کئی عرب ملکوں کے تخت گرائے جائیں گے اور تاج بھی اچھالے جائیں گے

ایران اسرائیل جنگ بندی کے لئے کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق تین عرب ممالک نے جنگ بندی کے لئے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا ہے جبکہ اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول کے لئے فی الحال جنگ بندی کے بجائے امریکہ اور دیگر ممالک کو جنگ میں شامل کرنا چاہتا ہے تا کہ اس کی ممکنہ شکست جیت میں بدل جائے۔ صدر ٹرمپ کی تہران خالی کرنے کی دھمکی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے جس

Read more

گلگت بلتستان کا سیاسی و آئینی بحران اور اس کا حل

گلگت بلتستان اگر پچھتر برس کے بعد بھی آئینی و سیاسی حقوق سے محروم ہے تو اس میں جہاں وفاق کی کمزوریاں ہیں وہاں گلگت بلتستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کی ناقابل معافی غلطیاں ہیں، ایک خالص سیاسی قانونی و آئینی مسلے کو جہاں مذہبی رنگ دے کر ایک ایسا جال بنا گیا کہ پچھتر برس گزرنے کے بعد بھی ہے جال کھل نہ سکا وہاں چند سیاسی بو نے صرف اپنے مفادات کے لئے قوم کی سمتیں اپنی

Read more

پاکستان میں نے توڑا

سقوط ڈھاکہ میری پیدائش سے پہلے کا سانحہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان توڑنے میں میرا ہاتھ ہے آج میں اعتراف کر رہا ہوں کہ پاکستان توڑنے میں نہ یحیی خان کی عیاشی کار فرما ہے نہ ذوالفقار احمد بھٹو کی ہٹ دھری کا عنصر نہ مجیب الرحمن کے چھ نکات کا دخل نہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا بنگالیوں کے ساتھ امتیازی سلوک وجہ نہ اندرا گاندھی کی سازشوں کا نتیجہ ہے اس پورے عمل میں میں اکیلا تھا

Read more

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

یکم فرور ی دو ہزار بیس کا وہ منظر آ نکھوں میں بس سا گیا ہے کہ جناح ہسپتال کے وارڈ 6 اور بیڈ نمبر 25 پر میرے بڑے بھائی سالار صحافت حبیب الرحمن لیٹے ہوئے ہیں، گھڑی کی سوئیاں دن کا ڈیڑھ بجا رہی تھیں، میرے ہاتھ کی انگلیاں بھائی کے ہاتھ کے گرد گھوم رہی تھیں، میں محسوس کر رہا تھا کہ آج کے بعد شاید میرے ہاتھوں کو بھائی کی زندگی کی گرم سانسوں کی حرارت محسوس

Read more

دو ٹکے کے صحافی

بیمار معاشروں میں اہل علم کی حیثیت دو ٹکے کی ہی ہوتی ہے، آپ نے اکثر یہ لفظ سنا ہوگا دو ٹکے کا صحافی، دو ٹکے کا وکیل دو ٹکے کا اینکر، اور دو ٹکے کا ٹیچر، کسی پندرہ ہزار کمانے والے مزدور سے ہزاروں کی رشوت کھانے والے کرپٹ افسر سے آپ نے بھی سنا ہوگا۔ میں تو اکثر سنتا ہوں کہ بڑا آیا صحافی، اس حیثیت کیا ہے، دو ٹکے کا صحافی، اس پولیس والے کرپٹ افسر سے

Read more

گلگت بلتستان کے سیاسی یتیموں کی خوش فہمیاں

گلگت بلتستان کچھ برس قبل تک فرقہ وارانہ آتش فشاں پر کھڑا تھا اس آتش فشاں کو مسلم لیگ ن کی حکومت جس میں گلگت بلتستان کی تمام مسالک اور تمام علاقوں کی نمائندگی تھی نے بہت ہی خوبصورتی اور محنت سے امن کے گلزار میں بدل دیا، اس امن کے پس پردہ یہ راز بھی ہے کہ عوام نے اپنی مرضی سے ووٹ کی طاقت سے اپنے نما ئندے چنے، جمہوری معاشروں کی خاص بات یہ ہے عوام اپنے

Read more

اک ذرا حسن کی وادی بونر تک

شاہراہ قراقرم پر دریائے سندھ کے دائیں طرف چٹانوں پر کندہ قدیم تہذیبوں کے خزانے سے گزر کر گلگت کی طرف سفر کریں گے تو ایک چھوٹا سا گاؤں گنی آئے گا بہت سی مسافر گاڑیاں اور ٹرک کھڑے نظر آئیں گے۔ گنی ہوٹل میں جس نے کھانا نہیں کھایا اس کے لئے اس سفر کا اصل سواد حاصل ہونا ممکن نہیں۔ گنی سے گزر کر آگے جائیں گے تو ایک میدانی گاؤں بونر داس آئے گا۔ یہاں سے آپ

Read more

عبوری صوبے کا معجزہ اور چند اہم سوالات

مان لیا کہ کوئی چمتکار ہو جائے۔ کوئی معجزہ ہو جائے۔ تحریک انصاف کے تمام زخم بھول کر سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو پانچواں عبوری صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیتی ہیں۔ معجزہ اس لئے کہ بظاہر اس طرح کا کوئی ماحول نظر آرہا ہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رویے کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکیں کہ قومی اسمبلی یا سینٹ میں حکومت کوئی بھی بل پاس کرانے میں کامیاب ہو۔ اور نہ ہی وفاقی حکومت کی ایسی کوئی نیت ہے کہ گلگت بلتستان واقعی عبوری صوبہ بنے۔ اگر اس کی نیت درست ہوتی تو تمام سیاسی جماعتوں کو راضی کرنے کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیتی۔ خیر تحریک انصاف کو کیا غرض کہ گلگت بلتستان عبوری صوبہ بنتا ہے کہ نہیں اس نے تو گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے ایک سیاسی ڈرامہ کھیل کر عوام کو ٹرک کی بتی کی پیچھے لگانا ہے“

Read more

گلگت بلتستان عبوری صوبہ یا سیاسی چالوں کا عجوبہ

اعمال کا درومدار نیتوں پر ہے۔ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے میں اللہ کرے تحریک انصاف کو کامیابی ملے لیکن نیتوں میں فتور ہے، نیتوں کے فتور کے ساتھ کامیابی کی منزل مل نہیں سکتی، معتبر ذرائع اور نظر آتے حقائق سے واضح ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک سیاسی چال چلنے لگی ہے، عبوری صوبے کے نام پر، صوبہ بنے گا نہیں، صرف سیاسی ڈرامہ چلے گا۔

سیاست بھی عجب کھیل ہے جہاں نہ انسانی جذبات کی قدر ہے تو نہ انسانی ضروریات اور زمینی حقائق کا ادراک، پوری دنیا میں حکومتیں عوام کے لئے ڈیلیور کرتیں ہیں اورسیاست صرف سیا سی جماعتیں کرتیں ہیں حکومت سیاست نہیں کرتی ہے۔ صرف خدمت، ہمارے ہاں تو حکومت سے لے کر سیاست تک کا باواآدم ہی نرالا ہے، کسی کی موت پر بھی سیاست، قدرتی آفت پر بھی سیاست اور قوموں کے مستقبل پر بھی سیاست، کچھ ایسا ہی گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ماضی میں ہوا اور اب حال میں کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

Read more

ہمت ہے تو پاس کر، نہیں تو برداشت کر

شہر کی کشادہ اور بڑی سٹرک پر اپنی کار کے شیشے بند کر کے اونچی آواز میں شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی والے گانوں میں کھوئے جا رہے ہوں اچانک آپ کی نظر آگے جانے والے رکشے پر پڑتی ہے جس پر لکھا ہے ”جلو مت، کالے ہو جاؤ گے۔“ اس جملے کی جلن کے احساس سے آپ نکل نہیں پاتے دوسرا جملہ آپ کا امتحان لے رہا ہوتا ہے، ”ہمت ہے تو پاس کر، نہیں تو برداشت

Read more

بڑی عمارتوں کے چھوٹے مکین

کسی پرشکوہ عمارت، عالی شان دفتر یا کسی ایسی جگہ پر جہاں صبح سے شام تک غریب کا استحصال اور حرام کا کاروبار ہوتا ہے وہاں لکھا ہوا دیکھتا ہوں کہ، ہذا من فضل ربی، تو مجھے وہ منظر یاد آتاہے جب میں کسی عالی شان دفتر میں صاحب دفتر کی دعوت پر گیا تھا، اس ملاقات کے بعد کئی دن تک اکیلے میں روتا رہا، چاروں طرف مہنگے ترین قرآنی آیات کے فریم، ایک طرف الماری اسلامی کتابوں سے سجی، الماری کے اوپر جائے نماز، وسیع میز پر تسبیح اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ صاحب دفتر مکمل اسلامی خیالات و نظریات کے مالک ہیں، یہ پانچ منزلہ عمارت ان کی ذاتی ملکیت تھی۔

، علیک سلیک کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو صاحب دفتر نے اپنی معاشی ترقی اورزندگی کے ابتدائی غربت کے دنوں کے احوال سنانے شروع کیے، اس بات پر میں نے خوشی ہوئی کہ ترقی کی اس منزل پر پہنچنے کے بعد بھی غربت کے دنوں کو یادہیں تو ضرور ان کے ادارے میں کام کرنے والے مزدور بھی معاشی آسودگی میں ہوں گے کیونکہ جس نے غربت اوربھوک افلاس سے ترقی کی منزلیں طے کیں ہوں وہ بخوبی جانتا ہے کہ غربت کی سختیاں اور دکھ کس طرح انسان کو انگاروں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

Read more

گلگت بلتستان ہی پاکستان ہے

قوموں کی اجتماعی زندگی میں تاریخی غلطیوں کا بوجھ بڑھ جائے تو اک نہ اک دن سزا کا اعلان ہو ہی جاتا ہے، سزا بگڑنے کے لئے نہیں، سدھرنے کے لئے ہوتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے میں اک عجب افراتفری مچی ہے، نام نہاد قوم پرست اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں تو ملک سے باہر مقیم مہرے اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں۔ وفاق پرست جماعتیں اس حوالے سے ایک پیج پر آنے کی کوشش

Read more

بھوکوں کا فرقہ

مجمع سے شور بلند ہو رہا تھا، مارو مارو کی آوازیں آرہی تھیں۔ یہ ایک مسلکی عبادت خانے کے داخلی دروازے کا احاطہ تھا، لگ یوں رہا تھا کہ آج کوئی خاص تقریب ہے۔ کسی سے پوچھا تو اس نے بھی تصدیق کی کہ آج خاص تقریب ہے اس لئے خصوصی کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ داخلی دروازے کے باہر احاطے کے ایک کونے میں دیکھا تو واقعی بڑی بڑی دیگیں چڑھی تھیں۔

دیگوں کی بہتات سے اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں تھا کہ کتنی اقسام کے کھانے بن رہے ہیں، لوگوں نے اس تقریب کے لئے لباس بھی خصوصی پہنے تھے ”تجسس ہوا کہ آخر ماجرا کیا ہے میں بھی دیکھوں، لوگوں کے رش سے جگہ بناتا ہوا مجمع میں اندر داخل ہوا تو ایک شخص کو پورے اہتمام کے ساتھ بری طرح پیٹا جا رہا تھا، اس کے پھٹے کپڑے، گھسے جوتے اور حلیہ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ مار کھانے والے شخص کا تعلق کسی خاص فرقے اور مسلک سے نہیں البتہ بھوکوں کے فرقے سے ہو سکتا ہے۔

Read more

صوبے تاریخ بناتی ہے

طویل عرصے کے بعد میرے لئے انتہائی قابل احترام شخصیت معروف صحافی و دانشور باد شمال کے چیف ایڈیٹر عابد عبد اللہ صاحب اور سوشل میڈیا میں مجھ پر بلاناغہ تنقید کے نشتر برسانے والے ایڈیٹر باد شمال محترم محبوب خیام، عرف خلیفہ کی تحریک اور محبت کے اثر سے اجتماعی مسائل پر مستقل کالم لکھنا شروع کیا تو میری توقعات سے بڑہ کر قارئین کی طرف سے حوصلہ افزائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ کسی لکھاری کے لئے اس کے

Read more

انکل بزدار کے پھول

عمیر کے چہرے پرماں اور باپ کے خون کی چھینٹں، دو معصوم بچیاں جن کے ایک جیسے رنگ کے سوٹ خون سے لت پت، کونپلوں کی طرح نازک جسموں میں تھر تھلی، گلاب ہونٹوں میں کپکپاہٹ، خوف اتنا کہ بہن بھائی ایک دوسرے سے پوچھ بھی نہیں سکتے کہ امی ابو اور بڑی بہن کو کیوں مارا گیا، ہمیں پیٹرول پیمپ پر چھوڑ کر پولیس والے فرار کیوں ہوئے؟ امی اور بہن کی کانوں سے بالیاں کیوں کھینچی گئیں، ہمارے

Read more

ریاست مدینہ کی توہین نہ کریں

ساہیوال کی قیامت کے بعد مجھے رہ رہ کر برسوں قبل پڑھا ہوا ایک کالم یاد آ رہا ہے جس میں لکھا تھا کہ حکیم سعید جب ہجرت کر کے پاکستان آرہے تھے تو ان کے بڑے بھائی نے ان سے کہا تھا کہ سعید نہ جاؤ، یہیں رہ جاو، جس پر سعید کا جواب تھا بھائی جان نہیں میں تو جاؤں گا کیونکہ میں جہاں جا رہا ہوں وہ مدینے کی طرح پر امن جگہ ہے جہاں کھل کر

Read more