کپتان کے گھبرانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کپتان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران یار لوگوں نے کپتان اور ان کے دورے کے حوالے سے کچھ سچی اور زیادہ تر جھوٹی، من گھڑت اور خود ساختہ خبروں کا ایسا اتوار بازار لگایا کہ راقم بھی ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ا امریکہ چودہ سو بیانوے میں اطالوی سیاح کرسٹوفر کو لمبس نے نہیں بلکہ جولائی دو ہزار انیس میں کپتان نے دریافت کیا تھا۔ دریافت ہی نہیں کیا تھا بلکہ سکندر اعظم کی طرح بہت سی طاقتور سلطنتوں کو تاراج کرتے ہوئے فتح بھی کیا تھا۔

کپتان سکندر یونانی کی طرح یونان سے نکلا۔ منزلوں پر منزلیں مارتا، کشتوں کے پشتے لگاتا جب سعودی ولی عہد کی براہ راست سفارش پر امریکہ پہنچا تو ہر طرف تحسین و آفرین کے نعرے بلند ہونے لگے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ کپتان انتہائی دبنگ اور دلیر لیذر ہے۔ صورت حال جیسی بھی ہو حریف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھیک مانگنا اس کا شیوہ ہے۔ وہ گھبراتا کبھی نہیں۔ اس وقت بھی نہیں گھبرایا تھا جب ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے حاضر ہونے کا حکم آیا تھا۔ البتہ اس اچانک طلبی پر وہ تھوڑا پریشان ضرور ہوا تھا۔ وہ تب بھی بالکل نہیں گھبرایا جب اسے یہ باوقار پیغام ملا کہ اپنے استقبال کے لیے اپنے نو رتنوں پر مشتمل ہراول دستے کو بھیج دو کیونکہ ہم اتنے عظیم لیڈر کا استقبال کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں پاتے۔

کپتان کی مستقل مزاجی، جی داری اور خود اعتمادی اس وقت بھی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی جب صدر ٹرمپ نے اس کے منہ پر ہفتے دس دن میں افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات کی۔ دنیا نے دیکھا کہ کپتان نے ٹرمپ کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے افغانستان کی سرزمین کو تاریخ کی تین بڑی اور طاقتور تہذیبوں کا قبرستان قرار دیا تھا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کپتان نے ٹرمپ کو یہ جواب عالمِ خواب و خیال میں دیا تھا اور حقیقت میں وہ اس وقت بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا انہیں اپنے کانوں اور آنکھوں کا علاج کروانا چاہیے۔

کپتان کی حوصلہ مندی اور دلاوری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ جب ٹرمپ نے اس کے سامنے اس کے ملک اور اس کے حکمرانوں کو برا بھلا کہا اور سلیکٹرز کو ڈالرز لے کر بھی امریکہ کی حکم عدولی میں ڈنڈی مارنے کا طعنہ دیا اور انہیں برملا فریبی اور دغا باز کہا تو اس لمحے بھی کپتان نے ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جواب آں غزل کے طور پر اس کی ٹھیک ٹھاک خبر لی اور اسے سامراجی اور استعماری طاقتوں کا گماشتہ اور سرغنہ کہا۔

جن لوگوں نے کپتان کے یہ زبرست جملے نہیں سنے اور ٹرمپ کو بے چینی سے پہلو بدلتے نہیں دیکھا وہ کپتان کی شہرت عام اور بقائے دوام سے سخت خائف اور نالاں ہیں۔ ٹرمپ نے اسی میٹنگ کے دوران میں کپتان کی لازوال اور ہمہ گیر قائدانہ صلاحیتوں سے متاثر ہو کر عالمی سربراہی کا تاج اس کے سر پر سجانے کی پیشکش کر ڈالی تھی مگر کپتان تو پاکستان کی محبت میں اس طرح ڈوبا ہواہے کہ ایسے چھوٹے موٹے اعزازات اس کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتے۔

روحانیات پر یقین رکھنے والے خواتین و حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹرمپ جیسے شہ دماغ اور شاطر لیڈر پر قابو پانا دراصل بنی گالہ کی پر اسرار روحانی قوتوں کا کمال ہے۔ ابھی تو کپتان نے ہر آئی بلا کو ٹالنے والی تسبیح کی کرشمہ سازیاں اور معجز نمائیاں تو دکھائی ہی نہیں ورنہ اس کی ایک ہی پھونک سے ٹرمپ اس طرح کپتان کے قدموں میں گر پڑتا جس طرح عامل بابوں کے عملوں سے بے وفا اور سنگدل محبوب عاشق کے قدموں میں ڈھیر ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے آخر کپتان کی جادوئی شخصیت میں کچھ تو کمال دیکھا تھا کہ جس کی وجہ سے اس نے اپنی جواں سال اہلیہ کو کپتان کی کشش سے دور رکھا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ ملاقات کے دوران ٹرمپ کپتان کے سامنے دبا دبا سا منمناتا ہوا دکھائی دیا۔ جہاں تک کپتان کا تعلق ہے تو اس کے گھبرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اگر ایک سال میں پاکستانی قوم کا بیڑہ غرق کر کے نہیں گھبرایا تو ٹرمپ اور امریکہ کس کھیت کی مولی ہیں۔ بس کتابِ اقتدار کا وہ صفحہ سلامت رہے جہاں تخلیق کار اور فنکار اس کی انگلی پکڑ کے حرفاً حرفاً اسے رٹا لگوا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •