ترقی پسندوں کے نام ایک فطرت پرست کا آخری خط


\"jamshedخواب انفرادی اسطورہ جب کہ اسطورہ اجتماعی خواب ہے۔ خواب انفرادی جب کہ اسطورہ اجتماعی لاشعور سے جنم لیتا ہے۔ اس لئے فرائیڈ اور کارل ینگ خوابوں کی مدد سے فرد کے شعور کی گہرائیوں میں اترے۔ دوسری طرف علم البشریات کے ماہر جوزف کیمپبل(1904-87) نے اسطورے کی مدد سے دنیا بھر کی تہذیبوں کے اجتماعی لاشعور کی تشریح کی۔

ہمارے ہاں آج تک اسطورہ (myth) جھوٹ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن عظیم نفسیات دانوں، علم البشریات کے ماہرین اور ان کے پیروکار دانشوروں نے گذشتہ صدی میں اس اصطلاح کے معانی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میں دیومالا (mythology) پر مضمون لکھنے والا مصنف علم اور دیومالا کے مابین فرق کچھ یوں بتاتا ہے :

’’علم اور دیومالا میں کوئی فرق نہیں۔ کمزور کا علم دیومالا جبکہ طاقتور کی دیومالا علم کہلاتی ہے ‘‘۔

یہاں طاقت سے مُراد یقیناً فکری و تخلیقی نہیں تخریبی و عسکری طاقت ہے کیونکہ دنیا میں جس کی لاٹھی اُس کا علم کا قانون چلتا رہاہے۔ آپ نے زیر کرلیا تو آپ باعلم اور مہذب؛ آپ زیر ہوگئے تو جاہل اور وحشی۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک گروہ کامیاب ہوگیا تو انقلابی؛ ناکام ہوگیا تو باغی۔ کامیاب ہوگیا تو تخت ناکام ہوگیا تو تختہ۔

اس طرح مٹائے جانے والوں کے خیالات کو خطرناک تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن متجسس اذہان میں یہ سوال ضرور انگڑایاں لیتا رہا ہے کہ

\"The

مٹائے جانے والوں کے پاس کونسا علم تھا؟ اگر مظاہر پرستوں کی بات کی جائے تو بتایا جاتا ہے کہ انہیں مٹانے کا حکم خُود خُدا نے دیا تھا اس لئے بعض مذاہب نے ان کی نسل کشی کا فریضہ نیکی سمجھ کر مذہبی جو ش و جذبے سے سر انجام دیا۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں انسان کے آباؤ اجداد مظاہر پرست تھے۔ امریکہ کے حقیقی باشندے ریڈ انڈین بھی مظاہر پرست تھے۔ آج ان کا نام ذہن میں آتے ہی پسماندگی کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے تاہم یہ تصور حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ پیدا کیا گیا تصور ہے۔ جوزف کیمپبل اپنی کتاب ’پاور آف متھ ‘ میں ایک ریڈ انڈین سردار سیٹل کا امریکی صدر کے نام ایک خط نقل کرتے ہیں تاکہ جدید دنیا کی بنیاد رکھنے کے لئے مٹائے جانے والوں کے نظریہ حیات کا تقابلی جائز ہ لیا جاسکے۔ آج ایک فطرت پرست کا یہ خط زمین کی صحت اور زندگی کی بقأ کی جنگ لڑنے والوں کے لئے ایک صحیفے کا درجہ رکھتا ہے۔ سردار سیٹل لکھتے ہیں :

\’\’ واشنگٹن میں مقیم امریکی صدر ہماری زمین خریدنا چاہتے ہیں۔ کیا زمین خریدی جا سکتی ہے جب آپ آسمان خرید سکتے ہیں نہ بیچ سکتے ہیں؟ آپ کی پیشکش ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر ہوا کی تازگی، پانی کی چمک دمک اور شفافیت ہماری ملکیت نہیں ہے تو پھر زمین کیسے ہوسکتی ہے؟

اس زمین کا چپہ چپہ میرے لوگوں کے نزدیک مقدس ہے۔ شبنم سے دھلا اور سورج کی روشنی میں چمکتا ہوا ہر کانٹا، ساحلوں پر دمکتا ہوا ریت کا ہر زرہ، گھنے جنگلوں میں چھپی دودھیا دُھند، چراگاہوں میں گنگنا تا ہوا کیڑا۔ یہ سب ہمارے لئے کسی مقدس واردات کی یادگار ہیں۔

درختوں کی رگوں میں جو رس دوڑتا ہے وہ رس ہمارے خون جیسا ہے۔ ہم زمین کا اور زمین ہمارا حصہ ہے۔ اس پر اگنے والے خوشبودار پھول ہماری بہنوں کی طرح مقدس ہیں۔ ریچھ، ہرن اور عقاب ہمارے بھائی ہیں۔ چٹانوں کی چھاتیاں، مرغزاروں کا رس، کانوں سے جسم کی دف بجاتا ہوا خچر اور ہم سب ایک ہی کنبے کے افراد ہیں۔\"indian-chief\"

صاف شفاف ندیوں میں چمکنے والا پانی ہمارے لئے صرف پانی نہیں ہے پُرکھوں کا خون ہے۔ اگر ہم اپنی زمین بیچ دیں تو کیا آپ یاد رکھ پائیں گے کہ یہ زمین مقدس ہے؟ جھرنوں کے آئینوں میں دکھائی دینے والا ہر عکس ہمارا ماضی سے رشتہ جوڑتا ہے۔ گنگناتی ہوئی ندیاں ہمیں ہمارے بڑوں کی آوازیں سناتی ہیں۔ یہ دریا ہمارے بھائی ہیں۔ یہ ہماری پیاس بجھاتے ہیں اور ان کشتیوں کے لئے اپنا سینہ حاضر کردیتے ہیں جو ہمارے لئے خوراک لاتی ہیں۔ ہم اپنی زمین دے دیں تو آپ ان دریاؤں کو اتنا پیار دے پائیں گے جتنا پیار آپ اپنے بچوں سے کرتے ہیں؟

اگر ہم زمین بیچ دیں تو آپ یہ بھول تو نہیں جائیں گے کہ ہوا ہماری عزیز ترین متاع ہے۔ یہ ہمارے اندر روح پھونکتی ہے۔ اسی ہوا میں ہمارے بڑوں نے پہلا سانس اور آخری ہچکی لی تھی۔ ہمارے بچے اسی صاف ہوا میں سانس لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زمین بیچ دیں تو آپ اسے کسی پاک شے کی طرح صاف رکھیں گے؟

کیا آپ اپنے بچوں کو وہ سب کچھ سکھا ئیں گے جو ہم آج تک سکھا تے آئے ہیں؟ زمین ہم سب کی ماں ہے !زمین پر جو بھی آفت آئے اس کا سامنا اس کے بچوں کو کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی طرح ہم یہ نہیں مانتے کہ زمین ہماری ملکیت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زمین کی ملکیت ہیں۔ زمین کے بچوں کی رگوں میں ایک ہی خون دوڑ رہا ہے۔ اسی لئے ہم سب ایک ہیں۔

انسان نے حیات کا تانا بانا نہیں بنا۔ وہ تو زندگی کی چادر کا محض ایک دھا گہ ہے۔ وہ اس چادر کے ساتھ جو بھی سلوک کرے گا اس کا نقصان یا فائدہ اسے ہی پہنچے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زمین سے دشمنی خدا کو للکارنے کے مترادف ہے۔ زمین کا دشمن قہر سے نہیں بچ سکتا۔ آپ لوگوں کا مقدر خوش آئند نہیں ہے۔

اس وقت کیا کروگے جب تم تمام جانور اور بھینسیں ذبح کر دو گے؟ جب تمام جنگلی گھوڑے سُدھا لو گے؟ جب جنگلات کاٹ دو گے اور پہاڑ بجلی اور ٹیلی فون کی بدصورت تاروں کے پیچھے چھپ جائیں گے؟

 اُس وقت گنگنا تا ہوا مینڈک کہاں جا ئے گا؟ مر جائے گا؟ عقاب کہاں جائیں گے؟ کیا وہ اپنا گھر پہچان پائیں گے؟ اس وقت کیا محسوس کروگے جب تیز رفتار خچر کو الوداع کہو گے؟

