کسی پرشکوہ عمارت، عالی شان دفتر یا کسی ایسی جگہ پر جہاں صبح سے شام تک غریب کا استحصال اور حرام کا کاروبار ہوتا ہے وہاں لکھا ہوا دیکھتا ہوں کہ، ہذا من فضل ربی، تو مجھے وہ منظر یاد آتاہے جب میں کسی عالی شان دفتر میں صاحب دفتر کی دعوت پر گیا تھا، اس ملاقات کے بعد کئی دن تک اکیلے میں روتا رہا، چاروں طرف مہنگے ترین قرآنی آیات کے فریم، ایک طرف الماری اسلامی کتابوں سے سجی، الماری کے اوپر جائے نماز، وسیع میز پر تسبیح اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ صاحب دفتر مکمل اسلامی خیالات و نظریات کے مالک ہیں، یہ پانچ منزلہ عمارت ان کی ذاتی ملکیت تھی۔
، علیک سلیک کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو صاحب دفتر نے اپنی معاشی ترقی اورزندگی کے ابتدائی غربت کے دنوں کے احوال سنانے شروع کیے، اس بات پر میں نے خوشی ہوئی کہ ترقی کی اس منزل پر پہنچنے کے بعد بھی غربت کے دنوں کو یادہیں تو ضرور ان کے ادارے میں کام کرنے والے مزدور بھی معاشی آسودگی میں ہوں گے کیونکہ جس نے غربت اوربھوک افلاس سے ترقی کی منزلیں طے کیں ہوں وہ بخوبی جانتا ہے کہ غربت کی سختیاں اور دکھ کس طرح انسان کو انگاروں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
Read more