گلگت بلتستان کے سیاسی یتیموں کی خوش فہمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان کچھ برس قبل تک فرقہ وارانہ آتش فشاں پر کھڑا تھا اس آتش فشاں کو مسلم لیگ ن کی حکومت جس میں گلگت بلتستان کی تمام مسالک اور تمام علاقوں کی نمائندگی تھی نے بہت ہی خوبصورتی اور محنت سے امن کے گلزار میں بدل دیا، اس امن کے پس پردہ یہ راز بھی ہے کہ عوام نے اپنی مرضی سے ووٹ کی طاقت سے اپنے نما ئندے چنے، جمہوری معاشروں کی خاص بات یہ ہے عوام اپنے نمائندے خود چنتے بھی ہیں اور ناقص کار کردگی پر گھر کا راستہ بھی دکھاتے ہیں لیکن جب جمہوریت کے نام پر عوام کو بائی پاس کر کے نمائندوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے لا کر مسلط کیا جائے تو وہاں ایک اضطراب اور ایک انتشار جنم لیتا ہے اور اسی انتشار سے ملک دشمن طاقتیں خوب فائدہ اٹھاتی ہیں۔

گلگت بلتستان ابھی تک پاکستان کا آئینی حصہ نہ بن سکا لیکن انتظامی حصہ ہے اور یہاں کے عوام ستر برس اس خواب کی تعبیر کے حصول میں گزار چکے ہیں کہ ہم آئین پاکستان کا حصہ بنیں لیکن ریاست کی کچھ بین الاقوامی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مجبوریاں ہیں کہ اس علاقے کو آئین پاکستان کا حصہ نہیں بنایا جا سکا، چونکہ گلگت بلتستان آئین پاکستان کا حصہ نہیں تو اس لئے نہ تو پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی ہے اور سینٹ میں۔

ایسے میں انتخابات سے گلگت بلتستان میں منتخب ہونے والی حکومت کو پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ہو میو پیتھک حکومت کہنا بے جا نہ ہوگا کیونکہ گلگت بلتستان کی اسمبلی کے ممبران پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے لئے نہ تو حکومت بنانے میں مددگار بن سکتے ہیں نہ حکومت گرانے میں آلہ کار بن سکتے ہیں، اس لئے اس اسمبلی کو ہو میو پیتھک حکومت کہیں تو بے جا نہ ہوگا، لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ وفاق میں کوئی بھی حکومت ہو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ عوامی رائے کو روند کر ہر وہ حربہ استعمال کیا جائے کہ جس سے گلگت بلتستان میں ان کی حکومت بن سکے حالانکہ گلگت بلتستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت ملے اس کا فائدہ اس جماعت میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ہے اور نہ سینٹ میں ہے، اس کے باوجود وفاق کی سیاسی انا اور لڑائی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لڑی جاتی ہے، اس لڑائی سے ان سیاسی جماعتوں کو توکوئی فائدہ سوائے سیاسی برتری کے حاصل نہیں ہوتا ہے لیکن نقصان گلگت بلتستان کے عوام اٹھاتے ہیں۔

مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد ان کرداروں نے بھی اپنے آپ کو مستقبل کے ورزا مان لیا ہے جو آزادانہ انتخابات ہوں تو یونئن کونسل کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے ان کرداروں سے پوچھو کہ آپ سیاسی حوالے سے اتنے با اثر نہیں تو صوبائی اسمبلی کی سیٹ کیسے جیتو گے آگے سے جواب ہوتا ہے کہ جیسے 2018 کے انتخابات میں وفاق میں تحریک انصاف کو اکثریت دلائی گئی ایسے ہی گلگت بلتستان میں ہمیں منتخب کیا جائے گا بس تحریک انصاف کا ٹکٹ ملنے کی دیر ہے، ٹکٹ ملے تو ہمیں کسی کمپین اور محنت کیے بغیر صوبائی اسمبلی میں اکثریت دلائی جائے گی، ان سے پوچھیں کہ اگر گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل ہی مرکز سے تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو تو پھر کیا کرو گے تو کہتے ہیں کہ پھر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے ایسی صورت میں وہی جیتے گا جسے عوام منتخب کریں گے۔ یہ کردار بین السطور یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم عوام کے ووٹوں سے نہیں کسی اور حربے سے منتخب ہوں گے۔

قارئین ان کرداروں کی ذہنیت اور سوچ کا اندازہ تو کریں کہ جمہوریت کے نام پر کیا کھیل کھیلنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ان سے بھی زیادہ حیرت ان کرداروں پر ہوتی ہے جنہوں نے ان سیاسی یتیموں کو اس جمہوریت کش مہم کا مسافر بنا دیا ہے۔ جس سیاسی کردار کو یہ بتا دیا جائے کہ آپ بس فلاں جماعت کا ٹکٹ حاصل کرو جیت دلانا ہمارا کام ہے تو ذرا سوچو وہ کرداد بد قسمتی سے جیت جائے تو عوام کا کیا فلاح کرے گا جسے تسلی ہے کہ وہ عوام کے ووٹ سے نہیں خودکار نظام سے جیت کر آیا ہے، یہ رسم اور یہ ریت معاشروں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتی ہے،

گلگت بلتستان کے سیاسی، مسلکی، جغرافیائی اور ہر حوالے ماحول اور حالات پنجاب، سندھ، بلوجستان اور کے پی کے سے مختلف ہیں ایسے میں ان علاقوں کی سیاسی لڑائی ایک ایسے خطے میں لے کر آنا جہاں کی اسمبلی ہومیو پیتھک ہے کسی بھی حوالے سے درست عمل نہیں، عوام کی رائے کے برعکس کٹھ پتلی قسم کے نمائندوں کو سامنے لانے سے اس علاقے میں جہاں دشمن پہلے ہی سازشوں کے جال بن چکا ہے مزید بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کے مترادف ہوگا اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ گلگت بلتستان سے اس سوچ کا خاتمہ کیا جائے کہ وفاق میں جس پارٹی کی حکومت ہے اسی پارٹی کو جیت دلائی جائے، حقیقی معنوں میں آزادانہ انتخابات سے گلگت بلتستان میں نہ صرف مستقل امن قائم ہوگا بلکہ معاشی اور سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی سازشوں کا بھی مکمل قلعہ قمع ہوگا۔

گلگت بلتستان میں انتخابات میں ایک برس رہ گیا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی جماعت ہویا اپوزیشن جماعتیں سب عہد کریں کہ گلگت بلتستان میں کسی قسم کی سیاسی شرارت کرنے کی بجائے صرف عوامی رائے کے آزادانہ استعمال کے لئے ماحول فراہم کیا جائے گا اگر اس کے برعکس گلگت بلتستان کی ہومیو پیتھک اسمبلی کو ایلو پیتھک بنانے کی کوشش کی گئی تو زیادہ گمان ہے کہ اس کا سائڈ ایفکٹ ہوگا، بہت عرصے کے بعد گلگت بلتستان میں امن و امان کا قیام ممکن اور سیاسی استحکام آیا ہے اسے برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ماضی کی طرح گلگت بلتستان میں وفاق میں حکومتی جماعت کی حکومت زبردستی لانے کی کوشش ترک کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •