سکھر سے لاپتا معصوم بچے اور نامعلوم لاشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معصوم بچے فرشتوں کے مانند ہوتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹ پھولوں کی خوشبو کی طرح مہکتی ہے، بچے جب پاپا، مما کرتے ہیں تو اس وقت کے مناظر کچھ اور ہوتے ہیں، گھر میں بچے نہ ہوں تو گھر سنسان ویران ہو جاتا ہے، آدمی جب گھر میں تھکا ہوا آتے ہے تو سب سے پہلے بچے لپٹ جاتے ہیں، بچوں کی ہنسی مسکراہٹ سے سارے دن کی تھکاوٹ باقی نہیں رہتی، یوں بچے والدین کے آنکھوں کے تارے بن جاتے ہیں۔ جب وہی بچے گھر سے لاپتا ہو جائیں تو انسان کی زندگی عذاب ہو جاتی ہے۔

سکھر سے لاپتا 6 بچوں کی ایسی کہانی اہل دل کو رلانے جیسی ہے۔ جہاں سے چھ بچے آٹھ روز سے لاپتا ہیں۔ سکھر سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے، جبکہ معاشی طور پر کراچی کے بعد دوسرا بڑا شہر مانا جاتا ہے۔ وادی مہران کے کنارے قائم سکھر شہر سے گزشتہ جمعہ کو کوئینس روڈ پر واقعہ الحماد پلازھ کے رہائشی تین بھائیوں سمیت چھ بچے پراسرار طور پر لاپتا ہوجاتے ہیں، رات کے 12 بج جاتے ہیں۔ مگر معصوم بچے گھروں میں واپس نہیں آتے۔

مائیں دروازوں پر انتظار کر کر تھک جاتی ہیں۔ مگر کہیں سے کوئی پتہ نہیں چلتا کہ بچے کہاں ہیں، ماں تو ماں ہوتی ہے، ان بدنصیب بچوں کی مائیں راہ تکتی رہ جاتی ہیں، کچھ ہی دیر میں جیسے جیسے والدین دکانوں اور کام کاج سے گھر پہنچ جاتے ہیں تو بچوں کے لئے پوچھتے ہیں، مگر گھر ماؤں اور چھوٹی بہنوں کے آنکھوں میں سوائے آنسوؤں کے کوئی جواب نہیں ہوتا کہ بچے کہاں گم ہوگئے ہیں۔ والدین پریشانی کے عالم میں ڈھونڈنے نکل جاتے ہیں، انیس الرحمن انصاری کے تین بچے سب سے بڑا بیٹا 16 سالہ حماد الرحمان جس نے حال ہی میں میٹرک پاس کیا تھا، دوسرا نمبر افتام الرحمان جو کہ 9 کلاس میں َزیر تعلیم تھا اور سب سے چھوٹا 11 سال کا افتاج الرحمان جو ساتویں کلاس میں ابھی داخل ہوئے تھے۔

جبکہ سید قمبر علی شاہ کے دو بیٹے، قائم علی شاہ اور عاصم علی شاہ، دوسری جانب ریاض ملک کا بیٹا انیس ملک، یہ 6 چھ ہی بچے ایک ساتھ کرکٹ کھیلنے گئے، گھر میں سامان رکھ کر بغیر بتائے کھیلنے چلے گئے تھے۔ رات ایک بج رہا تھا والدین ڈھونڈنے ڈھونڈنے تھانہ سی سیکشن چلے گئے۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ مگر پتا نہ چل سکا، ہفتہ کی شب ان معصوم بچوں کے گھر والوں پر کسی قیامت سے کم نہیں تھی، بچوں کی راہ تکتی مائیں، بھائیوں کی گمشدگی میں بحال چھوٹی بہنیں، اللہ سے امید کر رہی تھی، اور دربار خداوندی میں ہاتھ اٹھائے سسکیاں بھر رہی تھی۔

