹس بھی نہ لیتے مگر اس کے باوجود حرف بہ حرف رپورٹنگ کرتے۔ بہترین شعری ذوق کے حامل تھے، برمحل اور موزوں شعر پڑھتے سینکڑوں کی تعداد میں شعر یاد تھے۔ اکثر خود بھی شعر کہتے۔ قادر الکلام تھے کسی بھی واقعے کو اس طرح بیان کرتے کہ سامع کو یوں محسوس ہوتا کہ یہ تمام واقعہ اس کی آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہا ہے۔

حسِ مزاح بھی بہت عمدہ تھی۔ سندھی بہت روانی سے بولتے اور پنجابی میں جب اپنی علاقائی زبان میں بات کرتے تو ٹھیٹ پنجابی لگتے اور جب اردو بولتے تو سننے والے کو یوپی اور سی پی سے تعلق کا گمان ہوتا۔

والد محترم مضبوط اعصاب کے ساتھ ساتھ رقیق القلب بھی تھے، ضیاءالحق سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کے جنازے کے منظر پر آبدیدہ تھے۔ سخت سے سخت حالات میں بھی ہمت نہ ہارتے اور صبر و شکر کا دامن نہ چھوڑتے۔ لوگوں کے کام کرکے خوشی محسوس کرتے۔

جس شخصیت پر سب سے زیادہ اعتماد اور محبت کرتے وہ ان کے کالج کے زمانے کے عزیز ترین دوست مرزا حسن علی بیگ ہیں۔ بیگ صاحب بھی انھیں اسی قدر عزیز رکھتے تھے۔ ان کی اور والد مرحوم کی دوستی نصف صدی کا قصہ تھی۔ اس تمام عرصہ میں ان کے تعلقات آخری وقت تک مثالی رہے۔ والد محترم کی وفات کے بعد بھی بیگ صاحب اور ان کے اہل خانہ کی محبت اور شفقت ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بیگ صاحب اور ان کے اہل خانہ کو سلامت رکھے آمین۔ بیگ صاحب جنھیں ہم چچا جان کہتے ہیں پیشے کے اعتبار سے تو کان ناک اور حلق کے اعلیٰ درجے کے سرجن ہیں لیکن تاریخ اور ادب کا بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ تاریخ اور حالات حاضرہ پر ڈاکٹر بیگ صاحب بے شمار مقالے تحریر کرچکے ہیں۔ جب ڈاکٹر بیگ صاحب نے بیرم خان، خانخاناں نامہ اور وقائع بابر کے نسخوں پر تحقیقی کام کیا تو والد محترم نے ان کی بھرپورمعاونت کی، وقائع بابر میں شامل چند مضامین کے انگریزی سے اردو ترجمے کیے اور بیرم خان کی مشہور فارسی غزل کا اردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا۔

فکری طور پر وہ ارتکاز دولت اور جاگیر داری، سرمایہ داری اور ملائیت کے خلاف رہے۔ اسلام میں مختلف مکاتب فکر کے تکفیر سازی کے مشغلے ان کے لیے سوہان روح سے کم نہ تھے۔ وہ ملا کو اس تمام فساد کی جڑ سمجھتے تھے۔ 1970ء میں جب 113 مولوی حضرات نے فتویٰ جاری کیا کہ سوشلسٹ خارج از اسلام ہیں تو ہفت روزہ لیل و نہار کے فتویٰ نمبر (1970۔ 4۔ 19) میں ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا کے عنوان سے ایک تحقیقی مضمون لکھا جس میں تاریخی حوالوں سے بیان کیا کہ ہمارے علما حضرات پر بھی کفر کے فتوے لگتے رہے تھے۔ مولانا مودودی اور پرویز صاحب کے تقابل کے حوالے سے ان کا یہ قول علمی حلقوں میں بہت مشہور تھا کہ ” مودودی صاحب نے جماعت اسلامی بنائی اور مردان کار تیا ر کیے جب کہ پرویز صاحب نے ٹیپ ریکارڈر ایجاد کیا“۔ اپنے نظریات اور عقائد میں سخت تھے اور مصلحت پسند نہ تھے، اگرچہ ان کے بہت سے رفیق این جی اوز میں جا کر انھی سامراجی قوتوں کے آلہ کار بن گئے جن کے خلاف وہ تمام عمر جنگ لڑنے کااعلان کیا کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی اپنے نظریات پر سمجھوتا نہیں کیا۔ ڈاکٹر بیگ صاحب نے ایک جملے میں جو ان کی لوح کے یے انہوں نے تجویز کیا تھا، ان کی ساری زندگی کا نچوڑ بیان کیا ہے کہ ” محمد اختر مسلم جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ ” مسلم “ کا اضافہ کیا عمر رفتہ اسم با سمیٰ ہونا ثابت کیا “۔ عمران خان کو پسند کرتے تھے اور اپنے اکثر مضامین اور کالموں میں ان کا دفاع کرتے لیکن میں ان سے کہا کرتا تھا کہ تحریک انصاف کا انجام بھی پیپلز پارٹی جیسا ہی ہوگا کہ نظریاتی کارکن پچھلی نشستوں پر ہوں گے اور اگلی صفوں میں سرمایہ دار، جاگیر دار اور موقع پرست ہوں گے۔

انہوں نے تمام عمر اپنی بساط سے بڑھ کر ہمیں آسائیشیں فراہم کیں،، دین فہمی، کتاب دوستی، علم کی قدر و جستجو اور ایثار جیسی خصوصیات کو ہماری تربیت کا حصہ بنایا۔ 2008ء میں ہماری والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد ہم بہن بھائیوں کا اس طرح خیال رکھا کہ ہمیں والدہ کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ وہ تمام عمر اپنی محبت اور شفقت کا حق ادا کرتے رہے لیکن میں ان کی خدمت کا حق اس طرح ادا نہ کر پایا جس کے وہ حقدار تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “محمد اختر مسلم۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

  • 20/09/2016 at 9:23 صبح
    Permalink

    اچھے مخلص اور علم دوست انسان تھے۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان میں کام کرتے ہوئے ان سے کسی قدر خط و کتابت بھی رہی اور ان کے اور شان الحق حقی صاحب کے درمیان ہوئی خط و کتابت بھی پڑھنے کا اتفاق رہا۔ بہت نستعلیق اردو لکھتے اور القاب و آداب کو بہرصورت ملحوظ رکھتے۔ نیز تحریر کی روانی و شگفتگی مثالی تھی۔ اللہ عزوجل مرحوم کے درجات بلند کرے۔

Comments are closed.