حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: ”کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ قتل و غارت، بچوں کے ساتھ ریپ اور خواتین کی عصمت دری روز کا معمول بن گیا ہے۔ مگر افسوس کہ جس طرح پاکستان میں زینب کیس ہائی لائٹ ہوا تھا اسی طرح اب ایک پنجاب میں کیس سامنے آیا ہے۔ جس پر پورے ملک اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ریاست مدینہ میں جہاں معصوم بچوں، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں، وہیں قتل و غارت گری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مگر کیا کریں، پنجاب میں اب تک 5 آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔ نہ جانیں کتنے ایس ایس پیز اور دیگر پولیس عمل داروں کو گھر بھیجا جا چکا ہے۔ سی پی او لاہور کی شکایات پر کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ آئی جی پنجاب کو گھر بھیجا گیا۔ لاہور موٹروے پر ایک ویرانی کے علاقے میں ایک خاتون جو اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر رہیں تھی کہ اچانک گاڑی رک گئی، ہوا یوں کہ کچھ غنڈہ قسم کے وحشی صفت لوگوں نے نہ صرف ان سے رقم لوٹی بلکہ خاتون کو بچوں سمیت نیچے جھاڑیوں میں لے گئے اور یوں بچوں کے سامنے اس عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
Read more