علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی اور ان پر لگائے گئے الزامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑے لوگ بڑے مقاصد کی تکمیل کی بھاگ دوڑ میں بہت سی چھوٹی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔ یہ غلطیاں ان کی ذاتی زندگی میں ایسی ناکامیاں بن کر ابھرتی ہیں کہ مخالفین کے لیے ”کردار کشی“ کی راہ ہموار کر دیتی ہیں۔ بڑے لوگوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں جھوٹ تراشنا اور ان کی ذاتی زندگی کو تماشا بنا کر لذت حاصل کرنا تو ”چھوٹے“ لوگوں کی پرانی عادت ہے۔ یوں تو قائد اعظم کی ازدواجی زندگی کو بھی نام نہاد محققین نے خوب ”اچھال“ رکھا ہے۔ مگر اس حوالے سے سب سے زیادہ حملے علامہ محمد اقبال کے کردار پر کیے گئے ہیں۔ علامہ اقبال کی کردار کشی کرنے والوں نے تو حد کر دی، یہاں تک کہ اقبال پر ایک طو 1 ئف کے قتل کا الزام لگا دیا۔

علامہ اقبال کی کل تین شادیاں ہوئی تھیں۔ پہلی شادی کریم بی کے ساتھ ہوئی جس کا تعلق گجرات سے تھا۔ 1893 میں یہ شادی رواج کے مطابق ان کے بزرگوں نے طے کی تھی۔ ان کی بعد کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس شادی پر راضی نہیں تھے، مگر چونکہ 16 سال کے لڑکے تھے اس لیے بزرگوں کے احترام کے پیش نظر کچھ بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ شادی کے پہلے دو سال سیالکوٹ میں گزار کے مزید تعلیم حاصل کرنے لاہور چلے گئے۔ اس دوران کریم بی نے زیادہ وقت میکے، گجرات میں گزارا۔

اس دوران علامہ اقبال کی پہلی بیٹی معراج بیگم 1896 میں اور پہلا بیٹا آفتاب اقبال 1898 میں پیدا ہوئے۔ 1900 سے لے کر 1905 تک پانچ سالہ ملازمت کے دوران جب اقبال نے بھاٹی دروازے والے مکان میں رہائش اختیار کی تو کریم بی نے ان کے ساتھ اس مکان میں قیام نہ کیا، نذیر نیازی کی رائے میں کریم بی سے کشیدگی کی ابتدا انہی ایام میں ہو گئی تھی: حوالہ ( ”اقبال کے حضور“ از سید نذیر نیازی)

اقبال جب تین سال یورپ میں گزار کر لوٹے تو ان کی بیٹی بارہ برس کی اور بیٹا دس برس کا ہو چکا تھا۔ نذیر نیازی لکھتے ہیں کہ یورپ سے واپسی کے بعد اگرچہ کریم بی لاہور آتیں تو اقبال ان کا بڑا خیال رکھتے، مگر کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ تاآنکہ باپ اور بھائی کی کوششوں کے باوجود علیحدگی کی نوبت آ گئی۔ بغیر طلاق کے چارہ نہ رہا لیکن والدہ آفتاب کی عزت نفس نے گوارا نہ کیا، محمد اقبال کفالت کے ذمہ دار ٹھہرے۔ چنانچہ اقبال ایک مقررہ رقم ہر مہینے بھیج دیتے تھے۔ حتٰی کہ آخری علالت کے دوران بھی یہ رقم باقاعدہ روانہ ہوتی تھی۔

اقبال کی یہ شادی کیوں ناکام ہوئی؟ جواب میں الزام لگانے کو تو کچھ بھی لگایا جا سکتا ہے مگر ٹھوس شواہد بتاتے ہیں کہ شادی کی ناکامی کی اصل وجہ زوجین کے طبائع کی عدم مناسبت تھی۔ وجہ یہ بھی تھی کہ اقبال کی یہ شادی زمانہ طالب علمی میں ہوئی، وہ ابھی اپنے قدموں پر کھڑے بھی نہ ہوئے تھے اور ان کا تعلق بھی ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ اس کے برعکس کریم بی ایک امیر گھرانے سے تھیں، انہوں نے گجرات کے محلہ شال بافاں کی ایک ایسی حویلی میں پرورش پائی تھی جو کسی محل سے کم نہ تھی۔ اقبال کی اس ناکام شادی کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوا جو والد کی شفقت سے محروم رہے۔ اقبال کی پہلی بیٹی معراج بیگم انیس سال کی عمر میں 17 اکتوبر 1915 میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

نذیر نیازی لکھتے ہیں، ”میں سمجھتا ہوں رشتہ عجلت میں طے ہوا۔ فریقین نے اس معاملے میں احتیاط سے کام نہیں لیا“۔

پہلی شادی میں ناکامی کے بعد اقبال نے دو شادیاں اور کیوں کیں؟ اس سوال کا جواب فرزندِ اقبال جاوید اقبال نے اپنی کتاب ”زندہ رُود“ میں دیا ہے کہ یوں تو بہت سی امیر خواتین اقبال سے شادی کی خواہش مند تھیں مگر اقبال ایسی خاتون کی تلاش میں تھے جو ان کی بیوی کی حیثیت سے ان کے خاندان کے افراد سے ان کے گہرے تعلق اور وابستگی کو قائم رکھ سکے۔