کہ اے خدا ہمارے معصوم بچے کہاں گم ہوگئے۔ کہاں چلے گئے، گھروں میں فجر ہونے تک کسی گھر والوں نے ایک سیکنڈ نیند نہیں کی تھی، جب ہفتہ کے روز کی اندھیری رات ختم ہو رہی تھی، فجر کی آذانیں کانوں میں گونج رہی تھی، اس وقت بچوں کی جدائی میں گمشدگی پر مزید شکوک و شبہات جنم لے رہے تھے۔ نماز ادا کرنے کے بعد سورج طلوع ہونے لگا تو، یہ خبر سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پہیل گئی۔ اور اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے زمین آسمان ایک کر دی۔

جس پولیس نے این سی درج کرکے والدین کو روانہ کر دیا تھا۔ تھانے دار سمیت، ڈی ایس پی سٹی، میئر سکھر سمیت دیگر اداروں کے افسران گمشدہ معصوم بچوں کے گھروں تک پہنچ گئے اور دلاسا دینے لگے کہ ابھی یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں بچے واپس مل جائیں گے۔ دوسری جانب این اے 205 گھوٹکی کے ضمنی الیکشن ہو رہے تھے، سندھ کے وزیر اعلیٰ، منتخب نمائندوں سمیت کابینا کے وزیر ممبر ایم این ایز، ایم پی ایز سب کے سب گھوٹکی الیکشن میں مصروف تھے۔

سکھر سمیت سندھ بھر کی سرکاری مشینری، افسران بھی گھوٹکی میں لگے ہوئے تھے۔ کسی طرح سیٹ نکل جائے، دوسری جانب سکھر کے ایک ہی پلازہ کے تین گھروں سے، چھ 6 معصوم بچے لاپتا تھے اور کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگی، شام کو دیر سے سی سی ٹی وی پر پتا چلا کہ بچے دریائے سندھ میں نہانے گئے تھے، اور واپس نہیں آئے ہیں۔ جب ایس ایس پی سکھر عرفان سموں والدین اور میڈیا کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں بچوں کے جوتے اور کپڑے کنارے سے ملے، والدین نے بچوں کا سامان پہچانا یوں انتظامیہ اور پولیس سے زور ہٹ گیا۔ سکھر شہر میں سوگ کا سماں تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی، معصوم پیارے، خوبصورت بچے دریائے سندھ میں ڈوب گئے تھے۔ لیکن دو روز تک ریسکیو آپریشن شروع ہو نہ سکا۔ مگر شروع کیسے ہو؟ نہ ان کے پاس غوطہ خور تھے۔ نہ کوئی سامان، تیسری روز نیوی والوں کی جانب سے آپریشن شروع ہوا لیکن بچے نہ ملے۔

دوسری جانب اطلاع ملی کہ سکھر بئراج کے مختلف گیٹس سے لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جب یہ اطلاع ملی تو سب کے دل دماغ ذہن میں یہی تھا کہ بچوں کی لاشیں ہیں شاید! لیکن جب پولیس اور ایدھی کے رضاکاروں نے لاشیں نکالی تو تمام لاشیں گلی ہوئی تھی اور شناخت کے قابل نہیں تھی، یوں 5 ہی لاشیں لاوارث قرار دے کر نؤن گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کردی گئی۔ دوسری روز سکھر بئراج سے مزید تین لاشیں برآمد ہوئی، اور اسی طرح پتا چلا کہ دو ہفتوں کے دوران 14 نامعلوم لاشیں برآمد ہوئی ہیں، مگر سب کی سب شناخت نہ ہو سکی ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ملنے والی نامعلوم لاشوں کی نہ فنگر پرنٹس لی گئی ہیں نہ ہی ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ اگر یہ سب کچھ ہوتا تو پتا چل جاتا کہ یہ نامعلوم لاشیں کہاں سے پانی میں آئی ہیں اور کس کی ہیں۔ بچوں کے گم ہونے کے چوتھے روز پتا چلا کہ لاڑکانہ کے قریب نؤں دیرو سے ایک نہر سے بچے کی گلی ہوئی لاش ملی ہے، جسم گل چکا ہے مگر کالی پینٹ کی وجہ سے ٹانگیں سلامت ہیں، اطلاع ملنے پر سکھر سے والدین گئے تو انیس الرحمن انصاری نے پینٹ کو دیکھ کر پہچانا کہ یہ میرے سب سے چھوٹے بیٹے افتاج الرحمان کی لاش ہیں، گلی ہوئی لاش آہوں سسکیوں کے ساتھ ایمبولینس میں سکھر لائی گئی۔

لاش گھر لے جانے کے قابل بھی نہیں تھی۔ اسی بنا پر قبرستان میں نماز جنازہ ادا کرنے پر سپرد خاک کردی گئی۔ جبکہ دیگر بچوں کی تلاش کا سلسلہ جاری اب تک جاری ہے، گزشتہ روز قبل بچے افتاج الرحمان کے والد انیس الرحمن انصاری نے ڈپٹی کمشنر سکھر کو کہا کہ ہمیں شک ہو رہا ہے کہ لاڑکانہ کی ملنے والی لاش ہمارے بچے کی ہے یا نہیں ہے۔ لاش کی ڈی این اے ٹیسٹ کرائی جائے۔ جس روز لاش ملی تھی ٹھیک اس کے دوسرے روز گھوٹکی میں ضمنی انتخابات ہونے والے تھے، سکھر انتظامیہ سے لے کر وزیر اعلیٰ سندھ، منتخب نمائندے اور خود پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی سکھر سے ہوتے ہوئے گھوٹکی پہنچے مگر مجال ہے جو سکھر میں رک کر والدین سے ہمدردی کرتے اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیتے۔

جب یہ واقعہ پیش آیا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے چار روز تک سکھر میں الیکشن کے سلسلے میں کیمپ قائم کیا ہوا تھا۔ کاش معصوم بچوں کے والدین کے ووٹ گھوٹکی میں رجسٹرڈ ہوتے تو سندھ حکومت ضرور نوٹس لیتی اور یوں سب ان کے ساتھ ہمدردی کرنے پہنچ جاتے۔ چھ معصوم بچوں کی پراسرار گمشدگی کو ایک ہفتہ مکمل ہو چکا ہے۔ گھروں میں سوگ کا منظر ہے۔

والدین گھر والے اور دوست رشتے داروں کے ہاں ماتم برپا ہے۔ مگر بات سمجھ نہیں ارہی ہے کہ بچوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ کیونکہ دریا کا پانی بھی تین روز تک لاشوں کو باہر نکال دیتا ہے۔ ایک ہفتے تک بچوں کا کوئی اتا پتا نہیں۔ کہا جاتا ہے جس جگہ میں آگ لگتی ہوتی ہے اسی جگہ کو پتا ہوتا ہے۔ اس وقت معصوم بچوں کے والدین زندگی اور موت کے کشمکش میں مبتلا ہیں۔ وہ ہر لمحہ جی رہے ہیں اور مر رہے ہیں۔

بچوں کے سوا ان کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ خدارا اب بھی وقت ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سید خورشید احمد شاہ ابھی بھی گھوٹکی الیکشن کی طرح حکومتی مشینری، فنڈز اور اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے والدین کے ساتھ ہمدردی کے لئے ان کے گھروں پر تشریف لائیں۔ اور بچوں کو تلاش کرنے میں ان کی مدد کریں۔ کیونکہ ان لاوارث غریب والدین کا اللہ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ اقتدار کرسیاں آنے جانے والی ہیں، ہمارے اقتدار کوئی نیب یا آمر ختم نہیں کرتا بلکہ ان غریب والدین کی آہیں، سسکیاں اور بدعائیں ان حکمرانوں کو رلا سکتی ہیں۔ امید ہے کہ تمام بچے زندہ اور صحیح سلامت والدین کو واپس مل جائیں گے۔ امین ثم آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •