گلگت بلتستان کے سیاسی یتیموں کی خوش فہمیاں

گلگت بلتستان کچھ برس قبل تک فرقہ وارانہ آتش فشاں پر کھڑا تھا اس آتش فشاں کو مسلم لیگ ن کی حکومت جس میں گلگت بلتستان کی تمام مسالک اور تمام علاقوں کی نمائندگی تھی نے بہت ہی خوبصورتی اور محنت سے امن کے گلزار میں بدل دیا، اس امن کے پس پردہ یہ راز…

Read more

اک ذرا حسن کی وادی بونر تک

شاہراہ قراقرم پر دریائے سندھ کے دائیں طرف چٹانوں پر کندہ قدیم تہذیبوں کے خزانے سے گزر کر گلگت کی طرف سفر کریں گے تو ایک چھوٹا سا گاؤں گنی آئے گا بہت سی مسافر گاڑیاں اور ٹرک کھڑے نظر آئیں گے۔ گنی ہوٹل میں جس نے کھانا نہیں کھایا اس کے لئے اس سفر…

Read more

عبوری صوبے کا معجزہ اور چند اہم سوالات

مان لیا کہ کوئی چمتکار ہو جائے۔ کوئی معجزہ ہو جائے۔ تحریک انصاف کے تمام زخم بھول کر سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو پانچواں عبوری صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیتی ہیں۔ معجزہ اس لئے کہ بظاہر اس طرح کا کوئی ماحول نظر آرہا ہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رویے کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکیں کہ قومی اسمبلی یا سینٹ میں حکومت کوئی بھی بل پاس کرانے میں کامیاب ہو۔ اور نہ ہی وفاقی حکومت کی ایسی کوئی نیت ہے کہ گلگت بلتستان واقعی عبوری صوبہ بنے۔ اگر اس کی نیت درست ہوتی تو تمام سیاسی جماعتوں کو راضی کرنے کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیتی۔ خیر تحریک انصاف کو کیا غرض کہ گلگت بلتستان عبوری صوبہ بنتا ہے کہ نہیں اس نے تو گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے ایک سیاسی ڈرامہ کھیل کر عوام کو ٹرک کی بتی کی پیچھے لگانا ہے“

Read more

گلگت بلتستان عبوری صوبہ یا سیاسی چالوں کا عجوبہ

اعمال کا درومدار نیتوں پر ہے۔ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے میں اللہ کرے تحریک انصاف کو کامیابی ملے لیکن نیتوں میں فتور ہے، نیتوں کے فتور کے ساتھ کامیابی کی منزل مل نہیں سکتی، معتبر ذرائع اور نظر آتے حقائق سے واضح ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک سیاسی چال چلنے لگی ہے، عبوری صوبے کے نام پر، صوبہ بنے گا نہیں، صرف سیاسی ڈرامہ چلے گا۔

سیاست بھی عجب کھیل ہے جہاں نہ انسانی جذبات کی قدر ہے تو نہ انسانی ضروریات اور زمینی حقائق کا ادراک، پوری دنیا میں حکومتیں عوام کے لئے ڈیلیور کرتیں ہیں اورسیاست صرف سیا سی جماعتیں کرتیں ہیں حکومت سیاست نہیں کرتی ہے۔ صرف خدمت، ہمارے ہاں تو حکومت سے لے کر سیاست تک کا باواآدم ہی نرالا ہے، کسی کی موت پر بھی سیاست، قدرتی آفت پر بھی سیاست اور قوموں کے مستقبل پر بھی سیاست، کچھ ایسا ہی گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ماضی میں ہوا اور اب حال میں کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

Read more

ہمت ہے تو پاس کر، نہیں تو برداشت کر

شہر کی کشادہ اور بڑی سٹرک پر اپنی کار کے شیشے بند کر کے اونچی آواز میں شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی والے گانوں میں کھوئے جا رہے ہوں اچانک آپ کی نظر آگے جانے والے رکشے پر پڑتی ہے جس پر لکھا ہے ”جلو مت، کالے ہو جاؤ گے۔“ اس جملے کی…