دوسری شادی کے سلسلے میں جو 1910 میں ہوئی، مرزا جلال الدین کا بیان ہے کہ اقبال کے دوست شیخ گلاب دین وکیل نے موچی دروازے کے ایک کشمیری خاندان کی صاحبزادی کے متعلق تحریک کی جو اس وقت وکٹوریہ گرلز سکول میں پڑھی تھی۔ جب بات پکی ہوئی تو اقبال کے بڑے بھائی سیالکوٹ سے آئے اور مرزا جلال الدین، میاں شاہنواز، مولوی احمد دین اور شیخ گلاب دین کو ساتھ لے کر اقبال کے سسرال پہنچے، وہاں ان کا نکاح سردار بیگم سے پڑھا گیا۔ اس موقع پر صرف نکاح ہوا، رخصتی عمل میں نہ آئی۔

نکاح کے بعد رخصتی اس لیے التوا میں پڑ گئی کیوں کی نکاح کے بعد اقبال کو دو گمنام خط موصول ہوئے جن میں سردار بیگم کے چال چلن پر نکتہ چینی کی گئی۔ یہ اقبال کے لیے بے حد پریشانی کا دور تھا۔ اقبال نے ارادہ کر لیا کہ سردار بیگم کو طلاق دے کر کہیں اور شادی کی کوشش کریں گے۔

اسی دوران اقبال کے ایک پرانے دوست سید بشیر حیدر جو ان دنوں ایکسائز انسپکٹر لدھیانہ تھے، لدھیانہ کے ایک کشمیری خاندان کی صاحبزادی مختار بیگم کے رشتے کا پیغام لے آئے۔ مختار بیگم کا خاندان ”نو لکھیوں“ کا خاندان کہلاتا تھا۔ رشتہ طے ہوا لیکن مرزا جلال الدین نے اپنے بیان میں اس شادی کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔ عبد المجید سالک نے بھی اپنی کتاب ”ذکر اقبال“ میں اس شادی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سن کا ذکر نہیں کیا۔

اسی اثنا میں سردار بیگم سے متعلق خطوط کی تحقیق کرائی گئی تو معلوم پڑا کہ وہ خطوط ایک وکیل نے تحریر کیے تھے جو سردار بیگم کی شادی اپنے بیٹے سے کرانا چاہتا تھا۔ سردار بیگم نے، جو اقبال سے عقد کے سبب تین سال تک طرح طرح کے مصائب برداشت کرتی رہیں، خود جرات کر کے اقبال کو خط لکھا کہ انہیں اس بہتان پر یقین نہیں کرنا چاہیے تھا اور یہ کہ میرا نکاح تو اب آپ سے ہو چکا ہے، اب دوسرے نکاح کا تصور نہیں کر سکتی۔ اسی حالت میں ساری زندگی بسر کروں گی۔ اقبال خط پڑھ کر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوئے اور مختار بیگم کو اس صورت ِ حال سے آگاہ کیا۔ مختار بیگم کی اجازت سے سردار بیگم کو بھی اسی گھرمیں لانے کا ارادہ کیا۔ اس لیے سردار بیگم سے اگست یا ستمبر 1913 میں دوبارہ نکاح پڑھوایا گیا۔

انار کلی والے مکان میں دونوں بیگمات اکٹھی ہوئیں تو ایسی محبت پیدا ہوئی جو بہنوں میں بھی نہیں ہوتی۔ مختار بیگم 1924 میں لدھیانہ میں وفات پا گئیں، اقبال نے ان کی نمازہ جنازہ بھی خود پڑھائی۔

سردار بیگم کے بطن سے جاوید اقبال اور منیرہ پیدا ہوئے۔ سردار بیگم 1935 میں فوت ہوئیں۔ اقبال کی پہلی بیوی کریم بی کا انتقال 1947 میں ہوا اور انہیں لاہور کے معراج دین قبرستان میں دفن کیا گیا۔ مخالفینِ اقبال نے یہ بھی الزام لگایا کہ اقبال نے پہلی بیوی سے نا انصافی کی اور اپنے بیٹے آفتاب کو وراثت سے محروم رکھا۔ یہ الزام سید حامد جلالی نے اپنی کتاب ”علامہ اقبال اور ان کی پہلی بیوی“ میں لگایا جو 1967 میں شائع ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر نے اپنی کتاب ”اقبال کی شخصیت پر اعتراضات کا جائزہ“ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ علامہ اقبال کی پہلی شادی کے متعلق کتاب کے حقیقی مصنف آفتاب اقبال تھے کیوں کہ آفتاب اپنی والدہ کو مظلوم اور والد کو ظالم سمجھتے تھے۔

فرزندِ اقبال نے اپنے والد کے متعلق وہی الزامات دہرائے جو بھارتی مصنف اقبال سنگھ کی کتاب ”پرجوش مسافر“ میں لگائے گئے ہیں۔

حاسدینِ اقبال نے عطیہ فیضی کے نام اقبال کے خطوط اور گلوکارہ امیر بیگم کا نام استعمال کرتے ہوئے ”کردارِ اقبال“ پر خوب بہتان بازی کی بوچھاڑ کر رکھی ہے جس کا جواب مسعود الحسن نے اپنی کتاب ”حیاتِ اقبال“ میں دے رکھا ہے۔

تمام الزامات کو اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے ایک جھٹکے میں اپنی کتاب ”زندہ رُود“ میں دُھو ڈالا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •