ٹیلی ویژن ڈرامے کا مستقبل کیا ہے؟


\"zeffer05\"ٹیلی ویژن ڈرامے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا فی الحال تو ممکن نہیں؛ صورت احوال یہ ہے، کہ ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن کی انڈسٹری سکڑ کر کراچی تک محدود ہوگئی ہے؛ دوسرا نمبر لاہور کا ہے، جہاں سے سال میں ایک آدھ ڈراما دکھائی دیتا ہے؛ ٹیکنیشن ہوں، یا فن کار، سبھی کو کراچی کا رخ کرنا پڑتا ہے، ورنہ اس پروفیشن سے گھر کا چولھا جلاے رکھنا نا ممکن ہوا چاہتا ہے۔ اب ٹیلی ویژن والوں کی نظر میں کراچی ہی سارا پاکستان، اور پاکستان ہی کراچی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ \’ریٹنگ\’ کا ذکر کرتے ایک مضمون میں اس کی تفصیل بیان کر چکا ہوں۔

Content  کے اعتبار سے معیاری پروگرام نا کافی ہیں؛ Production value چاہے جتنی بھی اچھی کر لیں، بالآخر رس میں ذائقہ نہ ہو، قوت بخش نہ ہو، تو بات نہیں بنتی۔ یہ بات کسے سمجھائی جاے، کیسے سمجھائی جاے، اور کون سمجھے۔۔۔ تفریح کے نام پر پروپگنڈا کرتے ٹیلی ویژن چینل جانتے ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں؛ کس کے لیے پروگرامنگ ہوتی ہے۔ حقیقت میں ٹیلی ویژن ڈرامے \’اشتہار\’ بن کر رہ گئے ہیں۔ کہیں عورتوں کے حقوق کے نام پر کام کرتی این جی او کا تعاون شامل ہے، تو کہیں آئی ایس پی آر کے نقطہ نظر کی تشہیر کرتے ڈرامے۔ بالفرض آج کشمیر کاز پہ تیار ہونے والا ڈراما اسپانسر ہو جاے، تو کل سبھی چینل کشمیر کی آزادی پکارتے نظر آئیں گے۔

ہم پہ بہت تنقید ہوتی ہے؛ پوچھا جاتا ہے، کہ آپ کے پاس موضوعات کی کمی ہے؟۔۔ کیوں ایک ہی طرح کے ڈرامے دکھاے جاتے ہیں؟ اگر اسی سوال کے اس حصے پہ غور کیا جاے، کہ \’دکھاے جاتے ہیں؟\’ تو یہ سوال مصنفین، ہدایت کاروں سے نہیں \’دکھانے\’ والوں سے کیا جانا چاہیے۔ کوئی آپ سے کہے، ایسا ڈراما بناتے ہیں، جو وقت کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے، آرٹ کا نمونہ ہوگا، لیکن اسے کوئی ٹیلی ویژن چینل نشر نہیں کرے گا، تو کیا آپ ایسے پروگروم پہ سرمایہ لگانے کو راضی ہوں گے؟۔۔ نہیں نا!

بہت سے لکھنے والے ہیں، جو یہ نہیں لکھنا چاہتے، جو نشر ہو رہا ہے؛ وہ جو لکھنا چاہتے ہیں، وہ نشر نہیں ہوتا۔ صرف ٹیلی ویژن ڈراموں کو دیکھ کر یہ کہنا کہ مصنف کے پاس کچھ نیا نہیں ہے، کم علمی پہ مبنی بیان ہوگا۔ آپ یہ کہ سکتے ہیں، ٹیلی ویژن چینل مخصوص موضوعات کے علاوہ کچھ اور دکھا نہیں رہا۔ جیسا کہ پہلے کہا، Client کی فرمایش پوری کی جاتی ہے، سیلز ڈِپارٹ منٹ بتاتا ہے، کہ کیسا پروگرام نشر ہوگا۔ ناظر کی پسند کا خیال نہیں رکھا جاتا، ناظر کو متوجہ کرنے کے حربے ضرور اختیار کیے جاتے ہیں؛ منفی یا مثبت، اس سے کلام نہیں۔۔۔ خلاصہ یہ ہے، کہ ہمارے آج کے ٹیلی ویژن ڈرامے اشتہاری پروگرام کی ایک شکل بن کر رہ گئے ہیں۔

میں ایک نیوز چینل پہ پروگرام پروڈیوسر تھا، اور انیق احمد ایک دینی پروگرام کی میزبانی کرتے تھے؛ میں ادارے کے \’سسٹم\’ کو کوستے ہوے اپنے استعفے کی بات کرنے لگا؛ انیق احمد نے مجھ سے سگریٹ طلب کیا، دھنواں اڑاتے کچھ سوچنے لگے، پھر واقعہ سنانے بیٹھ گئے۔ جب انھوں‌ نے جیو نیٹ ورک جوائن کیا تو مشتاق احمد یوسفی صاحب نے انھیں کال کر کے مبارک باد دی، اور مشورہ دیا کہ تم جیو کے نظام کا حصہ بننے جا رہے ہو، ذہن نشین رہے، کہ نظام کو تبدیل کرنے نہیں جا رہے۔

یہی داستان ٹیلی ویژن چینل کے لیے کام کرنے والوں کی ہے؛ ہم اس نظام کا حصہ ہیں، آپ ہمیں انقلابی سمجھ کر سوال کرتے ہیں، تو ہم گم سم رہ کر، آپ کی صورت تکا کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran