سید محمد سلیم ریاض: ریڈیو پاکستان کی طلسمی آواز پیوند خاک ہو گئی
گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ سرودِ رفتہ کے گل رنگ یاد باغ میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھر ابھی تک آباد ہے جہاں سر شام ہی صحن میں چھڑکاؤکر کے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر لکڑی کے ڈبے کا ریڈیو رکھ دیا جاتا۔
اس دور میں ایف ایم ریڈیو کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ریڈیو بہاول پور کے دوش پر نشر ہونے والے اپنے پسندیدہ پروگراموں میں خطوط کے ذریعے پسندیدہ گانوں کی فرمائش کی جاتی اور جب اپنا مطلوبہ پروگرام آن ایئر ہوتا تو ہم سب بہن بھائی میزبان کے کنج لب سے اپنا نام سننے کے لئے ریڈیو سیٹ کے گرد جمع ہوتے۔ پروگرام کا میزبان ایک ہی تھا، سید محمد سلیم ریاض۔ جسے ہم ایس ایم سلیم کے نام سے جانتے تھے اور سچے دل سے مانتے تھے۔
ریڈیو کے پروگرامز میں ایس ایم سلیم کی صدا کاری ہماری تہذیبی زندگی اور بڑی حد تک عمومی شائستگی کا مظہر ہوا کرتی تھی۔ وہ لاسلکی لہروں کے دوش پر اپنی خوبصورت آواز اور خوبصورت باتوں کے باعث لاکھوں سامعین کے دل و دماغ میں ہمکتے تھے۔ ایس ایم سلیم کی چہکتی و کھنکتی آواز میں سرود ِسحر کی الوہی مہک رچی بسی تھی۔ ”پاسبان“، ”صدائے جرس“، ”سرود سحر“ اور ”آپ کی فرمائش“ جیسے سدا بہار پروگرام اب تک سماعتوں میں گونج رہے ہیں۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا کہ ریڈیو کو سینے پر دھرے اور رات گئے ان کی میزبانی میں نشر ہونے والے سدا بہار گیتوں کے پروگرام کو سماعت کرتے ہی ہم نیند کی وادیوں میں چلے جاتے۔ ریڈیو کے اس اساطیری صدا کار کی طلسمی آواز میں نرمی، اپنائیت، ٹھہراؤ، ٹھنڈک اور لوری کی سی کیفیت ہوتی تھی۔
یہ ریڈیو کا وہ سنہری دور تھاجب ریڈیو حقیقی معنوں میں تقریباً ہر خاندان کا فرد اور دوست ہوا کرتا تھا اور جب ریڈیو پر پروگرام کرنے والے فنکار اور صدا کار اپنے سامعین میں بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔ ایس ایم سلیم اپنے ریڈیو پروگرامز کے ذریعے ایک استاد اور رہنما کی طرح لوگوں کی تربیت کیا کرتے تھے۔ سوشل میڈیا کے توسط سے ایس ایم سلیم کی وفات حسرت ایات کی خبر پڑھی تو دل دکھ سے بھر گیا۔ اپنی خوبصورت اور پروقار صوت کی طرح خوبصورت اور پروقار ایس ایم سلیم صاحب۔ آخر کار پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث کراچی میں منوں مٹی تلے جا سوئے۔