کیا یہ زندگی کے خاتمے اور بقا کی پیدائش کی گھڑی نہیں ہوگی؟ کیا زندگی بقا کی ضمانت کے بعد شروع نہیں ہوتی؟\"beautiful\"

جب آخری ریڈ انڈین مرغزاروں پر لہرانے والے آخری بادل کی یاد لے کر جائے گا تو کیا یہ مرغزار باقی رہیں گے؟ کیا میرے لوگوں کی روح نہیں مر جائے گی؟ ہم اس زمین سے اتنی محبت کر تے ہیں جتنی محبت ایک نو مولود بچہ اپنی ماں کی دھڑکن سے کرتا ہے ! اگر ہم اپنی زمین بیچ دیں تو کیا آپ اسے اتنا پیار دے سکیں گے؟ اس کا اتنا ہی خیال رکھیں جتنا کہ ہم رکھتے آئے ہیں؟ اس زمین کی وہ تصویرتازہ رکھیں جو اسے لیتے وقت آپ کے سامنے ہو گی؟ زمین کو اس کے آنے والے ہر بچے کے لئے محفوظ بنائیں گے؟

ہماری طرح آپ کا رشتہ بھی زمین سے ہے۔ یہ زمین ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔ اسے آپ کے لئے بھی قیمتی ہو نا چاہیے ! ہم ایک چیز جا نتے ہیں کہ خُدا ایک ہے تو پھر سب ایک ہے۔ اس لئے کسی بھی رنگ کا آدمی دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا۔ ہم سب بھی ایک ہیں۔ ہم سب زمین کے بچے ہیں۔۔ہم سب بھائی ہیں \’\’۔

 کیمپبل کہتا ہے کہ فطرت پرستی ہمارے آباؤ اجداد کا فطری مذہب رہا ہے۔ فطرت پسند اس خطرے کو بھانپ گئے تھے کہ انسان فطرت سے دشمنی مول لے کر اپنی قبر خود کھود لے گا۔ وہ یہ بھی جان گئے تھے کہ ایک دن انسان فطرت سے اپنا رشتہ بھول کر محض بقا کو زندگی سمجھے گا۔ وہ فطرت سے انسانی آہنگی ثابت کر نے، پیچیدہ مگر آپس میں مربوط دنیا کے سربستہ راز بیان کرنے کے لئے استعاراتی دیو مالا کا سہارا لیتے تھے اور ان کی دیومالا میں کوئی تاریخی کردار نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ تاریخ کے برعکس دیومالا ان واقعات کا بیان ہے جو \"df24dd93\"بار بار واقع ہوتے ہیں۔ اس لئے ان اساطیر کی زُبان علامتی تھی اور اس کے علامتی بہاؤ کو روکنا اسے پتھرا دینے کے مترادف تھا۔ وہ انسان اور خدائی طاقتوں کے درمیان کسی خلیج کے قائل نہیں تھے۔ان کے نزدیک آسمان کو خوش کرنے کے زمین کو دُکھ دینا ناقابلِ معافی گناہ تھا۔ان کا تصورِ حیات ہمارے تصورات سے زیادہ جامع اور حیات بخش تھا۔

آج ہم ماحولیاتی مسائل کی زد میں ہیں۔ ہم اس قدر ترقی کرچکے ہیں کہ تتلی اور جگنو ہمارے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے۔ کوئل کا گیت سنائی نہیں پڑتا اور پودوں پر اگے بے باس پھول کاغذی پھول لگتے ہیں۔ موسم بے رحم ہیں اور زمین زلزلوں کی زد میں ہے۔ ویل ڈیورانٹ نے تہذیب کی داستان میں ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ موسیقی، رقص، گیت، شاعری اور جو کچھ خوبصورت ہے سب دینے والے مظاہر پرست تھے لیکن انہیں کسی نے خُدا اور کسی نے ترقی کے دشمن قرار دے کر ختم کردیا۔ آج کیمپبل کی ہمنوائی میں عصری علوم اور ماحولیاتی تحریک کار کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم ان کے نظریہ حیات سے منہ نہ موڑتے تو زمین پر انسان کو اپنی بقا کے لالے نہ پڑے ہوتے۔

Facebook Comments HS