Read more

بڑی عمارتوں کے چھوٹے مکین

کسی پرشکوہ عمارت، عالی شان دفتر یا کسی ایسی جگہ پر جہاں صبح سے شام تک غریب کا استحصال اور حرام کا کاروبار ہوتا ہے وہاں لکھا ہوا دیکھتا ہوں کہ، ہذا من فضل ربی، تو مجھے وہ منظر یاد آتاہے جب میں کسی عالی شان دفتر میں صاحب دفتر کی دعوت پر گیا تھا، اس ملاقات کے بعد کئی دن تک اکیلے میں روتا رہا، چاروں طرف مہنگے ترین قرآنی آیات کے فریم، ایک طرف الماری اسلامی کتابوں سے سجی، الماری کے اوپر جائے نماز، وسیع میز پر تسبیح اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ صاحب دفتر مکمل اسلامی خیالات و نظریات کے مالک ہیں، یہ پانچ منزلہ عمارت ان کی ذاتی ملکیت تھی۔

، علیک سلیک کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو صاحب دفتر نے اپنی معاشی ترقی اورزندگی کے ابتدائی غربت کے دنوں کے احوال سنانے شروع کیے، اس بات پر میں نے خوشی ہوئی کہ ترقی کی اس منزل پر پہنچنے کے بعد بھی غربت کے دنوں کو یادہیں تو ضرور ان کے ادارے میں کام کرنے والے مزدور بھی معاشی آسودگی میں ہوں گے کیونکہ جس نے غربت اوربھوک افلاس سے ترقی کی منزلیں طے کیں ہوں وہ بخوبی جانتا ہے کہ غربت کی سختیاں اور دکھ کس طرح انسان کو انگاروں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

Read more

گلگت بلتستان ہی پاکستان ہے

قوموں کی اجتماعی زندگی میں تاریخی غلطیوں کا بوجھ بڑھ جائے تو اک نہ اک دن سزا کا اعلان ہو ہی جاتا ہے، سزا بگڑنے کے لئے نہیں، سدھرنے کے لئے ہوتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے میں اک عجب افراتفری مچی ہے، نام نہاد قوم پرست اپنی ڈفلی بجا…

Read more

بھوکوں کا فرقہ

مجمع سے شور بلند ہو رہا تھا، مارو مارو کی آوازیں آرہی تھیں۔ یہ ایک مسلکی عبادت خانے کے داخلی دروازے کا احاطہ تھا، لگ یوں رہا تھا کہ آج کوئی خاص تقریب ہے۔ کسی سے پوچھا تو اس نے بھی تصدیق کی کہ آج خاص تقریب ہے اس لئے خصوصی کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ داخلی دروازے کے باہر احاطے کے ایک کونے میں دیکھا تو واقعی بڑی بڑی دیگیں چڑھی تھیں۔

دیگوں کی بہتات سے اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں تھا کہ کتنی اقسام کے کھانے بن رہے ہیں، لوگوں نے اس تقریب کے لئے لباس بھی خصوصی پہنے تھے ”تجسس ہوا کہ آخر ماجرا کیا ہے میں بھی دیکھوں، لوگوں کے رش سے جگہ بناتا ہوا مجمع میں اندر داخل ہوا تو ایک شخص کو پورے اہتمام کے ساتھ بری طرح پیٹا جا رہا تھا، اس کے پھٹے کپڑے، گھسے جوتے اور حلیہ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ مار کھانے والے شخص کا تعلق کسی خاص فرقے اور مسلک سے نہیں البتہ بھوکوں کے فرقے سے ہو سکتا ہے۔

Read more

صوبے تاریخ بناتی ہے

طویل عرصے کے بعد میرے لئے انتہائی قابل احترام شخصیت معروف صحافی و دانشور باد شمال کے چیف ایڈیٹر عابد عبد اللہ صاحب اور سوشل میڈیا میں مجھ پر بلاناغہ تنقید کے نشتر برسانے والے ایڈیٹر باد شمال محترم محبوب خیام، عرف خلیفہ کی تحریک اور محبت کے اثر سے اجتماعی مسائل پر مستقل کالم…

Read more

انکل بزدار کے پھول

عمیر کے چہرے پرماں اور باپ کے خون کی چھینٹں، دو معصوم بچیاں جن کے ایک جیسے رنگ کے سوٹ خون سے لت پت، کونپلوں کی طرح نازک جسموں میں تھر تھلی، گلاب ہونٹوں میں کپکپاہٹ، خوف اتنا کہ بہن بھائی ایک دوسرے سے پوچھ بھی نہیں سکتے کہ امی ابو اور بڑی بہن کو…

Read more